• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دسمبر کی ایک سرد اور اندھیری رات۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آواز رات کے اس سنّاٹے کو چیرتی تو عجیب ہیبت ناک احساس پیدا ہوتا۔ گولیوں کی آواز نہ جانے کہاں سے آرہی تھی۔ مَیں اُس لمحے کو کوس رہا تھا، جب اپنی کزن سعدیہ کے ساتھ اُس کی سہیلی ارم کے گاؤں آیا تھا۔ ارم اور سعدیہ ایک ہی کالج کی طالبات تھیں۔ امتحانات قریب ہونے کی وجہ سے چُھٹیاں ہو چُکی تھیں۔ پرسوں کیمسٹری کا پیپر تھا اور سر صدیقی کے نوٹس کوشش کے باوجود نہیں مل سکے تو ارم نے سعدیہ سے کہا کہ شہباز کے ساتھ آکر نوٹس لے جاؤ۔ 

میری تیاری ہو چُکی ہے۔ ہم چھے بجے شام چلے تھے اور آٹھ بجے کے قریب اُس کے گاؤں پہنچ گئے۔ دو گھنٹے کھانےپینے اور گپ شپ میں لگ گئے۔ سعدیہ اور مَیں بچپن ہی سے ایک دوسرے سے منسوب تھے۔ اُس کے اصرار پر مَیں اُس کے ساتھ چلا آیا۔ پیپر کی مجبوری نہ ہوتی تو کم ازکم ایمرجینسی میں کبھی نہ آتا۔ ابو عشاء کے بعد گھر سے باہر رہنے کے سخت خلاف تھے۔

ارم چاہتی تھی کہ ہم رات وہیں رُک جائیں۔ سعدیہ بھی یہی چاہتی تھی، مگر مَیں وہاں کسی صُورت نہیں رُک سکتا تھا۔ ایک تو ابّو کا ڈر تھا، دوسرا سعدیہ کے والدین کی پریشانی الگ تھی۔ جس کا شاید اُسے خُود احساس نہیں تھا۔ یہی سوچ کر مَیں نے اُسے سخت لہجے میں کہا۔ ’’دیکھو، چلنا ہے تو چلو، ورنہ مَیں اکیلا ہی چلا جاتا ہوں۔‘‘ یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور ہم رات دس بجے کے قریب گاؤں سے چل ہی پڑے۔ گاؤں تک مین سڑک کا فاصلہ تقریباً آدھےگھنٹے کا تھا۔ 

گاؤں کا ماحول اور سردیوں کی رات… ہر طرف سناٹے کا راج۔ ہمارے قدم تیزی سے اُٹھ رہے تھے۔ راستے میں کتوں اور گیدڑوں کی عجیب و غریب آوازوں نے ماحول مزید خوف ناک کردیا تھا۔ سعدیہ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور بولی۔ ’’شہباز! تم ڈر رہے تھے۔ 

اس لیے مَیں نے تمہارا ہاتھ تھام لیا ہے۔‘‘ ’’جی، اس بہادری کا شکریہ۔ میرا ہاتھ تھامنے سے پہلے اپنے ماتھے پر آنے والا پسینہ صاف کرلیں محترمہ!‘‘ مَیں نے جواباً چِڑ کر کہا۔ حالاں کہ اس خوف ناک سناٹے میں میری اپنی حالت کچھ کم خراب نہ تھی۔ ’’ویسے تمھیں کس پاگل نے کہا تھا کہ ایسے خوف ناک ماحول میں چل پڑو۔ رات گاؤں میں گزار لیتے، تو کوئی قیامت نہیں آجاتی۔‘‘

سعدیہ بھی قدرے غصّے سے بولی۔ ’’پتا نہیں مجھے کسی احمق نے مشورہ دیا تھا کہ کچھ سوچے سمجھے بغیر منہ اُٹھا کے کیمسٹری کے نوٹس لینے تمھارے ساتھ چل پڑوں۔‘‘ مَیں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ وہ خاموش تیز تیز قدم اٹھاتی رہی، تو مَیں نے نسبتاً نرمی سے کہا۔’’ابّا جان کی ڈانٹ ڈپٹ بھی کسی قیامت سے کم نہیں۔ وہ جس طرح میری کلاس لیں گے، مَیں ہی جانتا ہوں۔‘‘

