• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہِ تقدیس کے پاک ایام کا میٹھا تحفہ ہے عید...

تحریر: نرجس ملک

مہمانانِ گرامی: شہربانو، علینہ رحمان، دُعا رحمان، عائسل رحمان 

عکّاسی و اہتمام: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

رحمان فارس نے ہماری ’’بزمِ عیدالفطر‘‘ کے لیے ’’رُوحِ تہوار‘‘ کے عنوان سے ایک بہت ہی پیاری، اُجلی سُتھری، نِکھری نِتھری، سَچّے و سُچّے، خالص و پوتّر جذبات و احساسات سے لب ریز نظم کہی ہے۔ ؎ ’’ماہِ تقدیس کے پاک ایّام کا میٹھا تحفہ ہے عید…کُوچے کُوچے میں تہوار کی رونقیں…گھر کے صحنوں میں گل زار کی رونقیں… عید کیا ہے، بجُز اپنے پیاروں کی دید…اور پیاروں میں شامل ہوں گر بیٹیاں …یعنی جیون کی سب سے بڑی رحمتیں… چوڑیوں، منہدیوں، خوشبوؤں اور رنگوں سے آنگن سجے…دل میں سازِمحبت مسلسل بجے …میٹھے پکوان ہوں اور شام و سحَر بالکل آسان ہوں…مسکراہٹ بھی ہو، کِھلکھلاہٹ بھی ہو…صحن میں رنگ و خوشبو کی آہٹ بھی ہو…پس یہ ثابت ہُوا…ہر دروبام میں، صُبح میں، شام میں…ماؤں اور بہنوں اوربیٹیوں سے ہی رونق ہےگھربار کی…اُن کے ہونے سے خوشیاں ہیں تہوار کی!‘‘ اور بلاشبہ، یہی حقیقت ہے کہ ’’عید تو دراصل لڑکیوں، بالیوں، بچّوں، بالکوں ہی کی ہوتی ہے۔‘‘ وہ کیا ہے کہ ’’عید‘‘ خوشی ومسرت، فرحت وانبساط کا دوسرا نام ہے اور بےریا، بےساختہ، دلی و رُوحانی خوشی تو اُسی عُمر میں محسوس ہوتی ہے، جب قلب و ذہن فِکروں، پریشانیوں سے یک سر آزاد ہوں، اَن گنت، لامحدود مسائل کی آماج گاہ نہیں۔ معصومانہ شرارتیں، بےمعنی جملےبازیاں، بے مقصد بحث و تکرار، بے سبب چھیڑ چھاڑ، اوٹ پٹانگ حرکتیں اور بےلوث محبّتیں بچپن، لڑکپن، نوعُمری و نوجوانی ہی کے دَور کی دین، خاصّہ ہیں۔ 

بہن بھائی کیسی کیسی لایعنی باتوں پر ایک دوسرے سے نہیں الجھتے، خصوصاً بھائی، بہنوں کو(خواہ بڑی ہوں یا چھوٹی)تنگ کرنے، ستانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یوں ہی جاتے جاتے پونی کھینچ لینے سے امّی ابّو سے جھوٹی سچّی شکایتیں لگانے تک، اُن کے طرح طرح کے نام رکھنے سے لے کر، اُن کی ڈائریاں پڑھنے، اسنیکس چھین کر کھا لینے اور اُن کی سَکھیوں سہیلیوں کا مذاق اُڑانے تک کون سا ’’نیک کام‘‘ ہے، جو بہنوں کو زِچ کرنے کی خاطر انجام نہیں دیا جاتا، لیکن بہنیں بھی کوئی مٹّی کا مادھو، موم کی ناک نہیں ہوتیں، وہ بھی برابر کا مقابلہ کرتی ہیں، جب تک بابل کے انگنے کی چڑیاں، ’’پاپا کی پرنسز‘‘ رہتی ہیں، بھائیوں کو ٹانگ کر ہی رکھتی ہیں، لیکن…یہ بھی حقیقت ہے کہ گھر، تب تک ہی گھر ہوتے ہیں، جب تک وہاں بہن بھائیوں کی شوخیاں، شرارتیں، اٹکھیلیاں، ہنسی مذاق، نوک جھونک، کھیل تماشے جوبن پر ہوتے ہیں۔ 

جوں ہی اِن پرندوں کو طاقتِ پرواز ملتی ہے، کوئی کہیں، کوئی کہیں جا بسرام کرتا ہے۔ گھر آنگن ہی نہیں، درودیوار، دریچے، جھروکے بھی خموشی و اُداسی کی سیاہ رَدا اوڑھ لیتے ہیں۔ جب کہ عید تیوہار تو سجتے سنورتے ہی شور ہنگاموں، رونق میلوں اور اپنوں کی دید ملاقات سے ہیں۔ وہ ہے ناں ؎ جہاں نہ اپنے عزیزوں کی دید ہوتی ہے…زمینِ ہجر پہ بھی کوئی عید ہوتی ہے۔ اور ؎ عید آئی، تم نہ آئے، کیا مزہ ہے عید کا…عید ہی تو نام ہے، اِک دوسرے کی دید کا۔ 

