• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کی ’موزیک دفاع‘ حکمتِ عملی کیا ہے؟

شہید علی لاریجانی—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
شہید علی لاریجانی—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

اسرائیلی حملے میں ایران کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی، اِن کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی اور ایک معاون شہید ہو گئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے ایک الگ حملے میں بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہو گئے۔

علی لاریجانی کو مشرقی تہران میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی بیٹی سے ملنے گئے ہوئے تھے، ان کی شہادت کا اعلان سوشل میڈیا ایکس پر بھی کر دیا گیا ہے۔

بیان میں لکھا گیا ہے کہ ’خدا کا ایک بندہ، خدا سے جا ملا۔‘ 

علی لاریجانی کی شہادت پر ایران کا ردعمل

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ’الجزیرہ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی نظامِ حکومت ایک مضبوط سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے پر مبنی ہے، اس لیے کسی ایک شخصیت کی موجودگی یا عدم موجودگی سے ریاستی نظام متاثر نہیں ہوتا۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ ایران کا نظام شخصیات کے بجائے اداروں کے ذریعے چلتا ہے، ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے ریاستی یا عسکری صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔

ایران کا موزیک دفاع کیا ہے؟

ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کو ’موزیک دفاع‘ کہا جاتا ہے جسے ایرانی عسکری شخصیت محمد علی جعفری نے تیار کیا تھا، اس نظریے کے تحت فوجی طاقت کو مرکزی کمان کے بجائے مختلف علاقائی یونٹس میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اس نظام میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی)، بسیج فورس، باقاعدہ فوجی یونٹس، میزائل اور بحری دستے سب غیر مرکزی مگر دفاعی نیٹ ورک کے طور پر کام کرتے ہیں۔

آئی آر جی سی کو 31 صوبائی کمانڈز میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں ہر صوبہ اپنی سطح پر انٹیلی جنس، اسلحہ اور کمانڈ کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر مرکزی قیادت یا رابطہ نظام متاثر بھی ہو جائے تو مقامی یونٹس خود کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عسکری ماہر ڈاکٹر مائیکل کونال کا ایرانی عسکری ڈھانچے سے متعلق کہنا ہے کہ اس ڈھانچے کا مقصد ایران کے دفاعی نظام کو اس حد تک پھیلا دینا ہے کہ اسے مکمل طور پر ناکارہ بنانا انتہائی مشکل ہو جائے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید