• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اللہ جانے کون لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہماری قوم ناشکری ہے حالانکہ جتنا شکر ہم لوگ کرتے ہیں شاید ہی کسی اور قوم کے افراد کرتے ہوں ۔ ہم بات بات پر الحمد للہ کہتے ہیں حتیٰ کہ جسے چھینکیں آئیں وہ بھی الحمدللہ کہتا ہے اور جب چھینکیں کسی فنی خرابی کی وجہ سے بند ہونے لگتی ہیں تو اس کے پاس بیٹھا ہوا شخص اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرتا ہے۔

ہمارے ہاں جب کسی کا بجلی کا بل ٹھیک آتا ہے تو وہ اطمینان کے گہرے سانس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا نظر آتا ہے۔ بچہ اسکول سے بخیریت واپس آجائے ، نمازی مسجد سے صحیح سالم گھر لوٹ آئے، بازار سے خالص دوامل جائے ، کچہری سے انصاف حاصل ہو جائے ، تھانے میں دادرسی کے لیے جائیں اور وہاں چھترولنہ ہو، تو ان سب مواقع پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

صرف یہی نہیں، ہمارے ہاں تو اللہ تعالی کا شکر اس وقت بھی ادا کیا جاتا ہے جب فوج آتی ہے اور اس وقت بھی جب فوج جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تو ایسے سعادت مند فرزند بھی موجود ہیں جو پھولے ہوئے سانس کے ساتھ اطلاع دیتے ہیں کہ پچھلے چوک میں والد صاحب کو جوتے پڑ رہے تھے، خدا کا شکر ہے میں وہاں سے اپنی عزت بچا کر بھاگ آنے میں کامیاب ہو گیا ہوں ۔

ہم وہ شکر گزار محب وطن پاکستانی ہیں جو امر یکی پاسپورٹ ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ ہم ہیروئن کی کامیاب سمگلنگ پر شکرانے کی نیاز بانٹنے والے لوگ ہیں۔ چنانچہ اللہ جانے وہ کون لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم ایک ناشکری قوم ہیں۔

ہم تو ایسے صابر شاکر لوگ ہیں کہ گزشتہ 78 برس میں جو حکمران آیا ہم نے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا۔ ہم اپنے حکمرانوں کو پسند کرنے کے لیے ان میں خوبیاں خود تلاش کرتے ہیں۔ ہمیں ایک حکمران اپنے قد کاٹھ اور اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پسند تھا۔ ایک دو حکمرانوں کی انگریزی ہمیں پسند آئی ۔ ایک حکمران کو پسند کرنے کی وجہ ہم نے بتائی کہ وہ اسلام کا نعرہ بہت زور شور سے بلند کرتا ہے۔ ایک اور حکمران کے سیکولرازم کو بنیاد بنا کر ہم نے اس پر قبولیت کی مہر لگائی ۔

ہماری تو روز مرہ کی گفتگو بھی کچھ اس نوعیت کی ہوتی ہے۔ ’’کیا حال ہے؟‘‘ ’’اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔‘‘ ’’سنا ہے آپ کے ایک عزیز ٹریفک کے حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘‘،’’جی ہاں، انھیں شدید چوٹیں آئی تھیں، ڈاکٹر کوشش کے باوجود ان کی جان نہیں بچا سکے مگر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے ان کی آنکھیں بچ گئیں۔‘‘

مہنگائی اور لاقانونیت نے ہمارے لوگوں کا ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ ایک وقت تھا کہ ہماری قوم اس پر جذباتی ہو جایا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ انڈیا کے ساتھ تجارت، آزادی ء کشمیر اور ایٹمی پروگرام وغیرہ کے حوالے سے بھی ہماری قوم کے بیشتر افراد بے صبری کا مظاہرہ کر جاتے تھے، مگر الحمد للہ اب انھیں ان معاملات میں بھی قرار آ گیا ہے۔ وہ بین الاقوامی نزاکتوں اور حکمرانوں کی مجبوریوں کو بخوبی سمجھنے لگے ہیں اور یوں ہر طرح کے دیگر معاملات کی طرح اب ان معاملات پر بھی لوگ صبر شکر کرنا سیکھ گئے ہیں۔

اب تو شاعروں کے کلام میں بھی محبوب سے گلے شکوے نظر نہیں آتے ۔ وہ اپنا لہجہ بدل کر صرف اتنا کہتے ہیں "کچھ اس ادا سے آپ نے پوچھا مرا مزاج ....کہنا پڑا کہ شکر ہے پروردگار کا" باقیوں کو چھوڑیں میرا اپنا معاملہ بھی یہی ہے۔

ایک ماہ قبل ایک دوست کی بیٹی کی شادی کے موقع پر ایک حاکم نے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا تھا ” قاسمی صاحب ! مزاج کیسے ہیں؟“ اس وقت سے میں مسلسل شکرہے پروردگار کا کہتا جا رہا ہوں۔ ایک ماہ سے میں نے اپنا وہ ہاتھ نہیں دھویا ، بس روزانہ اس پر پرفیوم چھڑک لیتا ہوں ۔

تازہ ترین