گرچہ ’’اُمتِ مسلمہ‘‘ ایک جسم کی مانند ہے۔ اِمسال ماہِ صیام میں بھی اِس جسم ہی نہیں، رُوح پربھی جابجا چرکے لگے۔ مقبوضہ کشمیر، غزہ، شام، لبنان کا رنج و الم تو ہر دل میں جاگزیں ہی تھا، ایران پہ ہونے والی جارحیت و بربریت نے بھی خون کے آنسو رُلا دیا، مگر ہم جس نبیﷺ کی اُمّت ہیں، اُنہوں نےاللہ کی رحمت سے نااُمید ہونے کو گناہِ کبیرہ قرار دیا بلکہ حدیثِ پاک میں تو مایوسی کے گناہِ کبیرہ ہونے سے متعلق صراحت ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ ’’مایوسی، اکبرالکبائر یعنی کبیرہ گناہوں میں سے بڑا گناہ ہے۔‘‘ اور’’رمضان المبارک‘‘ (ربِ ذوالجلال کا مہینہ) اور پھر مسلمانوں کی اُجرت و مزدوری کی وصولی کا دن ’’عیدالفطر‘‘ (ماہِ صیام کا تحفہ، انعام) ہمّت و حوصلے، اخوت ویگانگت، اتحاد واتفاق، اجتماعیت و یک جائیت، مسرت و شادمانی اور اُمید و رجا ہی کا تو استعارہ ہے۔ ’’عیدین‘‘ ربِ کریم کی طرف سے عطا کردہ نِعم ہیں، تو ہم بھلا اپنی نعمتوں سے منہ موڑ کے دشمن کو آزردگی و شکستگی کا کوئی اشارہ بھی کیوں دیں۔ 

اہلِ غزہ نےکھنڈرات، ملبوں پر بیٹھ کے جس طرح سحر و افطار کی، اُن کا اہتمامِ عید، پیاروں کے مدفن پہ چراغاں ٹھہرا، توہم پر بھی لازم ہے کہ ’’عیدالفطر‘‘ میٹھی، شیریں، چھوٹی عید کا اہتمام، انتظام و انصرام اُسی طور ہو، جیسا کہ اس کا حق ہے۔ اِس عید سے جو جو لوازمات، رسوم و رواج منسوب و مشروط ہیں، سب کا اِعادہ ہو۔

جیسا کہ ہماری آج کی بزم روایتی عیدالفطر کی مکمل عکّاس، بھرپور چَھب، جھلک ہے۔ سادگی و عُمدگی کا مرقّع، حسین، دیدہ زیب مشرقی، پہناوے، ہارسنگھار، گہنےپاتے، کھنکتی چوڑیاں، کنگن، مہکتی منہدی، چمکتے دمکتے چہرے، چاہتیں محبتیں، رنگ، خوشبوئیں، دعوتیں، ضیافتیں، شیرینیاں، حلاوتیں، عید کارڈز، پیغامات، سیلفیز کی خوشیاں، رونق میلے… ذرا دیکھیں تو ماں، بیٹیوں نے گھر آنگن کو جیسے ’’چندن‘‘ بنا دیا ہے۔

بےاختیار پیاری سی شاعرہ عنبریں حسیب عنبر کی ایک پیاری سی غزل گنگنانے کو جی چاہتا ہے۔ ؎ ہیں دھنک رنگ سی لڑکیاں عید پر…جیسے اُڑتی ہوئی تتلیاں عیدپر…رنگ، خوشیوں، اُمنگوں سے آراستہ… ہیں منور سبھی بستیاں عید پر…اُس نے بھیجے ہیں چاہت میں لپٹے ہوئے…پھول، خوشبو، حنا، چوڑیاں عید پر…باہمی رنجشیں بھول کر آ ملو…توڑ ڈالو، سبھی بیڑیاں عید پر…کاش! آجائے وہ، جس کے ہیں منتظر…میرا دل، بام و دَر، کھڑکیاں عید پر۔

اِس آرزو، خواہش، دلی تمنا، دُعائے قلب کے ساتھ کہ ؎ خدا کرے آپ کی عید کی خوشیاں… سُرخ گلابوں سی خُوب صُورت ہوں… سب گھڑیاں اور سب لمحے… پُرسعادت ہوں، پُر مسرت ہوں… نئی بہارکے تازہ سبھی غنچے… معمورِ خوشبوئے محبّت ہوں۔ ہماری جانب سے جملہ مسلمانانِ عالم کو عیدالفطر کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہوں۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید