• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم شہباز شریف خطے کی حالیہ تباہ کن جنگ کے تناظر میں اپنی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی غذائی جائزہ اجلاس میں جب یہ ہدایت جاری کررہے تھے کہ ’’ خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی اور ان ملکوں کے غذائی تحفظ کا لحاظ رکھا جائے ‘‘ تو بلاشبہ یہ علاقائی ضروریات اور ہمسائیگی کے تقاضوں کا حصہ تھا مگر اس میں بھائی چارے اور باہمی محبت کا وہ پہلو بھی نہاں تھا جو خلیجی ریاستوں اور وطن عزیز کے درمیان موجود ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عمان،کویت وہ ممالک ہیں جن کے پاکستان سے رشتے بہت گہرے اور احترام و محبت پر مبنی ہیں ۔ ان ریاستوںکیلئے غذائی اشیا کی سپلائی میں کسی بھی نوع کی رکاوٹ کا امکان اسلام آبادکیلئے بھی تشویش انگیزہے۔وزیراعظم کی صدارت میں مذکورہ اجلاس15۔مارچ کو منعقد ہوا تھا، اس میں نائب وزیر اعظم سمیت وفاقی کابینہ کے کئی ارکان، مشیر، صوبائی حکومتوں کے چیف سیکرٹریز اور نجی اداروں کے سربراہان شامل تھے۔ غذائی اشیا کی عالمی سپلائی زنجیر متاثر ہونے کے تناظر میں منعقدہ اجلاس میں بریفنگ سے واضح ہوگیا کہ پاکستان میں اشیائے خورونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے، کسی بھی چیز کی قلت نہیں۔وزیر اعظم کی گفتگو کا خلاصہ اور جذبہ یہ تھا کہ برادر ملکوں کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ اس اجلاس کے 9 دن بعد25 مارچ 2026 کو وزیر اعظم ہی کی صدارت میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں یہ بات واضح ہوگئی کہ برادر خلیجی ملکوں کو اشیائے خورونوش ایکسپورٹ کرنے کا جامع لائحہ عمل تیار ہوچکا ہے۔ اس باب میں مختلف اقدامات کا خلاصہ یہ تھا کہ’’ حکومت کی جانب سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی چاول، خوردنی تیل، چینی، گوشت، پولٹری، خشک دودھ، ڈیری مصنوعات، پھل اور سبزیوں سمیت 40اشیا برآمد کرنے کی منظوری دے چکی ہے۔غذائی اشیا کی برآمدات کیلئے ہوائی اور بحری اوپن روٹس استعمال کئےجائیں گے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ آن لائن بزنس ٹوبزنس اجلاس منعقد ہورہے ہیں جبکہ کراچی اور بن قاسم بندرگاہیں عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران بھی فعال رہیں‘‘۔ دونوں اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے درمیانی محدود وقت میں اتنی پیش رفتیں ایسی کارکردگی کی مظہرہیں جسے سراہنے میں وزیر اعظم حق بجانب ہیں جبکہ عام پاکستانی کی یہ خواہش فطری ہے کہ ہمارے تمام محکموں کا ہر ہر فرد اسی فعالیت کا مظاہرہ روزمرہ کے کاموں میں کرتا نظر آئے۔پاکستان اور خلیجی ممالک کے تعلقات ہمیشہ سے مضبوط بنیادوں پر استوار رہے ہیں ۔خلیجی ریاستیں پاکستان کوتیل اور گیس فراہم کرتی ہیں۔ مشکل معاشی حالات میں انہوں نے اسلام آباد کو قرض یا مطلوب مالی ضمانت فراہم کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا۔ سعودی عرب نے پاکستان کو مختلف مواقع پرموخر ادائیگی یا غیر معمولی سہولت کی صورت میں تیل فراہم کیا ہے جبکہ کویت اور متحدہ عرب امارات نے بھی اسی طرح کئی مواقع پر پاکستان سے تعاون کیا ہے۔ جواب میں پاکستان نے افرادی قوت، دفاعی تعاون اور دیگر خدمات فراہم کی ہیں۔ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان اور خلیجی ممالک( بالخصوص سعودی عرب، یو اے ای اور کویت)کے عمومی موقف میں ہم آہنگی پائی جاتی رہی ہے۔ پچھلے برسوں کے دوران خلیجی ممالک سے پاکستان کے اقتصادی وتجارتی تعلقات اسٹریٹیجک پہلو کی طرف بڑھے نظر آئے۔ ریاض اسلام آباد دفاعی معاہدےکی صورت میں پاکستان کو حرمین شریفین کی محافظت کا اعزاز حاصل ہوا ہے جسکے اپنے تقاضے اور پہلو ہیں۔ خلیجی ممالک کی جدید خطوط پر تعمیرات اور ترقیاتی منصوبوں میں پاکستانی ماہرین اور کارکنوں کی محنت و صلاحیت جھلک رہی ہے ۔ مذکورہ علاقے میں پاکستان کی افرادی قوت کی کھپت نے ترسیل زر کی صورت میں وطن عزیز کی زرمبادلہ کی ضرورت پوری کرنے میں موثرکردار اداکیا ہے۔ ہم اپنے کارکنوں کی ہنرمندی اور غیر ملکی زبانوں پر ان کی شدھ بدھ بڑھاکر اس صورتحال کو مزید بہتر بناسکتے ہیں۔اب خطے کی حالیہ خوفناک جنگ کے تناظر میں خلیجی ممالک کے غذائی عدم تحفظ کے خدشات سامنے آئے تو حکومت پاکستان نےبرادر خلیجی ریاستوں سے رابطہ رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کئے ہیں جن سے نہ صرف غذائی عدم تحفظ کا امکانی خطرہ ٹل گیا بلکہ پاکستان کیلئے اس کے قریب ہی موجود وسیع غذائی مارکیٹ نمایاں ہوئی جس میں خلیجی علاقے کیلئے اعلیٰ معیار کی اشیائے خورونوش کی فراہمی پاکستان کیلئے تجارتی فوائد کے پہلو رکھتی ہے۔ خلیجی ممالک کیلئے غذائی فراہمی کی چین متاثر ہونے سے جہاں ایک بڑا چیلنج سامنے آیا وہاں قدرت نے ایسا موقع بھی فراہم کردیا جس سے مذکورہ ریاستوں تک اعلیٰ معیار کی خوراک کم وقت میں اور نسبتاً سستے داموں پہنچنا ممکن ہوگئی جبکہ پاکستان کو اشیائے خورونوش کی ایک وسیع منڈی تک رسائی حاصل ہوگئی۔ مذکورہ کیفیت متقاضی ہے اس امر کی کہ پاکستان، جو ایک زرعی ملک کی پہچان رکھتا ہے، اپنا یہ کردار برقرار رکھتے اور اسے مزید وسیع کرتے ہوئے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے ، لائیو اسٹاک اور ڈیری فارم کے سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے ،پانی کی کمیابی کے مسائل پر قابو پانے کی تدابیر بروئے کار لائے۔ اس ضمن میں دوست ملک چین کے تجربات اور اس کے بنائے ماڈل ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی بڑھتی آبادی کے مستقبل کی ضروریات پوری کرنے اور اپنے پڑوس میں نمایاں ہونے والی اشیائے خورونوش کی مارکیٹ کی ضروریات کی تکمیل کیلئے زیادہ تیزی سے حرکت میں آنا ہے۔ ہمیں اپنی صنعتوں کو سنبھالا دینے سمیت معیشت کے تمام شعبوں پر توجہ دینا ہے مگر زراعت کے شعبے میں پیش قدمی کی ضرورت اس وقت غیر معمولی طورپر بڑھ گئی ہے۔ پاکستان اپنے برادر ملکوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے جو کاوشیں کررہا ہے وہ مستقبل میں متعدد شعبوں میں اشتراک وتعاون بڑھانے کا ذریعہ بنیں گی۔ اس ضمن میں جہاں فراہم کی جانےو الی اشیا کے معیار پر بطور خاص توجہ دینا ہوگی وہاں متعلقہ محکموں کی کارکردگی پربھی کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔ حکومتی منصوبوں کی کامیابی متعلقہ محکموں کی مستعدی اور بہتر کارکردگی ہی کی مرہون منت ہوتی ہے۔

تازہ ترین