آخر پگڈنڈی نُما کچی سڑک ختم ہوئی اور ہم مین سڑک تک پہنچ ہی گئے۔ اب ہم کسی بس یا ٹیکسی کے انتظار میں تھے۔ ہر طرف سناٹے، ویرانی کا راج تھا۔ وقفے وقفے سے دُور کہیں الوؤں کی آواز گونجتی، تو جسم میں خوف کی لہر دوڑ جاتی۔ سعدیہ نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔’’کاش! زندگی بھر تم میرا ہاتھ یونہی تھامے رکھو اور…‘‘ مَیں نے ماحول کی تلخی کم کرنے کے لیے سعدیہ کی طرف دیکھ کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ ’’بکومت…‘‘ وہ ہنوز خوف زدہ سی تھی۔ اُسی وقت دُور سے ایک گاڑی آتی دکھائی دی۔

قریب آئی، تو مَیں نےاُسے رُکنے کا اشارہ کیا، مگر ڈرائیور نے لمحہ بھر کےلیے بھی رفتار آہستہ نہیں کی۔ گاڑی فراٹے بھرتی آگے نکل گئی۔ سنسان سڑک پر کھڑے کھڑے خوف میں تو اضافہ ہو ہی رہا تھا، یخ بستہ ہوا سے دانت بھی بجنے لگے تھے۔ پھر گاؤں اور شہر کی سردی میں بھی خاصا فرق آ جاتا ہے اور یہ فرق بھی ہمیں بےچین کیے ہوئے تھا۔ اُس کے بعد آنے والی بس نے بھی بریک نہیں لگائی۔ ممکن ہے یہ اُن کا اسٹاپ نہ ہو یا اِس وقت نہ روکتے ہوں۔ مگر انسانیت بھی کوئی چیز ہے۔ 

رات کے اِس پہر اگر کوئی کھڑا ہے، تو کسی مجبوری ہی میں ہوگا۔ کسی بس یا کار کے گزرنے پر سناٹا ختم ہوتا تو کچھ خوف بھی کم ہوجاتا۔ وگرنہ تو ہر طرف سناٹا تھا اور دُور سے آتی اُلوؤں کی آوازیں۔ ’’ویسے ہمیں اُلوؤں کی آوازوں سےخوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ 

سعدیہ نے اپنا خوف چُھپاتے ہوئے کہا۔ ’’اِس ماحول میں خوف تو قدرتی امر ہے، لیکن تم یہ کیوں کہہ رہی ہو؟‘‘ مَیں نے جیکٹ کی جیب سے اپنا دوسرا ہاتھ نکالا اورعینک درست کرتے ہوئے پوچھا۔ ’’اِس لیے کہ ہم دونوں بھی تواُلّوہی ہیں، جو اِس وقت یہاں یوں کھڑے ہیں۔‘‘مَیں اُس کی بات پر مُسکرا دیا۔ ’’چلو، پھر کسی گاڑی کا انتظار چھوڑ کے اُلوؤں ہی کے پاس چلتے ہیں۔‘‘ 

وہ بھی دھیرے سے مسکرائی، مگر چہرہ دوسری طرف کرلیا۔ شاید اس ماحول میں مسکرانا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ خیر، لگ بھگ آدھے گھنٹے کےصبر آزما انتظار کے بعد ایک ٹیکسی آتی دکھائی دی۔ اُسے رُکنے کا اشارہ کیا۔ ٹیکسی رُکی تو مَیں نے شہر جانے کا کہا۔ اُس نے بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو ہم پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئے۔ فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ ایک مسافر بیٹھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد جب مَیں نے غور کیا، تو دیکھا کہ مسافر ڈھاٹا باندھے، ہاتھ میں کلاشنکوف تھامے بیٹھا ہے۔ 

