ان دنوں تھرمل رسیدوں (Thermal Receipts) کا استعمال ہماری زندگی میں اتنا عام ہوچُکا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو، جہاں لین دین کے لیے انہیں بروئے کار نہ لایا جاتا ہو۔ چوں کہ تھرمل رسیدیں نکالنے والے پرنٹرز نسبتاً سَستے، تیز اور بےآواز ہوتے ہیں، اس لیے انہیں ہر جگہ ترجیح دی جاتی ہے۔ نیز، ان پرنٹرز میں سیاہی ڈالنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ یہ حرارت کے ذریعے کاغذ پر الفاظ کو اُبھارتے ہیں۔
اس وقت شاپنگ سینٹرز، سُپر مارکیٹس، کریانہ اسٹورز، برانڈڈ آؤٹ لیٹس، فاسٹ فوڈ چینز، فوڈ سینٹرز، بینکس، اے ٹی ایمز، کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ مشینز، ٹرانس پورٹ، پیٹرول پمپس، پارکنگز، آن لائن ٹیکسی سروسز، اسپتالوں، لیبارٹریز، میڈیکل اسٹورز، سنیماز، حتیٰ کہ سرکاری اداروں میں بھی تھرمل رسیدوں یا ٹکٹس کا استعمال عام ہے۔ ہر چند کہ تھرمل پرنٹرز اور رسیدیں کئی اعتبار سے فائدہ مند ہیں، لیکن ان کا بےجا اور حد سے زائد استعمال ہماری صحت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تھرمل رسید کی پہچان کیسےہو؟
اگر کسی رسید کے چمک دار حصّے پر ناخن رگڑنے سے سیاہ لکیر نمودار ہو، تو اس کا مطلب ہے، اس پر بی پی اے یا بی پی ایس نامی کیمیکلز کی بھاری تہہ موجود ہے۔ علاوہ ازیں، اگر پلاسٹک کی تیار کردہ مصنوعات پر ری سائیکلنگ کوڈ، ’’7‘‘ درج ہو، تو اس میں بی پی اے موجود ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔
تھرمل پیپر کیا ہے؟
اس کاغذ پر ایک خاص کیمیکل (عام طور پر بی پی اے یعنی Bisphenol A یا بی پی ایس) کی تہہ موجود ہوتی ہے اور جب یہ کاغذ تھرمل پرنٹر کے گرم حصّے سے گزرتا ہے، تو کیمیائی ردِعمل ظاہر کرتا ہے، نتیجتاً وہ حصّہ سیاہ ہو جاتا ہے، جس سے کاغذ پر تحریر نمایاں ہوجاتی ہے۔
تھرمل پرنٹرز کےفوائد:
تیز اوربے آواز: تھرمل پرنٹرز خاصے تیز اور بےآواز ہوتے ہیں، اس لیے اُن مقامات پر ان کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، جہاں لوگوں کا رش زیادہ ہو۔
سیاہی کے جھنجھٹ سے آزادی: چوں کہ ان میں کارٹریج یا سیاہی ختم ہونے کا جھنجھٹ نہیں ہوتا، اس لیے یہ دیگر پرنٹرز کے مقابلے میں سَستے ثابت ہوتے ہیں۔
تھرمل پرنٹرز کے نقصانات:
تھرمل رسیدیں ہمارے پرس، گاڑی کے ڈیش بورڈ اور ہاتھوں میں کم وبیش ہر وقت ہی موجود ہوتی ہیں، اس لیے ان کا بے جا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انسانی صحت کے لیے ضرر رساں: تھرمل رسیدوں میں موجود بی پی اے کیمیکل جِلد کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر ہمارے ہارمونز کے نظام (Endocrine System) میں خلل ڈال سکتا ہے، جس سے بانجھ پن، ذیابطیس اور دل کے امراض لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
تحریر کا مٹ جانا: ان رسیدوں پر موجود سیاہی زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہتی اور حرارت یا روشنی کا سامنا ہونے کی صُورت میں بالکل غائب ہو جاتی ہے۔
ری سائیکلنگ میں دشواری: کیمیکلز کی وجہ سے ان کاغذات کو عام ردی کے ساتھ ری سائیکل نہیں کیاجاسکتا، کیوں کہ یہ پورےری سائیکلنگ بَیچ ہی کو زہریلا کر سکتے ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی: ان رسیدوں میں موجود کیمیکلز زمین اور پانی میں شامل ہو کر ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
تھرمل رسیدوں میں موجود ضرر رساں کیمیکلز کے اثرات کی جانچ پڑتال کے لیے خُون کے مخصوص ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں، جن سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ آیا ان کیمیکلز نے جسمانی نظام متاثر کیا ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں عام طور پر ڈاکٹرز درج ذیل ہارمونل ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔
