• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلامو فوبیا کے تدارک کا عالمی دن اس مرتبہ ایسے ماحول میں منایا گیا جب یہود و ہنود کے علاوہ نصاریٰ کی ایک بڑی قوت نے بھی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ صدر پاکستان نے اس موقع پر اپنے پیغام میں اقوام عالم کو متنبہ کیا ہے کہ منافرت انگیز تقاریر امتیازی سلوک اور مذہبی علامات اور اسلامی عبادت گاہوں پر حملوں جیسے اقدامات بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور اس بنیادی عالمگیر اصول کی نفی کرتے ہیں کہ قانون کی نظر میں تمام انسان برابر ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ تمام بین الاقوامی فورمز پر ذمہ دارانہ انداز میں اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی جن کی ضمانت بین الاقوامی قوانین نے دی ہےتمام انسان مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ مگر یہ سب زبانی باتیں ہیں عملاً اس کی پاسداری نہیں کی جاتی۔ بھارت نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی جامع مسجد سری نگر میں مسلمانوں کو نماز جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ عظیم مسجد5 اگست 2019ء سے مسلسل ساتویں برس بھی عبادت کے لیے بند ہے۔ ادھر اسرائیل نے قبلہ اول یعنی مسجد اقصیٰ میں فلسطینی مسلمانوں کو نماز جمعہ نہیں پڑھنے دی۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہود ہنود کا یہ گٹھ جوڑ ہمیشہ سے جاری ہے۔ ایران کے خلاف بلاجواز جارحیت کے ارتکاب میں بھی یہ حقیقت اس وقت آشکار ہوئی جب نریندر مودی نے تل ابیب جاکر نیتن یاہو سے ملاقات کی اور اسے ہر طرح کی مدد کا یقین دلایا، کیونکہ وہ امریکہ کی اس مصنوعی خفگی کو دور کرنا چاہتا تھا جو پاک بھارت جنگ کے بعد ظاہر ہوئی اور صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم اور ڈیفنس چیف کی تعریف کرنا شروع کی۔ ایران کی جنگ نے بھارت کے لیے یہود و نصاریٰ سے پینگیں بڑھانے کے دروازے پھر کھول دیے ہیں اور وہ اس سے پوری طرح فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ مسیحی دنیا کے اکثر ممالک اور عوام ایران کے خلاف اسرائیل کے ایما پر لڑی جانے والی امریکہ کی جنگ سے اتفاق نہیں کرتے اور کئی مغربی شہروں حتیٰ کہ امریکہ میں بھی اس کے خلاف مظاہرے ہوئے اور ریلیاں نکالی گئی ہیں۔ ایران کے مرد و زن، پیر و جوان حتیٰ کہ اسکولوں کے بچوں پر بھی بم برسائے جارہے ہیں۔ لندن اور بعض دوسرے یورپی ملکوں کے دارالحکومتوں میں امن پسند یہودیوں نے بھی ایسے مظاہروں میں شرکت کی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے تمام بین الاقوامی قوانین اور جنگی روایات کو پامال کرتے ہوئے ایران کے کئی سرکردہ رہنمائوں کو شہید کردیا، لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی۔ یہود و نصاریٰ کے انتہا پسند حلقے جلتی پر تیل چھڑکتے ہوئے اس لڑائی کو مذہبی رنگ دینے کے لیے اسے صلیبی جنگ کے مماثل قرار دینے پر تل گئے ہیں، جس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت عیسائیوں کی تعداد ڈھائی ارب بتائی جاتی ہے جبکہ مسلمان دو ارب اور یہودی صرف ڈیڑھ کروڑ ہیں۔ یہودیوں کے اس مختصر گروہ نے اپنی دولت اور عیارانہ اثر و رسوخ کے ذریعے امریکہ جیسی سپر پاور کو اپنی مٹھی میں بند کرلیا ہے، جس نے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے نہ صرف ایران سے جنگ چھیڑ دی، بلکہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں کو بھی اس کے اثرات کی زد میں لے آیا۔ اب یہ ملک جن میں امریکہ نے اپنے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں اس جنگ کے نتائج برداشت کررہے ہیں۔ اسرائیل جس گریٹر یہودی مملکت کا خواب دیکھ رہاہے اس میں دریائے نیل سے فرات تک کے تمام عرب ممالک شامل ہیں، جس کی نشاندہی تل ابیب میں امریکی سفیر نے خود کی ہے اور ان پر اسرائیل کا حق جتایا ہے۔ امریکہ کے حکمران ری پبلکن پارٹی کے ایک سینیٹر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران سے امریکہ اور اسرائیل کی جنگ مذہبی رنگ اختیار کرسکتی ہے۔ امریکہ کے سیاسی حلقوں نے اس پر تشویش ظاہر کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر ایک بڑا مذہبی تصادم رونما ہوسکتا ہے جو ہلاکت خیز ہتھیاروں کے موجودہ دور میں دنیا کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اس حوالے سے مبصرین نے اسرائیل کے جنگی جنون کو برائی کی اصل جڑ قرار دیا ہے جو بار بار پڑوس ملکوں خصوصاً شام اور لبنان کو نشانہ بنارہا ہے۔ اس وقت بھی وہ لبنان پر ایران نواز فورسز حزب اللہ تنظیم کو کچلنے کے بہانے متواتر حملے کررہا ہے۔ فلسطینیوں کو تو اس نے تقریباً ملیامیٹ ہی کردیا ہے۔ ان کے تمام علاقوں پر قابض ہے اور دو لاکھ سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو شہید یا زخمی کردیا ہے۔ زندہ بچ جانے والے بھی بے گھر ہیں۔ امدادی کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں یا دربدر مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اسرائیل ان تک بیرونی ملکوں کی غذائی امداد بھی پہنچنے نہیں دیتا۔

امریکہ کی موجودہ انتظامیہ میں ایسے خود پسند لوگ بھی شامل ہیں جو چاہتے ہیں کہ اچھا یا برا جیسا بھی ہو اپنے پیچھے اپنا نام چھوڑ جائیں۔ دنیا ہٹلر کی طرح ان کا نام یاد رکھے۔ ان میں وزیر دفاع ہیگس بتھ بھی شامل ہیں جو صہیونی لابی کے آدمی بتائے جاتے ہیں۔ تاریخی معجزات کے قائل ہیں اور یروشلم میں تیسرا ہیکل تعمیر کرنا چاہتے ہیں، جس کے لیے پہلے سے ایک تحریک موجود ہے۔ یہ ایک پراسرار تحریک ہے جس کا ذکر سیاسی گفتگو میں کم ہی کیا جاتا ہے۔ صہیونی یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ خدا کے منتخب لوگ ہیں اور عیسائیوں کا فرض ہے کہ وہ ان کا ساتھ دیں۔ یہ ایک ایسی بحث ہے جسے عیسائی مبصر بھی بعید ازکار سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انجیل میں اس کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ پھر عیسائی یہودیوں کی کیوں مدد کریں۔ اس طرح کی بحث سے قطع نظر امریکہ اس وقت پوری طرح اسرائیل کی پشت پر ہے، اسے جنگی اسلحہ اور ہر قسم کی مدد فراہم کررہا ہے اور پورے عالم اسلام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔دنیا کا مستقبل بدی کی محور ان قوتوں کے جنگجویانہ کھیل کی وجہ سے دائو پر لگاہواہے۔

تازہ ترین