اس کی ٹانگوں کےپاس ایک بوری پڑی تھی، جس سے انسانی سر کا کچھ حصّہ نظر آرہا تھا۔ یہ سب دیکھ کر میری ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ شاید سعدیہ نے بھی یہ سب دیکھ لیا تھا۔ اُس کی پیشانی پسینے میں بھیگی تھی اور جب اُس نے خوف کےعالم میں میرا ہاتھ نہایت مضبوطی سے پکڑا، تو مجھے یوں لگا، جیسے مَیں نے برف کی کوئی سل تھام لی ہو۔

ٹیکسی مخصوص رفتار سےاپنی منزل کی جانب بڑھتی رہی۔ باہر گھپ اندھیرا تھا۔ ایک خوف سے نکل کر ہم دوسرے بڑے خوف میں داخل ہوگئے تھے۔ دہشت سے ہمارا بُرا حال تھا۔ ہمیں اپنا انجام بھی سامنے نظر آرہا تھا۔ مَیں اُس لمحے کو کوس رہا تھا۔ جب سعدیہ کے ساتھ اِس گاؤں آنے کا ارادہ کیا تھا۔ اِن ہی سوچوں میں گم تھا کہ اُس نقاب پوش نے کڑک دار آواز میں کہا۔ ’’تھوڑا آگے ایک تنگ گلی کے پاس اتار دینا۔ آگے راستہ بند ہوگا۔‘‘ اس کے لہجے میں عجیب سفّاکی تھی، شاید یہ اُس کا انداز ہو۔

ہم شہر کی حدود میں داخل ہو رہے تھے۔ ’’شہباز…‘‘سعدیہ نے خوف سے میرے کان میں سرگوشی کی، جیسے پوچھ رہی ہو۔ اب کیا ہوگا…؟؟ مَیں نے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا، جو کسی یرقان زدہ مریض کا لگ رہا تھا۔ میری اپنی حالت بھی مختلف نہیں تھی۔ مَیں دل ہی دل میں سعدیہ اور اپنی خیریت کی دُعائیں مانگ رہا تھا۔ سعدیہ اتنی خوف زدہ تھی کہ بچّوں کی طرح مجھ سے چپک گئی تھی۔ اُس کا بدن یوں لرز رہا تھا، جیسے ملیریا کا شدید بخار ہو۔ مجھے اندازہ تھا، یہ سب خوف کے سبب ہے اور خوف بھی بےجا نہیں تھا۔ 

مَیں سوچ رہا تھا کچھ دیرمیں ہم دونوں کا شمار زندوں میں نہیں، مُردوں میں ہوگا۔ مَیں چوں کہ اخبارات و جرائد میں لکھتا تھا تو فوری طور پر میرے ذہن میں ایسی خبریں گردش کرنے لگیں، جن میں بوریوں میں بند لاشوں کے ملنے کی اطلاع ہوتی تھی۔ کل کے اخبارات میں ہمارے بارے میں بھی شاید ایسی ہی چھوٹی سی خبر لگی ہو۔ ’’یااللہ!خیر…‘‘ مَیں نے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے رب کو پکارا اور جو جو دُعائیں بھی یاد تھیں، پڑھنے لگا۔ مصیبت میں بس اِک اللہ ہی تو یاد آتا ہے۔

اچانک ٹیکسی ایک دکان کے سامنے رُکی۔ وہ دکان کُھلی ہوئی تھی، جب کہ اس کے ساتھ کی باقی دکانیں بند تھیں۔ باہر مکمل سناٹا تھا۔ اِدھر ہمارے اندر صرف خوف کا بسیرا تھا۔ سڑک پر ایک دن پہلے ہونے والی بارش کی وجہ سے جگہ جگہ پانی کھڑا تھا۔ وہ نقاب پوش شخص تیزی سے ٹیکسی سے نکلا اور اپنی کلاشنکوف دُکان کے سامنے رکھ آیا۔ عین اُسی جگہ دکان کے اوپر لگےچھوٹے سے بلب کی روشنی میں، میں نے غور سے دیکھا اور پھر میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ’’ارے… یہ تو چھتری ہے۔‘‘ ’’کیا ہوا باؤجی!‘‘ ڈرائیور نے میرے اچانک بولنے پر پوچھا۔ ’’نہیں…کچھ نہیں، کچھ نہیں۔‘‘