مَردوں کے لیے ضروری ٹیسٹ:
ٹوٹل ٹیسٹسٹیرون ٹیسٹ: یہ ٹیسٹ مَردانہ ہارمونز کی سطح جانچنےکے لیے کیا جاتا ہے۔
فولیسیل اسٹیمولیٹنگ ہارمون ٹیسٹ: یہ ٹیسٹ اسپرم کی پیداوار اور تولیدی صحت کا اندازہ لگانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
خواتین کے لیے ضروری ٹیسٹ:
ایسٹریڈیول ایسٹروجن ٹیسٹ: تھرمل رسیدوں میں موجود کیمیکلز خواتین میں ایسٹروجن ہارمونز کا توازن متاثر کرتے ہیں اور ان ہارمونز کی جانچ پڑتال کے لیے ڈاکٹرز خواتین کو یہ ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔
پروگیسٹیرون ٹیسٹ: یہ ٹیسٹ حمل اور ماہ واری میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں کی جانچ کے لیے کیا جاتا ہے۔
ایف ایس ایچ اینڈ ایل ایچ ٹیسٹ: مذکورہ ٹیسٹ پی سی او ایس کی تشخیص میں مدد دیتا ہے۔
مَردوخواتین کے لیے مشترکہ ٹیسٹ:
ٹی ایس ایچ، ٹی تھری، ٹی فور ٹیسٹ: تھرمل پیپرز میں پائےجانے والے کیمیکلز تھائی رائڈ غدود کو بہت جلد متاثرکرتے ہیں، جس سے وزن میں اضافہ یا سُستی محسوس ہو سکتی ہے اور جسم میں تھائی رائڈ غدود کی سطح جاننے کے لیے یہ ٹیسٹ کروایا جاتا ہے۔
ہوما آئی آر ٹیسٹ: یہ جاننے کے لیے کہ آیا کیمیکلز کی وجہ سے جسم شوگر کو کنٹرول کرنے میں مشکل محسوس کررہا ہے، مذکورہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
ایل ایف ٹی: جگر زہریلے مادّوں کو صاف کرتا ہے، اس لیے اس کی کارکردگی کا ٹیسٹ بھی اہم ہے۔
چُوں کہ تھرمل رسیدوں سے ہونے والے نقصانات کا تعلق کسی بیرونی انفیکشن کی بجائے جسم میں بی پی اے اور بی پی ایس کیمیکلز کے جمع ہونے اور ہارمونل بگاڑ سے ہے، اس لیے اس کا علاج روایتی ادویہ کی بجائے احتیاط، جسم سے زہریلے مواد کےاخراج اور لائف اسٹائل کی تبدیلی میں پوشیدہ ہے۔
ذیل میں تھرمل رسیدوں کےنقصانات سے بچاؤ کے لیے چند احتیاطی تدابیر پیش کی جارہی ہیں:
صابن سے ہاتھ دھونا: اگر آپ نے تھرمل رسید کو چُھواہے، تو اس پر موجود کیمیکلز کو ہاتھوں سے ہٹانے کے لیے صابن سے اچّھی طرح ہاتھ دھوئیں۔
سینیٹائزر سے پرہیز: ہاتھوں سے کیمیکلز کے اثرات ہٹانے کےلیے سینیٹائزر ہرگز استعمال نہ کریں، کیوں کہ یہ ان کیمیکلز کو خُون میں شامل کر دے گا۔
نٹرائل گلوز یا ربر کے دستانوں کا استعمال: اگر آپ کا کام رسیدیں بانٹنا ہے، تو نٹرائل گلوز یا ربر کے دستانے پہنیں۔
بچّوں سے دُور رکھیں: رسیدوں کو بچّوں کے ہاتھ میں نہ دیں، کیوں کہ وہ اِسے منہ میں ڈال سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل رسید: اگر ممکن ہو، تو دُکان دار سے ڈیجیٹل رسید (ای میل یا ایس ایم ایس) طلب کریں۔
والٹ میں نہ رکھیں: رسید کو والٹ (Wallet) میں رکھنے کی بجائے الگ لفافے میں رکھیں، تاکہ کیمیکل دیگر اشیاء پر نہ لگے۔
جسم سے کیمیکلز کا اخراج: اگر آپ ایک طویل عرصےسےتھرمل رسیدوں کا استعمال کر رہے ہیں، تو جسم کو زہریلے کیمیکلز سے پاک کرنے کے لیے درج ذیل طریقے اپنائیں۔
پانی کا زیادہ استعمال: تھرمل رسیدوں میں موجود بی پی اے کیمیکل پیشاب کے راستے جسم سے خارج ہوتا ہے۔ لہٰذا، روزانہ 8سے 10 گلاس پانی پینے سے یہ زہریلے مادّے پیشاب کے راستے باہر نکل جاتے ہیں۔
پسینہ بہانا (ورزش) : تحقیق کے مطابق، بی پی اے کی کچھ مقدار پسینے کے ذریعے بھی خارج ہوتی ہے، لہٰذا روزانہ 20منٹ تک ایسی ورزش کریں کہ جس سے پسینہ آئے۔
فائبر سے بھرپور غذاؤں کا استعمال: سبزیاں اور پھل (جیسا کہ بند گوبھی، بروکلی اور ساگ) جگر کو زہریلے مادّے صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں۔