ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی جنگ کوایک ماہ مکمل ہوچکا ہے، جسکے دوران امریکی جارحیت تمام تر بمباریوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی،اس جنگ نے دنیا کے سامنے امریکی برتری کو بھی بری طرح بے نقاب کردیا،ڈونلڈ کے تمام ٹرمپ کارڈ ناکام ہوگئے۔ایران میں عوام کو حکومت کی تبدیلی کیلئے سڑکوں پر نکلنے کا مشورہ دینے والے ٹرمپ کو خود امریکی سڑکوں پر عوام کی مزاحمت اور نفرت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب نیٹو سمیت دنیا کے تمام بڑے ملکوں نے جنگ میں امریکاکاساتھ دینے سے انکار کردیا،جس کے بعد امریکی صدر کا ذہن کے ساتھ لب و لہجہ بھی بہک گیا ہے۔ٹرمپ نے انتخاب سے قبل جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کا نعرہ دیا تھا مگر وہ اس پر عمل نہ کرسکے۔ فلسطین،یمن، شام،عراق، صومالیہ،ونیزویلا ، ایران سمیت کئی ملکوں پر براہ راست حملہ کیا، ونیزویلا کے صدر کو فیملی سمیت اغوا کر کے کھلی دہشت گردی کی،گرین لینڈ پر قبضے کا خواب دیکھنا شروع کردیا،ایران کے ساتھ جنگ میں ناکامی سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی کیفیت دنیا کے میڈیا میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ایران جنگ کے حوالے سے ہر دن ان کے دعوے خود ٹرمپ کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔
دوسری جانب پچھلے کئی سال سے اقوام امتحدہ اب صرف تعزیت اور اظہار افسوس کرنے والا ادارہ بن گیا ہے۔غزہ امن بورڈ کے قیام نے پہلے ہی اقوام متحدہ کی پوزیشن کم زور ہی نہیں مکمل ختم کردی تھی اب ایران جنگ میں بھی اس کا کردار صرف بیانات تک محدود ہے۔تاہم ایران کی مزاحمت نے جارح حکومتوں سمیت دنیاکو بھی حیران کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں پر اپنے میزائل اور ڈرون حملوں سے سب سے زیادہ نقصان امریکا کی دنیا پر چوہدراہٹ قائم کرنے کی خواہش کو پہنچایا،امریکی اڈوں کے میزبان ممالک پر ایران کی جوابی کارروائیوں نے انرجی مارکیٹ اور ان ممالک کی اقتصادی ترقی کے ماڈل کو ہلا کر رکھ دیا ،ایران براہِ راست لڑائی کرنے کے بجائے پانی کے پلانٹس یا دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے،عام طور پر اس جنگ کو تیل کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے ،مگر ایک اور اہم مسئلہ پانی ہے،خلیج فارس کے ممالک کے پاس دنیا کے قابلِ تجدید میٹھے پانی کے ذخائر کا صرف تقریباً دو فیصد حصہ ہے اور وہ بڑی حد تک سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے عمل (ڈی سیلینیشن) پر انحصار کرتے ہیں۔ اس جنگ نے ان ملکوں کے محدود آبی وسائل کو مزید متاثر کیا۔پوری دنیا کا معاشی ڈھانچہ اس جنگ سے لڑکھڑا رہا ہے۔موجودہ بحران کسی ایک حکومت کی پالیسی تک محدود نہیں۔ یہ عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ایران پر قبضہ کرنے میں ناکامی دیکھ کرامریکامذاکرات کی میز پر آگیا ،دنیا بھر میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیاایران سے مذاکرات امریکا کی شکست نہیں۔ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے پچھلے سال کے حملوں کے بعد اپنی کامیاب سفارت کاری سے روس اور چین جیسے اہم ملکوں کی ہمدردی حاصل کرلی،حالیہ جنگ میں ان دونوں ملکوںکا کردار مسلم ممالک کے مقابلے میں زیادہ قابل ستائش رہا،ٹرمپ نے امریکی انتخابات سے قبل اپنے ملک کی ترقی اور امریکی عوام کیلئے جو منصوبے اور منشور دئیے تھے وہ اس پر عمل نہ کر سکے،اس جگ ہنسائی کے پیچھے وہ یہودی مائنڈ ہے جو بنیامین نیتن یاہو کی شکل میں اسرائیل پر قابض ہے،جس نے امریکی صدر کو اپنے جال میں پھنسا کر اس کی ہیبت کا بت چکنا چور کردیا۔آج ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے اسرائیل میں خوف کی فضا ہے۔ یہ سب کچھ مکافات عمل ہے جو اسرائیل نے پچھلے دو سال غزہ میں کیا ،معصوم بچوں، خواتین کو شہید، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو تہس نہس کیا،یہ سب کچھ اب اس کے اپنے ساتھ ہورہا ہے۔انسانی المیہ پر دنیا کی خاموشی حیرت انگیز تھی۔ایران میں اسکول حملے میں معصوم بچیوں اور سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود نہ تو ایرانی حکومت اور نہ ہی ان کے عوام خوف زدہ ہوئے ،اب تک ایران نے نہ ہتھیار ڈالے ہیں اور نہ ہی حکومت خاتمے کے قریب دکھائی دی،ان کا میڈیا آزاد ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل نے اپنے میڈیا کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش، تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور امریکہ میں پائی جانے والی بے چینی اس جنگ کا نیا موڑ ہے،اسی لئے اب اس جنگ کو ایران میں تبدیلی کی ناکامی کے طور پیش کرنے کے بجائے امریکا مذاکرات پر زور دے رہا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کے بعض ملکوں کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش کررہا ہے جس کا مقصد عالم اسلام کے اتحاد کو توڑ نا ہے۔ان حالات میںپاکستان کی حکمت عملی خاصی کامیاب رہی ہے،بات چیت کیلئے امریکا کی جانب سے پاکستان کا بطور ثالث انتخاب ہماری بڑی سفارتی کامیابی ہے،جس سے بھارت میں کہرام مچا ہوا ہے ،پاکستان ان حالات میں بہت زیادہ مشکل میں ہے اسے افغانستان سے بھی خطرہ ہے، ازلی دشمن بھارت بھی تاک میں ہے، ملک میں سیاسی فضا ساز گار نہیں،پاکستان کو سیاسی، علاقائی اور معاشی توازن برقرار رکھنا لازمی ہوگاتاکہ کسی بھی تنازع میں الجھنے سے بچا جا سکے۔ وقت آگیا ہے کہ دنیا کے تمام بڑے ممالک اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کریں، بم اور میزائل تنازعات حل کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتے ،صرف موت، تباہی اور انسانی المیے کو جنم دیتے ہیں۔ کشیدگی میں کمی لائیں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ اختلافات کا مستقل حل اسی راستے سےممکن ہے۔
حرف آخر: ماہ اپریل شاعر مشرق علامہ اقبال کی وفات کا مہینہ ہے جن کو پاکستان کا نظریاتی بانی رہنما کہا جاتا ہے،ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے،جس پر ہمیںعمل کر کے ہی خود کو مشکلات سے نکالنا ہوگا۔