• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گاڑیوں پر بغیر اجازت پولیس اسٹیکرز لگانے کا معاملہ، روہت شیٹی کی وضاحت آگئی

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

بھارتی فلم ساز روہت شیٹی کی ٹیم نے ان کی ذاتی گاڑیوں پر مبینہ طور پر بغیر اجازت لگائے گئے پولیس شناختی اسٹیکرز سے متعلق وضاحت جاری کر دی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق روہت شیٹی کو ممکنہ طور پر دو گاڑیوں پر پولیس شناختی اسٹیکرز لگانے کے باعث قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

روہت شیٹی کے ترجمان کے مطابق یہ اسٹیکرز 31 جنوری 2026ء کو ممبئی میں فلم ساز کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد لگائے گئے تھے۔

روہت شیٹی کی ٹیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ روہت شیٹی کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے سیکیورٹی اقدامات سخت کیے اور انہیں تحفظ فراہم کیا۔ ابتدائی مرحلے میں شناختی اسٹیکرز لگائے گئے تھے، جو اب ہٹا دیے گئے ہیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ روہت شیٹی اب بھی پولیس سیکیورٹی میں ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے دو اہلکار تعینات ہیں، جبکہ انہوں نے ممبئی پولیس کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔

اس سے قبل بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روہت شیٹی کی گاڑیوں پر بغیر اجازت پولیس اسٹیکرز لگائے گئے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریجنل ٹرانسپورٹ آفس کے ایک اہلکار کے مطابق، موٹر وہیکلز ایکٹ 1988 (2019 میں ترمیم شدہ) کے تحت کسی نجی گاڑی پر پولیس اسٹیکر، لوگو یا نشان لگانے کی اجازت نہیں۔

فائرنگ کے واقعے میں روہت شیٹی کی جوہو میں واقع رہائش گاہ پر 5 گولیاں چلائی گئیں۔ ممبئی کرائم برانچ کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی پونے سے حاصل کی گئی تھی۔ پانچ ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید