ریاست جموں و کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اس کی پہلی دفاعی لائن۔ اس سے قطع نظر کہ ریاست کے مستقبل کا حتمی فیصلہ ہونے تک یہ دونوں علاقے پاکستان کا آئینی حصہ نہیں ہیں، لیکن 11مئی 1971ء کے ایک نوٹیفکیشن کے تحت یہ طے ہوا تھا کہ تمام عملی مقاصد کیلئے انہیں وفاق کے کسی صوبے کی طرح ہی سمجھا جائے گا۔ گلگت بلتستان کو تو آئینی حصہ بنائے بغیر نیم صوبائی درجہ دے دیا گیا، مگر آزاد کشمیر کی پہلے سے مخصوص حیثیت برقرار رکھی گئی۔ تاہم آزاد کشمیر ہو یا گلگت بلتستان روزمرہ کے تمام معاملات میں وہ برابر کے اسٹیک ہولڈرز ہیں اور ان تمام حقوق، مراعات اور اختیارات کے مستحق ہیں جو پاکستان کے صوبوں کو حاصل ہیں۔ اس وقت کوئی تیس لاکھ کشمیری دنیا کے مختلف ملکوں میں موجود ہیں، ان میں سے نصف سے زیادہ پاکستان کے شہروں میں مہاجرین کے طور پر، کاروباری مقاصد کیلئے، یا روزگار کے سلسلے میں قیام پذیر ہیں، یہ لوگ حکومت پاکستان کے مقررہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ جو لوگ آزاد کشمیر میں ہیں، وہ سینٹرل بورڈ آف ریونیو آزاد کشمیر کو ٹیکس دیتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے تاجروں کی کاروباری منڈیاں پاکستان کے ملحقہ شہر ہیں۔ آزاد کشمیر میں ٹیکس ادا کرنے کے باوجود جب ان کا سابقہ ایف بی آر پاکستان سے پڑتا ہے تو وہ الگ ٹیکس مانگتا ہے۔ تاجروں کے مطالبے پر ایف بی آر نے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کہ آزاد کشمیر میں ٹیکس ادا کرنے والوں کے نام فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بھی درج کیے جائیں، مگر اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، آزاد کشمیر ایل پی جی ایسوسی ایشن کے صدر شوکت سلیم شائق نے جو اپنے ضلع میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے ہیں، اس دو عملی کے خلاف ایک بیان میں شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے ٹیکس دہندگان کو دیدہ دانستہ ذہنی اور مالی طور پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان کے نام ایف بی آر میں درج نہ ہونے کے باعث پاکستان میں کسی بھی قسم کے کاروبار اور جائیداد کی خریدو فروخت کے موقع پر انہیں نان فائلر شمار کیا جاتا ہے اور ان سے اضافی ٹیکس لیے جاتے ہیں۔ یہ نوٹیفکیشن 11 دسمبر 2025ء کو جاری ہوا تھا۔ اس پر عملدرآمد نہ ہونا ایف بی آر حکام کی نااہلی کا نتیجہ ہے، جس کا وزیراعظم پاکستان یا وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کو سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔
آزاد کشمیر ویسے تو پرامن خطہ ہے، کنٹرول لائن پر واقع دیہات پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری کے باوجود لوگ بڑی ثابت قدمی سے روزمرہ امور نمٹا رہے ہیں، مگر اسے حکومت آزاد کشمیر کی اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت کہیے یا حکومت پاکستان کے کارپردازان کی بے حسی کہ طے شدہ معاملات سے بھی اغماض برتا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کی شکایات دور ہونے کے بجائے ان میں اضافہ ہورہا ہے۔ وزارت امور کشمیر کا کردار اس وقت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے وہی ہے جو 1905ء میں انگریزوں نے جموں و کشمیر کے مہاراجہ کیساتھ طے کیا تھا، یعنی دونوں علاقوں کی حکومتیں اس وزارت کے مرضی و منشا کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتیں۔ پاکستان کے اداروں میں نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں جن سے عوام میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔
ٹیکسوں کا معاملہ ایسے ہی مسائل کا حصہ ہے، اس کے علاوہ پاکستان میں کھربوں روپے کی کشمیر پراپرٹی کی آمدنی کشمیر کونسل کو ملتی ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی اور انکم ٹیکس سمیت مختلف محصولات کی آمدنی بھی کشمیر کونسل ہی کوجاتی ہے۔ وفاقی ٹیکسوں میں آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان کا حصہ برائے نام ہے۔ حکومت پاکستان کا وعدہ ہے کہ کشمیر کونسل کی آمدنی کے عوض آزاد کشمیر کے بجٹ کا خسارہ پورا کرے گی جو ہر سال 10 ارب روپے سے زیادہ ہوتا ہے،مگر یہ خسارہ کبھی پورا نہیں کیا گیا، عموماً پانچ، چھ ارب روپے دے کر حساب چکتا کردیا جاتا ہے۔ منگلا ڈیم کی رائلٹی آزاد کشمیر کو نہیں ملتی حالانکہ تربیلا ڈیم کی رائلٹی خیبر پختونخوا کو دی جاتی ہے۔ اس کی بجائے بجلی کے استعمال کا معاوضہ دیا جاتا ہے جو مجموعی آمدنی کا صرف اعشاریہ 2فیصد بنتا ہے۔ نیلم، جہلم پاور پراجیکٹ ایک ہزار میگا واٹ پیدا کرنے کا بڑامنصوبہ ہے۔ اس حوالے سے کوئی معاہدہ ہی نہیں کیا گیا۔ میرپور والوں کو بجلی مفت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
بجلی مفت کیا ملتی، یہاں بیس، بیس گھنٹے لوڈشیڈنگ کی شکایت عام ہے۔ چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سمیت تمام بڑے عہدوں پر افسر پاکستان کی سول سروس سے بھیجے جاتے ہیں جنہیں لینٹ افسر کہا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کا انتظام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان کے سپرد ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کی ذمہ داریاں اور پابندیاں صوبوں جیسی ہیں، مگر حقوق اور اختیارات صوبوں جیسے نہیں۔ آزاد کشمیر اسٹیک ہولڈر تو ہے لیکن پاکستان کے اداروں میں اس کی کوئی رائے نہیں ہوتی۔ اس سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے، جس کے ازالے کے لیے وفاقی حکومت کو سوچنا چاہیے۔ خود آزاد کشمیر کی حکومت کو بھی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے فکرمندی سے متحرک ہونے کی ضرورت ہے، صرف مراعات پر نظر نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ مراعات کا کرشمہ ہے کہ ایک دو مرتبہ کے سوا کوئی حکومت اپنے پانچ سال پورے نہیں کرسکی۔ اس بار تو کئی وزرائے اعظم تبدیل ہوچکے ہیں۔ اب عام انتخابات قریب ہیں، ورنہ موجودہ وزیراعظم بھی اپنی میعاد شاید ہی پوری کرسکتے۔ آزاد کشمیر کو ایک ماڈل ریاست بناکر ہی مقبوضہ کشمیر جیتنے کی سبیل پیدا کی جاسکتی ہے۔ سیاستدانوں کو حکمرانی سے زیادہ جموں و کشمیر کی آزادی کو اپنا نصب العین بنانا چاہیے۔ اک طرفہ تماشہ ہے کہ جن مسائل کا ادراک منتخب حکومت کو ہونا چاہیے، ان پر حل کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی ہڑتال کرکے پورے آزاد کشمیر میں سڑکیں بند کردیتی ہے اور وفاقی حکومت کو مداخلت کرکے تصفیہ کرانا پڑتا ہے۔