مرتّب: طلعت عمران
عیدالفطر کے موقعے پر حسبِ روایت، آپ کو اپنے پیاروں کے نام پیغامات بھیجنے کا سندیسہ دیا، تو آپ کی جانب سے بھی ہمیشہ کی طرح کچھ کھٹے میٹھے اور کچھ تیکھے الفاظ میں گُندھے دِلی جذبات و احساسات پر مبنی ڈھیروں ڈھیر پیغامات وصول ہوئے، جنہیں ایک ساتھ شائع کرنا ممکن نہ تھا۔ سو، پیغامات کاپہلا حصّہ تو’’عید ایڈیشن‘‘ میں شایع کیا گیا۔ آج ملاحظہ فرمائیں، اِس سلسلے کا دوسرا اور آخری حصّہ۔
(اپنے بچّوں کے لیے)
عیدالفطر کے پُرمسرّت موقعے پر مَیں اپنے تینوں بچّوں، محمّد عمیر قریشی (مقیم جرمنی)، محمّد یاسر قریشی اور پیاری بیٹی، سمعیہ اسلم ( مقیم آسٹریلیا) کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میری دُعا ہے کہ تم تینوں بہن بھائی زندگی کے ہر میدان میں بیش بہا کام یابیاں سمیٹو۔ (آمین) (اسلم قریشی، ٹھنڈی سڑک، حیدرآباد سے)
(ماں کی خدمت میں)
ماں جی کے بغیر اب ہر عید ہی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ جب وہ ساتھ تھیں، تو عید کی خوشیاں دُگنی تگنی ہوجاتی تھیں۔ دِلی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری پیاری والدہ، سعیدہ خان کوجنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا ہو۔ (زاہد احمد خان، شازمہ خان اور سمیرا خان، راول پنڈی کا سندیسہ)
( آیت اللہ سیّد علی حسینی خامنہ ای شہید کے نام)
؎ کسی بھی تیغ سے کٹتی نہیں چراغ کی لَو
بدن کی موت سے کردار مَر نہیں سکتا۔ (سیّد ذوالفقار حسین نقوی، نیو رضویہ سوسائٹی، کراچی کی عقیدت)
(قارئین کے نام)
میری طرف سے تمام قارئین کو عید الفطر بہت بہت مبارک ہو۔ (دلدارگلزار، راول پنڈی سے)
(شریکِ حیات، شازیہ عمران کے نام)
میری پیاری بیگم! عیدالفطر کے پُرمسرّت موقعے پر میری دلی دُعا ہے کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔ کوئی غم تمہیں چُھو کر بھی نہ گزرے۔ ہمیشہ مُسکراتی رہو اور اللہ تعالیٰ ہماری جوڑی سلامت تا قیامت رکھے۔ (عمران خالد خان، کراچی کا والہانہ پن)
(ماؤں کے نام)
عید کی اصل خوشی تو ماں کے ساتھ عید منانے میں پوشیدہ ہے اور جن کی ماں نہیں ہوتی، اُن کی میٹھی عید بھی پھیکی، بےرنگ اوربے مزہ ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی مائوں کو سلامت رکھے اورجن کی مائیں اس دُنیا میں نہیں رہیں، اُن کی اولاد کو اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ (منظور احمد تنولی، شنکیاری، مانسہرہ کی جانب سے)
(دل رُبا، دل کش بیگم راشدہ اطہر، چُلبلے، مَن موہنے پوتے، رانا محمّد المیر اور اپنےبچّوں کے نام)
پیاری بیگم! تمہیں میری طرف سے بہت بہت عید مبارک ہو۔ میری دُعا ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں زندگی کی تمام کٹھنائیوں اور تکالیف سے محفوظ و مامون رکھے اور جہاں بھر کی رعنائیاں و شادمانیاں نصیب فرمائے۔
عیدالفطر کے پُرمسرّت موقعے پر دلی دُعا ہےکہ پروردگار میرے پوتے کو یونہی ہنستامسکراتا، خوب کِھلکھلاتا رکھے کہ اسی کے دَم سے تو گھر بَھر کی مسرّتیں، خوشیاں ہیں۔
نیز، ربِّ ذوالجلال میرے بیٹے، ظفریاب اطہررانا، بیٹی، نبیہہ اطہر اور بہو، نویدہ ارم کو یونہی باہمی اتفاق ومحبت سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اُن کی تابندگی ورخشندگی سلامت رہے۔ (ڈاکٹر اطہر رانا، فیصل آباد کا اپنوں سے محبّت کا انتہائی دل فریب انداز)
