تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: رامین شائستہ
ملبوسات: Balreej Fashions by Billal
آرائش: صبیحہ اینڈ ثاقب سیلون
کوارڈی نیشن: محمد کامران
عکاسی: ایم کاشف
لےآؤٹ: نوید رشید
انجم سلیمی کا جسم وجاں کی تھکن سہتا، ایک خُوب صورت کلام ملاحظہ فرمائیں۔ ؎ ’’عُمرکی ساری تھکن لاد کےگھرجاتا ہوں… رات بستر پہ مَیں سوتا نہیں، مَر جاتا ہوں… اکثراوقات بَھرے شہر کے سنّاٹے میں…اِس قدر زور سے ہنستا ہوں کہ ڈرجاتا ہوں…مجھ سے پوچھے تو سہی آئینہ خانہ میرا…خال و خد لے کے مَیں ہم راہ کدھرجاتا ہوں…دل ٹھہر جاتا ہے بھولی ہوئی منزل میں کہیں…مَیں کسی دوسرے رستے سے گزر جاتا ہوں…سہما رہتا ہوں بہت حلقۂ احباب میں میں…چار دیوار میں آتے ہی بکھر جاتا ہوں… میرے آنے کی خبر صرف دیا رکھتا ہے…مَیں ہواؤں کی طرح ہو کے گزر جاتا ہوں…مَیں نے جو اپنےخلاف آپ گواہی دی ہے…وہ تِرے حق میں نہیں ہے، تو مُکرجاتا ہوں۔‘‘ ہم مشینوں کو مات دیتے لوگ، اِس حقیقت کا سامنا کرنے کو تیار ہی نہیں کہ وقت ہمیں کتنی تیزی اور بےرحمی سے گزار رہا ہے۔
زندگی گنگناتے بہتے دریا کی بجائے گھڑی کی سیکنڈز والی سوئی کے مشابہ ہوگئی ہے، جس کی حرکت کو کسی پل قرار نہیں، مگر اتنی تگ و دو کے بعد بھی ایک ہی دائرے کی قیدی۔ روزمرّہ معمولات و مصروفیات کے بوجھ پیٹھ پر لادے صُبح سے شام اور شام سے صُبح کرنے والے ہم لوگ، جنہیں نہ کبھی رستے سے گزرتےکنارے لگے درخت دیکھنےکی فرصت، نہ ہی شام سمے اُفق پر پھیلے رنگ گننے کا ہوش اور دن ڈھلے گھونسلوں کو لوٹتے پرندوں کو دیر تلک دیکھنے کا شغل تو جیسے خواب ہی ہوا۔
بس ہر لمحہ، اگلا لمحہ جینے کی چاہ اور حال کا حُسن نظروں سے یک سراوجھل۔ یہ سب بظاہر خُود کو مشین مان لینے کا اِک اعتراف ہی تو ہے۔ وہ کیا ہے کہ؎ ’’سُونا سُونا دل کا مجھے نگر لگتا ہے…اپنے سائے سے بھی آج تو ڈر لگتا ہے…بانٹ رہا ہے دامن دامن میری چاہت… اپنا دل بھی کسی سخی کا در لگتا ہے… محرومی نے جہاں بسیرا ڈھونڈ لیا ہے…مجھ کو تو وہ گھر بھی اپنا گھر لگتا ہے…میری بربادی میں حصّہ ہے اپنوں کا… ممکن ہے یہ بات غلط ہو، پرلگتا ہے۔‘‘
اگر ایک طرف زندگی کا دباؤ، لوگوں کی غیرضروری تنقید یا کوئی مایوسی آہستہ آہستہ اپنی ذات سے لاپروا کردیتی ہے، تو دوسری طرف انسان خُود بھی دل کی تسلی کے لیے کوئی نہ کوئی تاویل گھڑ لیتا ہے کہ ظاہری نکھارہی تو سب کچھ نہیں ہوتا اوررفتہ رفتہ یہ رویہ خُود انکاری میں تبدیل ہو کر اپنی ہی ذات سے سختی برتنے لگتا ہے۔
