مشرق وسطیٰ ،جنگ کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر آنے والے دن میں توانائی کی فراہمی اور قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی معیشتیں غیر یقینی کا شکار ہیں اور ہر گزرتا دن اس بحران کو مزید گھمبیرکررہا ہے، ایسے میں پاکستان کی میزبانی میں 4 بڑے مسلم ممالک کی وزرائے خارجہ میٹنگ ایک غیر معمولی سفارتی پیشرفت ہے جس نے عالمی سطح پر امن کی اُمید کو جنم دیا ہے اور دنیا کی نظریں پاکستان کی امن کوششوں پر مرکوز ہیں کہ یہ کوششیں کیا رنگ لاتی ہیں۔ پاکستان نے موجودہ صورتحال میں غیر معمولی بصیرت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، پاکستان نے نہ صرف سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھا بلکہ ترکیہ اور مصر جیسے اہم اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر جنگ بندی، مذاکرات اور مفاہمت کیلئے اپنی کوششوں کو تیز کیا ہے جو کارگر ثابت ہوئی ہیں۔ ساتھ ہی وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر منوایا ہے جو مختلف عالمی قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ایسی صورتحال میں جب دنیا پاکستان کے اس مثبت کردار کو سراہ رہی ہے، وہاں دوسری طرف بھارت اس صورتحال سے خاصا ناخوش دکھائی دیتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی ثالثی بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھارہی۔ بھارت کی فرسٹریشن کا اندازہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے امریکہ، ایران جنگ بندی کیلئے پاکستان کے ثالثی کردار کو ’’دلالی‘‘ قرار دیا جس پر انہیں بھارت اور دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایسے حالات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپوزیشن اور میڈیا میں شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ بھارتی میڈیا اور اپوزیشن ان سے سوال کررہی ہے کہ مودی نے ایسے خطرناک وقت جب امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملے کی تیاری کررہے تھے، اسرائیل کا دورہ کیوں کیا اور وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے جپھیاںڈالتے ہوئے خوشی سے بے قابو کیوں ہورہے تھے؟
سوشل میڈیا پر مودی کا ایک ویڈیو کلپ بھی وائرل ہورہا ہے جس میں وہ اسرائیل کو ’’فادر لینڈ‘‘ اور بھارت کو ’’مدر لینڈ‘‘ کہہ رہے ہیں۔ بھارت کے سابق سفارتکار ششی تھرور کا کہنا ہے کہ ہم نے عالمی رہنمائوں کو زبردستی گلے لگاکر کیا حاصل کیا اور آج ہم عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوگئے ہیں۔ نریندر مودی کی عالمی لیڈروں کو زبردستی گلے لگانے اور بلاوجہ ہنسنے کی ڈپلومیسی فیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ بھارت کی یہ دیرینہ خواہش رہی کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرے مگر بھارت کی یہ حکمت عملی ناکام رہی، اس کے برعکس دنیا بھر میں پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا اور بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔
آج جب خلیج فارس میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے، پاکستان کی اولین ترجیح جنگ کا خاتمہ اور امن کا قیام ہے جس کیلئے پاکستان خطے میں سرگرم عمل ہے۔ پاکستان کا متوازن، ذمہ دار اور امن پسند کردار نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک مثبت مثال کے طور پر ابھر رہا ہے اور گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہونے والی وزرائے خارجہ میٹنگ اسی سلسلے کی کڑی ہے تاہم اسرائیل موجودہ صورتحال سے ناخوش ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ مشرق وسطیٰ میںجنگ کا خاتمہ ہو۔ اطلاعات ہیں کہ ایران کے صدر کو بھی اس میٹنگ میں شریک ہونا تھا مگر پاسداران انقلاب کی جانب سے گرین سگنل نہ ملنے کے سبب آخری وقت میں وہ میٹنگ میں شرکت نہ کرسکے جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اپنا دورہ پاکستان منسوخ کردیا۔ ایسی صورتحال میں وزرائے خارجہ میٹنگ کے فوراً بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو اپنے فریکچر بازو کے ساتھ ایمرجنسی میں چین جانا پڑا تاکہ چینی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے اور چین کی مدد سے پاسداران انقلاب کو تعاون پر راضی کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ چین بھی حالیہ تنازع میں ایک اسٹیک ہولڈر ہے اور پاسداران انقلاب کو چین کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ چین کا احترام کرتے ہیں۔
حالات کا تقاضا یہی ہے کہ جنگ کو مزید طویل نہ ہونے دیا جائے کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی میں اضافہ اور ممکنہ زمینی کارروائیاں صورتحال کو مزید سنگین بنارہی ہیں، جس سے اندیشہ ہے کہ کسی وقت بھی یہ جنگ شدت اختیار کرکے ایک وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے جس سے پاکستان سمیت خلیج کے دوسرے ممالک بھی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