(پیاروں کے لیے)
ہماری طرف سے بھائیوں، محمد عرفان، محمد عاصم فوجی (مقیم وانا ایجینسی)، محمد ذیشان (ہیلتھ کارڈ والے) اور بڑے بھائی حق نواز مرحوم کے بچّوں کو بہت بہت عید مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ہمیشہ خوش رکھے اور عُمرِ دراز نصیب فرمائے۔ (شمائلہ نیاز، عائشہ جبیں، مائرہ شاہین اور شاہدہ پروین کی طرف سے)
(رُوٹھی ہوئی شریکِ حیات، فائزہ پروین کے لیے)
میٹھی عیدکے موقعے پر میری اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ یہ عید میری ناراض شریکِ حیات کو راس آجائے اور ہم ایک بار پھر ایک دوسرے سے آن ملیں۔ (مزمّل حسین چیمہ، ہڑپہ سٹی، ضلع ساہی وال سے)
(انکل شبّیر اور اُن کی اہلیہ و صاحب زادیوں کے نام)
انکل شبّیر! آپ کی عُمر 90 برس سے زائد ہو چُکی ہے، لیکن اس عُمررسیدگی اور پیرانہ سالی کے باوجود آپ کی انسانیت، بالخصوص اپنے آبائی علاقے، چنیوٹ کی کمنگر برادری کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
آپ کی خمیدہ کمر آپ کے مضبوط ارادوں کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ مجھ سمیت چنیوٹ کی کمنگربرادری کی جانب سے آپ کو ڈھیروں عید مبارک۔ (مصباح طیّب اور کمنگر برادری کا پیغام)
(اپنے شہزادوں، شہزادیوں کے لیے)
میری طرف سے میرے پیارے شہزادوں، محمد عافیان احمد عمرانی، حافظ محمد عالیان احمد عمرانی اور شہزادیوں، عفیفہ عمرانی، عافیہ عمرانی، رضوانہ عمرانی اور اپنی رفیقِ حیات کو عید کی ڈھیروں مبارک باد۔ میری دُعا ہے کہ میرے خُوب صُورت گھرانے کا ہر لمحہ عید اور پل پل خوشیوں میں بدل جائے۔ (عرفان احمد عمرانی، ملتان کی جانب سے)
(مسلمانوں کے نام)
عیدِ سعید کے موقعے پر میری دُعا ہے کہ تمام اہلِ اسلام کے دِلوں میں اخوّت و وحدت کی شمع روشن اور عالمِ اسلام میں امن قائم ہو جائے۔ (ڈاکٹر عبداللہ، فیروز پور روڈ، لاہور کی نیک تمنّا)
(عظیم والدین کے نام)
میری طرف سے میرے عظیم والدِ محترم، بابو اور والدہ صاحبہ، بوا کو دل کی گہرائیوں سے عید کی مبارک باد۔ اللہ تعالیٰ ہمارے سَروں پر آپ دونوں کا سایہ تادیر سلامت رکھے، آمین۔ (ڈاکٹر ایم عارف سکندری، کھوکھر محلہ، حیدرآباد)
(بیٹے، اقبال قاسم کے نام)
میرے بیٹے، اقبال قاسم کومیری طرف سے بہت بہت عید مبارک۔ میری دلی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے فرزند کا ہر دن عید، ہر رات شبِ برات کر دے۔ (شفیق ماں، سلطانہ کی ممتا سے لب ریز دُعا)
(پاک فوج کے شہید جوانوں کے لیے)
مَیں عید کے اس بابرکت موقعے پر وطنِ عزیز پر اپنی جان نچھاور کرنے والے پاک فوج کے تمام جوانوں اور اُن کے اہلِ خانہ کو تہہ دل سے سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں اور شہدائے پاک فوج کے درجات کی بلندی کے لیے دُعاگو ہوں۔ (عبدالجبّار خان بن عبدالعزیز خان، نارتھ ناظم آباد، کراچی کا پیغام)
(اُمّتِ مسلمہ کے نام)
آج اسلامی دُنیا آگ و خون کی لپیٹ میں ہے اور اس موقعے پر مَیں تڑپتے دِل، سسکتے لہجے، کپکپاتے قلم اور خُون کے آنسوؤں کے ساتھ تمام مسلمانوں کوعید کی مبارک باد پیش کر رہا ہوں۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو یک جہتی اور باہمی محبّت عطا فرمائے۔ (سونیا عباس علی قریشی، حیدرآباد کی جانب سے)
