• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ امریکہ کا خیرخواہ نہیں، اسرائیل کی کٹھ پتلی ہے۔ جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہا ہے، ایک سانس میں کہتا ہے کہ اس نے ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا ہے، اس کی فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے، بحریہ کو نابود کر دیا ہے، فوجی تنصیبات اُڑا کر رکھ دی ہیں، سیاسی و مذہبی قیادت کو مار ڈالا ہے۔ مگر دوسری سانس میں نیٹو کو، دوسرے ملکوں کو پکار رہا ہے کہ میری مدد کرو ورنہ ایران سب کو ہڑپ کر لے گا۔ انہیں دھمکیاں بھی دے رہا ہے کہ تم نے میری مدد نہ کی تو ہم بھی یاد رکھیں گے۔ تمہاری مدد نہیں کریں گے۔ اس نے اپنی ساکھ کھو کر اپنے ملک کی مٹی تو پلید کی ہے ، باقی دنیا کو بھی آگ میں جھونکنے کے درپے ہے۔ ایک طرف ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دعوے کر رہا ہے تو دوسری طرف اس کے خلاف مدد کے لئے دنیا کے منت ترلے بھی کر رہا ہے۔ جس ملک کےمختار مطلق ہونے کا دعویدار ہے اس کے غیر منطقی فیصلوں کی وجہ سے وہاں کے ووٹروں میں اس کی ساکھ گرکر 41فیصد رہ گئی ہے۔ 59فیصد اس سے جان چھڑانے کی فکر میں لگ گئے ہیں، اس کے غیر آئینی اقدامات کو امریکی عدالتیں ایک ایک کر کے کالعدم قرار دے رہی ہیں، پھر بھی وہ باز نہیں آ رہا ۔ صہیونی یہودیوں کی طاقتور لابی کے دباؤ پر اس نے یہ کہہ کر ایران پر حملہ کر دیا کہ وہ ایٹم بم بنا رہا ہے، حالانکہ ایران نے بار بار کہا کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا ایران کی مذہبی قیادت نے فتویٰ بھی دے دیا کہ ایٹم بم جیسے ہلاکت خیز ہتھیار انسانیت کے خلاف جرم ہیں اور انہیں تیار کرنا اسلام میں جائز نہیں مگر وہ نہیں مانا۔ حملے کا فیصلہ وہ ایک سال پہلے کر چکا تھا پھر بھی اس نے ایران سے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا۔ ایران اس کے مطالبات مانتا چلا گیا ،پرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے پر اصرار کے سوا اس نے ہرمطالبہ مانا لیکن اس وقت جب دنیا کو یقین ہو چلا تھاکہ امن سمجھوتہ بس ایک دو دن کی بات ہے، اس نے نیتن یاہو کی بات مان لی اور ایران پر آگ برسانا شروع کردی، خود اس کے وزیر خارجہ نے اس کی تصدیق کی اتنا بڑا دھوکہ کھانے کے بعد ایرانیوں نے پلٹ کر جو جواب دیا تو اس کو لینے کے دینے پڑ گئے۔

زمینی صورتحال اس وقت وہ نہیں جو بدترین سنسر شپ کی وجہ سے غیر ملکی بالخصوص صہیونی ذرائع ابلاغ بتا رہے ہیں۔ وہ اپنے نقصانات کا ذکر تک نہیں کرتے اور ایران کی تباہی میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ایک اسکول پر حملہ کرکے پونے دو سو کم سن بچیوں کی جانیں لے لیں یا سائبر ٹیکنالوجی کی مدد سے ایران کے رہبر اعلیٰ قومی سلامتی کے مشیر اور کچھ جرنیلوں کو شہید کردیا۔ اس کے میزائل اور ڈرون حملوں نے بھی نقصان پہنچایا۔ مگر غیر جانبدار غیر ملکی ذرائع نے شواہد کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ وہ اس غیر اخلاقی جنگ میں صرف پہلے دس دن میں اپنے قومی خزانے کو 13سو ارب ڈالر کا ٹیکہ لگا چکا ہے اور محکمہ جنگ نے مزید دو سو ارب ڈالر مانگے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمزکو بند کرکے تیل کی فراہمی جوروکی ہے اس سے پوری دنیا میں معاشی زلزلہ آگیا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مہنگائی ناقابل برداشت ہورہی ہے، بارہ ممالک براہ راست جنگ کی زد میں ہیں اور باقی عالمگیر جنگ کے روز بروز بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار ہوچکے ہیں موجودہ جنگ میں اسرائیل کی بھی فوجی تنصیبات، فیکٹریاں اور بلند و بالا عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی بربادی کے ساتھ مسلم عرب ملکوں کو بھی کافی نقصان اٹھانا پڑا جو ایک بڑا المیہ ہے۔ وہاں سے غیر ملکی خصوصاً مغربی ممالک کی کمپنیاں اپنا کاروبار بند کرکے بھاگ رہی ہیں اور ان کے ملازمین امریکہ اور اسرائیل کو بددعائیں دے رہے ہیں۔ امریکی انٹلیجنس کے سربراہ جو کینٹ نے احتجاجاً استعفیٰ دیدیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کا کوئی جواز نہ تھا۔ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا تھا نہ اس کا ایسا کوئی ارادہ تھا۔ اس جنگ میں بھارت بھی جارح قوتوں کی منصوبہ بندی میں برابر کا شریک ہے چنانچہ اسے امریکہ میں دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری قائم کرنے کا ٹھیکہ مل گیا ہے۔ پاکستان کی ویسے تو بڑی تعریفیں کی جارہی ہیں مگر امریکی انتظامیہ کے ایک بزرجمہر نے پانچ ملکوں کو ایٹمی بدمعاش قرار دے کر ان سے نمٹنے کی سفارش کی ہے۔ ان میں ایران، روس، چین اور شمالی کوریا کے ساتھ پاکستان بھی شامل ہے۔ روس کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ ایران کو سیٹلائٹ سہولت اور ٹیکنالوجی مہیا کر رہا ہے جن کی مدد سے ایران امریکہ اور اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا رہاہے۔ یہ یوکرین کو روس کیخلاف امریکی ہتھیاروں اور اربوں ڈالروں کی فراہمی کا نتیجہ ہے روسی صدر اعلان کرچکےہیں کہ وہ پوری طرح ایران کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے ایران پر حملے روکنے کا بھی بار بار مطالبہ کیا ہے۔ چین کا کردار خاموشی سے اپنا کام کرنا ہے جو وہ کر رہا ہے ویسے تو پروپیگنڈے کے محاذ پر امریکہ اور اسرائیل ایران کو خدانخواستہ صفحہ ہستی سے مٹا چکے ہیں مگر اس حقیقت کو چھپائے ہوئے ہیں کہ اس جنگ میں اب تک امریکہ کے 16لڑاکا طیارے تباہ اور دو سب سے بڑے بحری بیڑوں کا بیڑا تقریباً غرق ہوچکا ہے، ڈر کے مارے ان کے بچے کھچے ڈھانچے عرب ساحل سے جہاں سے وہ ایران پر حملہ کر رہے تھے دور پہنچائےجاچکے ہیں۔ وہ جب سے وائٹ ہائوس میں آیا، اس نے اپنے ملک کے آئین، روایات اور بین الاقوامی قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھ لیا ہے جس کیخلاف امریکی عدالتیں جرأت مندانہ فیصلے بھی دے رہی ہیں مگر اسے اقوام متحدہ کی پروا ہے، نہ اپنی قوم کی۔ وہ اس کام کو مکمل کرنا چاہتا ہے جسے ہٹلر اورمسولینی نے ادھورا چھوڑ دیا تھا۔

تازہ ترین