وطن عزیز کی سرحدوں پر اوراطراف و اکناف میں کرۂ ارض کو ہلا دینے والے واقعات کے تناظر میں اگرچہ اس برس 23مارچ کویوم پاکستان کی پریڈ اور دوسری تقریبات نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم پاکستان میں ہر سطح پر وہ جذبہ تازہ ہے جو 23مارچ 1940کی قرار داد کے وقت پایا جارہا تھا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے9مارچ2026کو قوم سے خطاب میں14نکات پر مبنی جن اقدامات کا اعلان کیا سگنل تھے اس امر کےکہ قومی بقا و سلامتی کے تقاضوں میں ہر پاکستانی کی پر عزم شراکت لازم ہو گئی ہے۔ ہماری مسلح افواج سرحدوں پر ہر طرح سے تیار و مستعد ہیں۔ اسکا ایک مظاہرہ مئی 2025ء میں بھارت کی طرف سےمسلط کردہ اس جنگ کی صورت میں ظاہر ہوا جس کے ابتدائی گھنٹوں میں بدترین ہزیمت سے دو چار ہونے والے دشمن نے چوتھے روز امریکی ثالثی میں جنگ بندی دستاویز پر دستخط کر کے اپنی جان چھڑائی۔ اچھا ہوتا کہ نئی دہلی حکومت وزیر اعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں کی گئی پیشکش کا فائدہ اٹھا کر پاکستان سے اچھے تعلقات کی طرف قدم بڑھاتی اور خطے میں تعاون و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا۔ مگر بھارت نےپہلے پاکستان میں اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کی سرگرمیاں بڑھائیں۔ پھر کابل کی عبوری حکومت کو پاکستان پر حملے کیلئے استعمال کیا۔ بات ایک جنگ بندی کے بعد ختم نہ ہو ئی اور پاکستان کو دوبارہ علانیہ مسلط کی گئی جنگ کی کیفیت سے نمٹنا پڑا ۔ یہ صورت حال جاری تھی کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے خوفناک و انتہائی ہلاکت خیز حملوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ آیت اللہ خامنہ ای اعلیٰ ایرانی حکام کے ہمراہ شہید ہو گئے مگر ’’رجیم چینج‘‘ کا خواب پورا نہ ہو سکا ۔ سابقہ سپریم لیڈر کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف ایران کے اعلیٰ ترین عہدے پر متمکن ہو چکے ہیں بلکہ اپنی حکمت عملی کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ امریکی حملوں کے ردعمل میں گردوپیش کے امریکی اڈوں پر کی گئی ایرانی کارروائی نے پورے خطے میںہنگامی کیفیت پیدا کر دی ہے جسکی شدت کم کرنے اور حالات معمول پر لانے کیلئے پاکستان سمیت دوست ملکوں کی سفارتی کاوشیں جاری ہیں۔بات اس برس23مارچ کی پریڈ نہ ہونے اور وزیر اعظم کے 9مئی کے خطاب سے شروع ہوئی تھی لیکن مذکورہ تفصیل کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ ان اقدامات کی اہمیت واضح ہو جائے جن کا میاں شہباز شریف نے اعلان کیا اور جو درپیش حالات میں وطن عزیز کی ناگزیر ضرورت ہیں۔ پاکستان کئی برسوں سے ایسی کیفیت سے گزر رہا ہے، جس میں معاشی دبائو ، توانائی کی قلت اور عالمی حالات مل کر ایک پیچیدہ صورت حال پیدا کر رہے ہیں۔
مہنگی توانائی اور درآمدی ایندھن پربڑھتا ہوا انحصار ایسے مقام پر ہے کہ ان کی رسد میں بندش یا کمی ناقابل بیان مسائل پیدا کر سکتی ہے جبکہ انکے بلوں کی ادائیگی اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے۔ حکومت نے مشرق وسطیٰ کی فضائوں پر نظر آنے والے جنگ کے بادلوں کے باعث مارچ کے اوائل میں پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا تھا۔ اس طرح پیٹرول کا نرخ 321.17روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گیا جبکہ ڈیزل335.86روپے فی لیٹر کا ہو گیا۔اس باب میں تادم تحریر آنے والے حکومتی بیانات پاکستانیوں کیلئے حوصلہ افزا ہیں ۔ وزیر اعظم نے خطے کی صورت حال مدنظر رکھتے ہوئے معیشت کے استحکام کیلئے کفایت شعاری، عوامی ریلیف، سادگی اور توانائی کی بچت کیلئے جو 14نکاتی اقدامات کا شروع کئے ان میں ہفتے میں چار دن کام، دو ہفتوں کیلئے اسکول بند کرنے کے نکات بھی شامل ہیں۔ 50 فیصد سرکاری و نجی ملازمین کے ’’ورک فرام ہوم‘‘ اشرافیہ کی مراعات میں کمی سمیت ایسے اقدامات شامل ہیں جن سے تمام ہم وطن واقف ہیں ۔یہ امر واضح ہے کہ ایندھن بچانے کے پلان پر عملدرآمد کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی بھی اضافہ ہر چیز کے نرخوں میں اضافے کا باعث بن کر غریب اور پسے ہوئے طبقے کے ان افراد کے مسائل میں اضافہ کرے گا جنکی شرح عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق چالیس فیصد سے زیادہ ہے۔ اشرافیہ کی مراعات میں کمی کی گئی ہے مگر اچھا ہوگا کہ اشرافیہ کے ارکان اپنے طور پر بھی ملک و قوم کے مفاد میں رضا کارانہ طور پر حسب حیثیت اپنا کردار بڑھائیں۔ پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ورچوئل جائزہ اجلاسوں کے دوران پاکستان اُس ہنگامی بجٹ سہولت کیلئے اپنا کیس پیش کر سکتا ہے جو غیر معمولی حالات کیلئےرکھی گئی ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بیرونی مالیاتی سہولتیں کسی قوم کو ہمیشہ کیلئے سہارا نہیں دے سکتیں۔ جب ریاست اور عوام دونوں ایک ہی مقصد کیلئے کام کریں تو مشکل ترین معاشی حالات بھی سنبھالے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کئی مواقع ایسے آئے جب قوم نے متحد ہو کر بڑے چیلنجوں کا مقابلہ کیا اور کامیاب رہی۔ آج بھی ضرورت اسی جذبے کی ہے۔ اگر توانائی کی بچت ، سادگی اور کفایت شعاری کو ایک عارضی مہم کی بجائے مستقل قومی عادت بنا لیا جائے تو پاکستان نہ صرف موجودہ بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ آئندہ بحرانوں کے آگے ایک مضبوط رکاوٹ بن کر کھڑا ہو سکے گا۔