(برادر اسلامی مُلک، ایران کے نام)
؎ تُندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لیے۔ (سیّدہ شانِ زہرا نقوی، فیڈرل بی ایریا، کراچی کا حوصلہ افزا پیغام)
(پیاری امّی جان کے نام)
؎ مَیں نے ماں کا لباس جب پہنا
مجھ کو تتلی نے اپنے رنگ دیے (سیّدہ ایلیا حسن رضوی، گلشنِ اقبال، کراچی کا پیار)
(اہلِ خانہ اور پیاری دوست، اسوہ مریم کے لیے)
میری طرف سے تمام اہلِ خانہ اور میری پیاری دوست، اسوہ مریم کو بہت بہت عید مبارک۔ مَیں آپ سب کے لیے ہمیشہ دُعاگو رہتی ہوں۔ آپ لوگ جہاں بھی رہیں، خُوش وخرم رہیں۔ ان دنوں بہار کا موسم ہے اور ہر سُو پُھول کِھلے ہیں۔ تمام رنجشیں فراموش کر کے اپنے دل کو ان پُھولوں کی طرح محبّت اور خُوب صُورتی سے بَھرلیں۔ (مِشی کی طرف سے)
(مرحوم والدین کی خدمت میں)
عید کے دن جب ہر طرف خوشیوں کی بہار ہوتی ہے، تو دل کےکسی کونے میں ایک خاموش سی اداسی بھی جاگ اُٹھتی ہے۔ امی، ابو کے بغیر یہ خوشی ادھوری سی لگتی ہے۔
عید کی وہ صُبحیں، اُن کی پُرخلوص دُعائیں، مسکراہٹیں اور گھر کی وہ پرُانی رونقیں آج بھی یادوں میں زندہ ہیں۔ آج بھی جب ہاتھ دُعا کے لیے اُٹھتے ہیں، تو دل سے بس یہی صدا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ دونوں کی قبروں کو اپنی رحمت کے نور سے بھردے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (حرا خان کا احسات و جذبات سے لب ریز پیغام)
(اہلِ وطن کے نام)
مادّہ پرستی کے اس دَور میں تو عیدیں بے رونق، پھیکی سی ہوگئی ہیں، بِنا خُوش بُو کے پُھول کی مانند۔ وہ جذبۂ مسرّت کہیں گم ہوگیا، جو کچھ عرصہ قبل عید کی آمد پر بوڑھوں، بچّوں اور جوانوں میں عود کر آتا تھا۔ اب برانڈڈ ملبوسات، جوتوں اور جیولری کا شوق تو ہے، لیکن اپنے قریبی رشتے داروں اور دوستوں کے ساتھ خوشیاں منانے کا شوق اور جذبہ نہیں رہا۔
عید کادن زیادہ تر سو کرگزارا جاتا ہے۔ احساس و مروّت اور اخلاقیات سب ختم ہوگئے ہیں۔ عید تیوہار پر بھی بس بناوٹی میل ملاپ ہے یا پھر کاروباری مراسم اور تعلقات بڑھائے جاتے ہیں۔ اے کاش! ہمارے دِلوں میں پھر سے وہی جذبات جنم لیں اور ہم اپنی عیدین کو عہدِ گزشتہ کی عیدوں کی طرح منائیں۔ (بلقیس متین، کراچی کا پیغام)
(احبابِ قرطاس و اقلام اور قارئینِ کرام کے نام)
تمام احبابِ قرطاس و اقلام، قارئین اور سامعین ِکرام کو ہمارا سلام پہنچے۔ ہماری طرف سے عید الفطر کی لامتناہی مبارک باد قبول کریں۔ خصوصاً ان عزیزطلبہ کو عید مبارک کہ جنہوں نے میرے اشعار کی تشریح میں وہ وہ باتیں جوڑ دیں، جو مَیں نے سوچی بھی نہ تھیں اور میرے اشعار کو ایک نیا رنگ دے دیا۔
خدا ان کی محنتوں کو قبول فرمائے اور ان کے قلم کو روانی عطا کرے۔ جب بھی عید کا چاند نظر آئے، تو غالب کو بھی ضرور دُعاؤں میں یاد کر لیں۔ ؎ تم سلامت رہو ہزار برس… ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار۔ (ریختہ کے استاد مرزا اسد اللہ خان غالب، غالب کی حویلی، گلی قاسم جان، بلی ماران، چاندنی چوک، پرانی دہلی، ہندوستان سے)
(جنگ، سن ڈے میگزین کی ٹیم کے نام)
؎ حالات پست بھی ہَوں، تو ہمّت رہے بلند