بے مہری تودنیا دکھائے اور رُوٹھ ہم خُودسے جائیں، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ ایک حق تو زندگی یہ رکھتی ہےکہ اُسے جیا جائے، نہ کہ گزارا جائے، پھر خُود شناسی اور خُود غرضی کے بیچ بھی ایک واضح لکیر ہے۔ جو خُود میں چُھپا حُسن و محبت نہیں پہچانتا، وہ دنیا کی خُوب صُورتی پرکھنے والی آنکھ سے بھی محروم رہتا ہے، حالاں کہ خُود کو سنوارنے نکھارنے کا عمل نہ صرف گہرے جمالیاتی لُطف کاباعث ہے بلکہ یہ ایک ایسی بےداری ہے، جس میں محض زندہ رہنا کافی نہیں، حُسن و ادا کے شعور کے ساتھ جینا شرط ہے۔
ویسے بھی ہم انسان جس قدر بھی مشینی ہوجائیں، دل تو وہی گوشت پوست کا ہے، جو دھڑکتا ہے، تو خواہش اور امنگ بھی بےدار کرتا ہے۔ ہاں یہ الگ بات کہ ہم اس کی دھڑکن کی طرف دھیان نہ دیں اوریہ ہمک ہمک کر اپنا آپ منوانےکی کوشش میں لگارہے۔ خیر، اِمسال عید کچھ ایسے موسم میں آئی کہ ساتھ ہی شادی بیاہ کاسیزن شروع ہوگیا۔ گویا آرائش و زیبائش کی ایک طویل سیریز کا آغاز ہوچُکا۔ سو، ہماری آج کی بزم اِسی مناسبت سے ہے۔
ذرا دیکھیے، ہلکے گلابی (Dusty Pink) لباس پرچاندی رنگ دھاگے اورزری کا کیسا اُجلا کام ہے، جو خاص طور پر گلے، دامن، آستینوں اور پورے فرنٹ پرنمایاں ہے، ساتھ کام دار میچنگ ٹراؤزر اور دوپٹا، جوڑے کاحُسن مکمل کررہے ہیں۔ یہ پہناوا نکاح، منگنی یا ولیمے کی تقریب کے لیے ایک مثالی انتخاب ثابت ہوگا۔ آف وائٹ رنگ کا دل کش جوڑا لائٹ آرگنزا پر تیار کیا گیا ہے۔ قمیص کے گلے پر بھاری ہینڈ ورک ہے، تو دامن پر چوڑی کڑھت بیل اور کٹ ورک، جب کہ ٹراؤزر کے پائنچوں پر لیس کی سجاوٹ کےساتھ ہینڈورک ہے۔
پھرسیاہ رنگ میکسی پر سلور دھاگے، تلّے اور ستارے کا انتہائی باریک، گتھواں ساکام بھی خُوب غضب ڈھا رہاہے۔ رات کی کسی تقریب کے لیے اِس سے بہتر انتخاب ممکن نہیں۔ اسی طرح آئس بلیورنگ کے تھری پیس سوٹ کی کام دار قمیص کلاسیک لُک دے رہی ہے، تو ساتھ اسٹریٹ ٹرائوزر اور لائٹ شیفون دوپٹےکا امتزاج بھی کمال ہے۔ فیروزی رنگ جدید طرزفرنٹ اوپن میکسی پر جال نُما کڑھت ہے، جس میں باریک ستارے اور ریشم کا کام بھی شامل ہے اور یہ ایک نسبتاً آرام دہ مگر اسٹائلش جوڑا ہے، جو فیملی گیٹ ٹو گیدر، موسمِ بہار یا گرما کی شاموں کے لیے انتہائی فرحت بخش ثابت ہوگا۔
آف وائٹ میکسی نما لانگ فراک کے گلے پرنگوں کا نفیس کام ہے، تو کلیوں پر باریک لیس کی آرائش، یہ لباس کسی بھی باضابطہ پارٹی کے لیےموزوں ہے، جب کہ عنّابی رنگ غرارہ، جس کا پیپلم باریک ستارہ ورک سے مزّین ہے، توخُوب صُورت فلیئرڈ غرارہ اِسے ایک شاہی، روایتی لُک دے رہا ہے، اپنی چمک دمک کے باعث رات کی کسی بھی تقریب کے لیے بہت مناسب رہے گا۔ مطلب، اس موسم کی سب ہی تقریبات میں ہماری بزم سے استفادہ ممکن ہے۔ اپنا دیکھیں، شاید کہیں گنگناہٹ سی گونجنے لگے ؎ خُود کو پوشیدہ نہ رکھو، بند کلیوں کی طرح…پھول کہتے ہیں تمہیں سب لوگ، تو مہکا کرو۔