صدر مملکت نے ایندھن کے استعمال میں کمی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے آگاہی مہم شروع کرنے پرزور دیا ہے۔
صدر آصف زرداری کی زیر صدارت معیشت، توانائی اور علاقائی صورتحال پر مشاورتی اجلاس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزار خواجہ آصف، محسن نقوی، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، علی پرویز ملک اور احد خان چیمہ میں شرکت کی۔
اسلام آباد سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے بھی شرکت کی۔
اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور جبکہ وفاقی وزرا مصدق ملک، شزا فاطمہ خواجہ اور اویس لغاری نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری، رانا ثناء اللہ اور مریم اورنگزیب بھی شریک تھے۔ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں علاقائی صورتحال کے پاکستان کے سیکیورٹی ماحول، معاشی منظر نامے پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر بریفنگ میں اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں سے ایندھن کی فراہمی میں کوئی خلل نہیں آیا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے فی الحال ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں، ایندھن سے متعلق مستقبل کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق نائب وزیر اعظم نے اجلاس کو حکومت کی فعال سفارتی کوششوں، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت سمیت تنازع میں شامل ممالک کے رہنماؤں سے روابط سے آگاہ کیا۔
اعلامیہ کے مطابق نائب وزیر اعظم نے اپنے آئندہ دورہ بیجنگ کے بارے میں بھی اجلاس کو بریف کیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو وزیر اعظم کی جانب سے متعدد بار مسترد کیا گیا، کفایت شعاری کے اقدامات سے بچائی گئی رقوم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کفایت شعاری کا عمل حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے سے شروع کیا، ترقیاتی بجٹ میں کمی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کے فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
صدر مملکت نے کہا معاشی طور پر کمزور طبقے کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انھوں نے ہدایت کی کہ معاشی نظم و نسق اور توانائی کی منصوبہ بندی کے لیے مربوط فیصلے کیے جائیں۔
اعلامیہ کے مطابق انھوں نے ایندھن کے استعمال میں کمی پر زور دیا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے آگاہی مہم شروع کرنے پر زور دیا۔