انسان جس زمیں پہ رہے، آسماں رہے (سیّدہ مہ جبیں جاوید نقوی، نیو رضویہ سوسائٹی، کراچی کا سندیسہ)
( پیاری ماں جی کےنام)
؎ آنکھوں سے مانگنے لگے پانی وضو کا ہم
کاغذ پہ جب بھی دیکھ لیا ماں لکھا ہوا (سیّد محمد حیدر رضا زیدی، گلستان سوسائٹی کراچی کا والدہ سے اظہارِ محبّت)
(سربراہ پاک فضائیہ، ظہیر احمد بابر سدھو کے نام)
شاہینوں کے سلطان، وطن کے نگہ بان، انتہائی بہادر اور جاں باز سپہ سالار، پاک فضائیہ کے سردار، دھرتی ماں کی خاک کو اپنی پوشاک بنانے والےجیّد ایئر چیف، ظہیر احمد بابر سدھو اوراُن کی ٹیم کو میری جانب سے بہت بہت عیدِ سعیدمبارک ہو۔ میری دُعاہےکہ آپ کے عسکری کارناموں اور دفاعی کام یابیوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ (ایم شمیم نوید، گلشنِ اقبال، کراچی کا وطن اور پاک فوج سے اظہارِ محبت و عقیدت)
(پیاری بہن، ثریّا کوثر عُرف ننّھی کے نام)
میری پیاری اور محنتی بہن، ثریّا کوثر ! تمہیں عیدِ سعید کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہوں۔ تمہیں اتنی محنت کرتے دیکھ کر مُجھےبھی کام کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ البتہ میری ایک چھوٹی سی درخواست ہے کہ عید کے موقعے پر بھی کاموں ہی میں مت مصروف رہا کرو بلکہ اس تہوار کو انجوائے بھی کیا کرو، کیوں کہ زندگی صرف کام، کام، کام کا نام نہیں، بلکہ اس سے لُطف اندوز بھی ہونا چاہیے۔
ہماری ’’عیدین‘‘ اللہ کا انعام، اُس کی نعمتیں ہے، تو اِن سے ضرور خوش ہوا کرو۔ مجھے پورا یقین ہے، تمہیں اپنی تمام تر محنتوں کا صلہ ایک نہ ایک دن ضرور ملے گا، اِن شاء اللہ۔ ؎ میری خوشیوں سے وہ رشتہ ہے تمہارا اب تک… عید ہو جائے، اگر عید مبارک کہہ دو۔ (مشعل فاطمہ کا اپنی ہم شیرہ سے محبت و چاہت کا منفرد انداز)
(واٹر بورڈ اور سوئی گیس کمپنی کے لیے )
عید مبارک…سب کو عید مبارک۔ خاص طور پر واٹر بورڈ اور سوئی گیس کمپنی کو عید کی ڈھیروں ڈھیر مبارک باد۔ ان دونوں اداروں نے ہمیں پورے رمضان المبارک میں پانی اور گیس کی عدم دست یابی کی صُورت پریشان کیے رکھا اور ہمارے صبرو برداشت کا خُوب امتحان لیا۔
گیس کی لوڈشیڈنگ کے سبب سحری میں صرف پانی پی کر بھی روزہ رکھنا پڑا اور افطار کا سامان بازار سے منگوانا پڑا۔ پانی کی قلّت نے الگ ستایا۔ یہ دونوں بنیادی سہولتیں ہی پورا رمضان دست یاب نہیں تھیں، تو میری طرف سے واٹر بورڈ اور گیس کمپنی کو بہت بہت عید مبارک کہ اُن کی ’’مہربانی‘‘ سے ہمارا جذبۂ صبر و شُکر اور برداشت دُگنے ہوگئے۔ (طاہرہ طلعت، کراچی کے جلے دل کے پھپھولے)
(ایڈیٹر، ’’جنگ، سن ڈے میگزین‘‘ اور اُن کی ٹیم کی خدمت میں)
میری طرف سے آپ اورآپ کی پوری ٹیم کو عید کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں۔ پرنٹ میڈیا کے نامساعد حالات کے باوجود آپ نے جس طرح میگزین کو زندہ و تابندہ رکھا ہوا ہے بلکہ نئے لکھاریوں کو متعارف کروا کے نت نئے، انوکھے اور دل چسپ مضامین کا اضافہ بھی کرتے رہتے ہیں، تو یہ امر ثابت کرتا ہے کہ اگر کمانڈر میں صلاحیت ہو، تو کم سے کم افرادی قوّت اور نامساعد حالات میں بھی بہترین اور زیادہ سے زیادہ آؤٹ پُٹ دے سکتا ہے۔ شاباش نرجس اور ٹیم سنڈے میگزین!ہمیں آپ پر بہت فخر ہے۔ (پروفیسر سیّد منصور علی خان کی اپنائیت و حوصلہ افزائی)