مَیں نے بوکھلاہٹ میں کہا۔ اس دوران وہ آدمی واپس آگیا۔ اب اُس کے چہرے پر نقاب نہیں تھا۔ وہ بوری بند لاش اُٹھاتے ہوئے بولا۔ ’’یہ ٹوپیاں بھی خاصی وزنی ہیں، اچھا بھئی، خدا حافظ۔‘‘ اور یہ کہہ کر زور سے ٹیکسی کا دروازہ بند کر کے چل دیا۔ کرایہ شاید اُس نے پہلے ہی دے دیا تھا۔ اب اس بوری بندلاش کا معما بھی حل ہوگیا۔ مَیں سارا معاملہ سمجھ گیا۔ گاڑی کے اندر اندھیرے میں بوری میں سے جھانکتی ہوئی ایک ٹوپی یوں محسوس ہوئی، جیسے کسی لاش کا سر ہو۔ اصل صورتِ حال کنفرم ہوئی تو مَیں نے اطمینان کا سانس لیا۔

ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ ’’سعدیہ…سعدیہ…!!‘‘ مَیں نے اپنی منگیتر کو ہلایا تو وہ چونک کر بولی۔ ’’کک… کیا ہوا…؟وہ شخص چلاگیا۔‘‘ ’’سعدیہ! وہ سب ہمارا وہم تھا۔‘‘ مَیں نے سرگوشی میں کہا۔ ’’کیا…‘‘ سعدیہ نے حیرت سے اونچی آواز میں کہا۔ تو اب ڈرائیور بھی بوکھلا گیا۔ ’’کیا ہوگیا بیٹا جی…‘‘’’کچھ نہیں انکل…بس، یہیں موڑ کاٹ کے ٹاور کے پاس گاڑی روک دیں۔‘‘ مَیں نے دھیمی سی مسکراہٹ سےکہا کہ اب ڈرائیور کو اپنی بےوقوفی کا کیا بتاتے۔ گھر کے سامنے ڈرائیور نےگاڑی روک دی۔ مَیں نے ڈرائیور کو ادائیگی کی اور وہ چلاگیا۔

’’سعدیہ! تم اِس وقت بخار میں تپ رہی ہو۔‘‘ مَیں نے ڈوربیل بجاتے ہوئے کہا۔ جواباً وہ خاموش رہی۔ شاید ابھی بھی خوف کی فضا سے باہر نہیں آئی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہم گھر کے اندر بیٹھے تھے۔ آنٹی پانی لائیں تو کہنے لگیں۔ ’’بہت دیر کردی، تم لوگوں نے۔‘‘ پھر سعدیہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر فکرمندی سے بولیں۔ ’’لو، سردی کی وجہ سے سعدیہ کو بخار بھی ہوگیا۔‘‘ ’’آنٹی! بخارسردی کی وجہ سے نہیں، خوف کی وجہ سے ہوا ہے۔‘‘ مَیں نے کہا، تو وہ حیرت سے دیکھنے لگیں۔ 

تب مَیں نے ہنستے ہوئے ساری رُوداد سنا دی۔ مکمل واقعہ سُننے کے بعد آنٹی اورخُود سعدیہ بھی دیر تک ہنستے رہے۔ زندگی میں پہلی بار مجھے اندازہ ہوا کہ اکثر خوف باہر نہیں، ہمارے اندرہوتے ہیں۔ اور کبھی کبھی فریبِ نظر بھی کس قدراذیت ناک ہو جاتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید