• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران سے متعلق کشیدگی کے ماحول میں پاکستان نے غیر معمولی سفارتی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا اور ایک ذمہ دار، متوازن اور مؤثر ریاست کے طور پر خود کو منوایا، جب خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے اور دنیا ایک بڑے تصادم کے خدشات سے دوچار تھی، اس وقت پاکستان نے خاموش مگر مؤثر سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا، بغیر شور شرابے کے، بغیر غیر ضروری بیانات کے، پاکستان نے مختلف عالمی دارالحکومتوں کے درمیان پیغام رسانی کا ایسا نظام قائم کیا جس نے ممکنہ بحران کو ٹھنڈا کرنے میں مدد دی، پاکستان نے ایک ایسا سفارتی پل بنایا جس نے واشنگٹن سے تہران تک رابطوں کو ممکن بنایا، یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے دیکھا کہ جس ملک کو اکثر مسائل کی علامت سمجھا جاتا تھا وہی ملک ایک حل کے طور پر سامنے آیا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون توازن ہے، نہ وہ بلاوجہ کسی ایک عالمی بلاک کا حصہ بنتا ہے اور نہ ہی بلاوجہ کسی کا مخالف بنتا ہے، یہی حکمت عملی اسے ایک قابلِ قبول ثالث بناتی ہے، اس صورتحال میں پاکستان نے نہ صرف اپنی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ اپنی سفارتی مہارت کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا، جس نے عالمی سطح پر اس کے وقار کو بلند کیا۔اس کے برعکس بھارت اس پورے منظرنامے میں سیاسی اور سفارتی محاذ پر واضح کمزوری کا شکار دکھائی دیا، بھارت نہ تو کسی مؤثر ثالثی کردار میں سامنے آ سکا اور نہ ہی اس کی خارجہ پالیسی اس بحران میں کوئی نمایاں اثر چھوڑ سکی، خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کے دعووں کے باوجود بھارت اس حساس مرحلے پر عالمی اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا، اس کی سفارتی کوششیں محدود رہیں اور وہ بڑی طاقتوں کے بیانیے کے پیچھے کھڑا نظر آیا، جس سے اس کی خودمختار خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھے، نتیجتاً، جہاں پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار اور فعال کردار کے طور پر پیش کیا، وہیں بھارت اس اہم موقع پر مؤثر سفارتی موجودگی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔امریکہ خود کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے ، دریائے نیل سے فرات تک گریٹر اسرائیل کا اسرائیلی منصوبہ بھی تباہ ہوچکا ہے،مزے کی بات ہے ایران اور روس دونوں سے تیل خریدنے کی پابندی کو خود امریکہ نے ختم کرکے اپنی ناکامی کا اعلان کردیا ہے،روس ریکارڈ قیمتوں پر تیل بیچ کریوکرین جنگ کے اخراجات پورے کر رہا ہے،اگرایران نے آبنائے ہرمزسے گزرنے والے ہر جہاز پر 10 فیصد فیس عائد کر دی تو اسے سالانہ 800 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے، ایران جنگ کے بعد طاقتور ترین بن کر ابھرے گا۔موجودہ حالات میں امریکہ اور اسرائیل کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے جبکہ ایران اپنی علاقائی اہمیت مزید مستحکم کرتا دکھائی دیتا ہے، اگر آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے پر کسی بھی قسم کی پابندی یا فیس عائد ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے اور توانائی کی سیاست میں نئی صف بندیاں سامنے آئیں گی، ایسے میں پاکستان جیسے ممالک، جو توازن اور رابطے کی پالیسی رکھتے ہیں، مستقبل میں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ایران پر مسلط کی گئی جنگ میں وزیر اعظم شہباز شریف ، سینیٹر اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان نہ امریکہ کا غلام ہے اور نہ ایران کا مخالف، پاکستان ایک بیلنس ہےاور آج کی دنیا میں سب سے قیمتی چیز یہی بیلنس ہے،پاکستان وہ ملک ہے جو صرف اپنے مسائل میں نہیں الجھا بلکہ دنیا کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ نئے منظر نامے میں یہ حقیقت ابھر کر سامنے آئی ہے کہ پاکستان اب صرف اپنے داخلی مسائل میں الجھا ہوا ملک نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست میں ایک ذمہ دار، فعال اور مؤثر کردار ادا کرنیوالا ملک ہے ، پانچ سال پہلےجو کہتے تھے ٹینکوں میں پٹرول نہیں انھیں خبر دیدیں کہ پاکستان عالمی سطح پر بڑا کھلاڑی بن چکا ہے۔ آخری بات ، ایران جنگ خاتمےسے پہلے ہی دنیا پر واضح ہوگیا ہے کہ پاکستانی سیاسی اور عسکری ٹیم صرف جنگ کے میدان میں ہی نہیں بلکہ سفارت کاری کے میدان میں بھی کمال کرسکتی ہے، بـے شک اللّٰہ پاک بہادروں کو عزت سے نوازتا ہے،الحمد للّٰہ ،پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

تازہ ترین