امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو درست قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل ایران پر حملہ نہ کرتے تو ممکنہ طور پر جوہری جنگ چھڑ سکتی تھی جو تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو جاتی۔
اوول آفس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس فوجی مہم کو ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر اقدام قرار دیا اور کہا کہ اگر ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ نہ کیا ہوتا تو ایران ایک ماہ میں جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا اور اسے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے خلاف استعمال کرتا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ایسی جنگ ہوتی جس میں کچھ بھی باقی نہ رہتا اور مؤقف اختیار کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف کارروائی کر کے ایک عظیم کام انجام دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو کوئی بھی جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کی حمایت کرتا ہے، اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ ایران کے پاس اس وقت نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ، نہ فضائی دفاعی نظام اور نہ ہی قیادت۔
امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے معلوم ہی نہیں ہم کس سے بات کر رہے ہیں، کیونکہ ان میں سے کسی کو کوئی نہیں جانتا، وہ سب (ایران کی اعلیٰ قیادت) مر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے اوباما دور کے جوہری معاہدے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچا دیا تھا۔
ان کے مطابق اگر میں اس معاہدے سے دستبردار نہ ہوتا تو ایران 3 سال پہلے ہی ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا اور پہلے اسرائیل اور پھر امریکا کو نشانہ بنا چکا ہوتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر گزشتہ جون میں B-2 Spirit طیاروں کو ایرانی فضائی حدود میں نہ بھیجا جاتا تو ایران ایک ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔
دوسری جانب ایران نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی حکام مسلسل اس بات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران صرف خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے، ہمسایہ ممالک کو نہیں۔