• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شیعہ علما کے درمیان ہونے والی ملاقات کے حوالے سے ایک طوفان برپا ہے۔ کچھ بیرونِ ملک مقیم پاکستان مخالف عناصر اس ملاقات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر رہے ہیں، حقائق کو مسخ کر رہے ہیں اور پاکستان میں انتشار اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 18 مارچ کو 23 شیعہ علما کو افطار ڈنر پر مدعو کیا تھا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب ایران-اسرائیل جنگ اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے باعث شیعہ برادری سمیت تمام پاکستانی صدمے سے دوچار ہیں اور جنگ کے باعث پاکستان کو سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس ملاقات کا مقصد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور حساس مذہبی امور پر براہِ راست بات چیت کرنا تھا۔ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آیت اللہ خامنہ ای سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ ان سے تین بار مل چکے ہیں، خامنہ ای ان سے محبت رکھتے تھے اور وہ خود بھی ان کی شہادت پر وہی دکھ محسوس کرتے ہیں جو شیعہ برادری محسوس کرتی ہے۔ فیلڈ مارشل نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکہ ایران تنازع میں ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور اِن شا اللہ ایران ایک کامیاب قوم بن کر ابھرے گا۔ گفتگو کے دوران جب گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے واقعات کا ذکر ہوا تو فیلڈ مارشل جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ فوجی تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں اور فوجیوں کو شہید کرتے ہیں، وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں اور اگر وہ پاکستان سے محبت نہیں کرتے تو انہیں ملک چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ بیان دہشت گرد عناصر کے تناظر میں دیا گیا تھا۔ ان کے یہ خیالات ریاست کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی کے مطابق ہیں۔بدقسمتی سے اس ملاقات کے بعد بعض افراد، جن میں کچھ سیاسی وابستگی رکھنے والے علما اور بیرون ملک بیٹھے خود ساختہ صحافی شامل ہیں، نے اس ملاقات کو متنازع بنا دیا اور فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کر دیا جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسرائیل ایران اور پاکستان کو گریٹر اسرائیل کے نظریے کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کھل کر کہہ چکے ہیں کہ ایران اور پاکستان ان کیلئے سب سے بڑے خطرات ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، خصوصاً پاکستان بھارت حالیہ ’’معرکہ حق‘‘ میں پاکستان کی کامیابی کے بعد بھارت اور اسرائیل کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ دشمن قوتیں پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور داخلی عدم استحکام پیدا کرنا ان کا آسان ترین ہتھیار ہے۔ یہ دشمن جانتے ہیں کہ جب تک فیلڈ مارشل عاصم منیر فوج کی قیادت کر رہے ہیں، وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ عاصم منیر ایک مضبوط سپہ سالار ہیں، ان کا ایمان اور حافظ قرآن ہونا ان کی طاقت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ اللہ کی مدد پر یقین رکھتے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ ’’معرکہ حق‘‘ میں پاکستان کو غیبی مدد حاصل ہوئی جس کا ہم نے مشاہدہ بھی کیا۔ دشمن ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے سے بھی ناخوش ہیںجسکے تحت پاکستان نے سعودی عرب کو جوہری تحفظ فراہم کیا ہے۔ اسی لیے وہ فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کر کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان فوج کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی ملک کی فوج کمزور ہوتی ہے تو وہاں افراتفری اور خانہ جنگی جنم لیتی ہے جیسا کہ عراق، لیبیا اور شام میں ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علما، دانشور اور شیعہ کمیونٹی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والے عالم دین کو قومی سلامتی کیساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور ایسے عناصر کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ شیعہ علماء اور برادری سے اپیل ہے کہ وہ منفی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنے، ریاست مخالف عناصر کے ہاتھوں میں نہ کھیلے اور پاکستان فوج اور اس کی قیادت کا ساتھ دے تاکہ ملک درپیش چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو ایران کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑا رہا جس پر ایران کی قیادت اور عوام نے بھی سوشل میڈیا پر ’’شکریہ پاکستان‘‘ کہہ کر شکریہ ادا کیا۔یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے کہ حکومت پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کے نتیجے میں پیر کے روز جنرل عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ذاتی رابطہ کیا اور انہیں جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف مائل کیا جسکے بعد ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی اور ایرانی بجلی گھروں پر حملے پانچ دن کیلئے موخر کر دیے تاکہ مذاکرات کا موقع دیا جا سکے حالانکہ اسرائیل اسکے خلاف تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایران کی قیادت سے بات چیت کی جسکے مثبت نتائج سامنے آئے اور اس حوالے سے رواں ہفتے امریکی وزیر خارجہ کی اسلام آباد میں اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقات متوقع ہے۔ ایسے وقت میں جب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے، آج وہی سپہ سالار جسے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اسی نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا اور ایران کو مزید تباہی سے بچایا۔ فیلڈ مارشل پر تنقید کرنا دراصل ملک سے دشمنی کے مترادف ہے اور ایسا کرنے والے افراد نہ پاکستان کے خیرخواہ ہیں، نہ ہی ایران کے۔

تازہ ترین