آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لوگ زندہ ہیں اس اعتبار سے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ آنسوؤں کا سبب؟ ژاں پال سارتر اپنے ایک کھیل No Exit میں یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسانوں کی اذیت کا باعث دوسرے انسان ہوتے ہیں۔ جہنم کا مطلب دوسرے لوگ ہیں۔ پاکستانیوں کی اذیت کا سبب اہل سیاست ہیں جنھوں نے پورے ملک کو ہیجان میں مبتلا کررکھا ہے۔ انتخابات کے بعد ملک پرسکون ہوجاتے ہیں۔ معمول کی زندگی شروع ہوجاتی ہے لیکن پاکستان میں ایک برس بعد بھی حشر بپا ہے۔ کوچہ سیاست میں جو زبان بولی جارہی ہے، جو لہجہ اپنایاجارہا ہے اس کا ہدف اخلاقیات ہے۔ مخالفین کے بارے میں جس لب و لہجے میں بھٹو صاحب کلام کرتے تھے عمران خان کے مقابلے میں وہ بچوں کی غوں غاں محسوس ہوتے ہیں۔ اس طرز میں نئی نئی راہیں تراشنے کے بعد عمران خان درجہ اولی پر تو فائز تھے ہی لیکن وہ اب متضاد رویوں کا مرکز و محور بھی بنتے جارہے ہیں۔ عبدالعزیز خالد کا ایک بہت خوبصورت شعر ہے:
ظلمت شب میں تیرے چہرے کی صبح
جیسے امید کی کرن پھوٹے
عمران خان کا کمال یہ ہے کہ برسوں مہینوں بلکہ ہفتوں اور دنوں پہلے ان کے لئے جو ناخوب تھا آج وہی خوب بلکہ قابل تعریف ہے۔ چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کے معاملے پر عمران خان کے موقف کی تائید زرداری سیاست کا شاہکار ہے لیکن ان کی اس ڈیڑھ سطری تائید پر عمران خان جس طرح تعریف کرتے اور

ان کی ذات کو قابل سند قرار دیتے ہوئے الٹے قدموں گھومے ہیں وہ کچھ اور نہیں تو کم از کم تعجب خیز ضرور ہے۔ اس سے زرداری بلند ہوئے یا نہیں لیکن عمران بہت نیچے نظر آئے۔ اس بیان میں زرداری صاحب نے حکمرانوں کو بادشاہ نہ بننے کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن ان کے بادشاہ بننے کے امکان سے سندھ میں زرداری صاحب کو فرق پڑتاہوگا۔ عوام کیلئے تو کل کے بادشاہ ہوں یا آج کے بادشاہ۔ کل کے وزیر ہوں یاآج کے سب ایک ہی ہیں۔
اک شخص بادشاہ ہے تو اک شخص ہے وزیر
دونوں نہیں ہیں گویا ہماری قبیل سے
ہمارے اہل سیاست بھی درماندہ اور دربدر آئی ڈی پیز کی آہوں اور سسکیوں کے اوپر قالین بچھاکر سیاست کررہے ہیں۔ شمالی وزیرستان سے تقریباً دس لاکھ افراد جن میں 74 فیصد عورتیں اور بچے ہیں گھر جیسی متاع قوم کی نذر کرچکے ہیں مگر حکمراں ہوں یا اہل سیاست کے کسی سخن میں درد کا پہلو نہیں سوائے سیاست کے قالین پر کروٹیں بدلنے کے۔ ایک طرف شہید جوان ہیں تاعمر معذور اور کڑے وقت کے استعارے نقل مکانی کرنے والے اور دوسری طرف شعبدہ باز لیڈران کرام۔ وہی صف آرائیاں سستے بیانات سونامی اور انقلاب کے سلیپنگ پارٹنر اور حکومت گرانے کے ڈائیلاگ جن کی شدت تیز سے تیز تر۔ ایک وفاقی وزیر کے کہنے کے مطابق حالیہ گرماگرمی اور ن لیگ کے مسائل پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کی وجہ سے ہیں۔ آج کہہ دیں کے آمر کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائیں گے مطلع صاف ہوجائے گا۔ اشارہ واضح ہے۔ حکمرانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مزاحمت کرنا بھی چاہتے ہیں اور نہیں بھی کرناچاہتے۔ وہ سول بالادستی کے تقاضے پورے کئے بغیر سول بالادستی چاہتے ہیں ۔
رہے عوام تو وہ حکومت سے مایوس ہی نظر آتے ہیں۔ حکومت کے بڑے بڑے پروجیکٹوں کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن ہمارا مشورہ یہ ہے کہ پہلے عوام کو روٹی چھت کپڑا چادر چاردیواری کا تحفظ انصاف روزگار تعلیم صحت اور عزت نفس تو مہیا کیجئے۔ قرضوں کے حجم کوبڑا کرنے،عالمی مالیاتی اداروں کے ستائشی کلمات اور مالیاتی شرح نمو کے 4.1 فیصد تک اضافے کو حکومت اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے یکن 9 جون کو حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو ارسال کردہ میمورینڈم ان دعووں کا پول کھولتا نظر آتا ہے۔ جس میں حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ 2013-14 میں معیشت کی شرح نمو گزشتہ پانچ سال میں سب سے کم یعنی 3.3 فیصد رہی ہے اگر حکومتی اعدادوشمار کو درست تسلیم کرلیا جائے تو بھی یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ پرویزمشرف کے دور میں شرح نمو 7فیصد تک چلی گئی تھی لیکن اس کے باوجود دس ہزار افراد روزانہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہے تھے۔اب بھی نظر یہ آتا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کا فائدہ صرف سرمایہ داروں کو پہنچ رہا ہے ۔ تھری جی اور فور جی کے لائسنس اور یورو بونڈز کی فروخت سے ایک عارضی بریک ضرور آیا ہے لیکن عوام کی خوشحالی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ غریبوں سے متعلق معاملات میں خواہ وہ مہنگائی ہو بیروزگاری ہویا بجلی کے معاملات ہوں حکومت تاویلیں کرتی اور معافی مانگتی ہی نظر آتی ہےجس سے لگتا ہے کہ یہ حکمراں عوام کے مسائل حل کرنا ہی نہیں چاہتے ۔
بری خبروں میں برائی یہ ہے کہ ہمارے معاملات میں وہ درست ثابت ہوتی ہیں لیکن پچھلے دنوں امریکہ کیلئے ایک بری خبر آئی جب ورلڈبینک سے نجات کے لئے چین بھارت روس برازیل اور جنوبی افریقہ نے نیا ترقیاتی بینک بنالیا۔ ان ممالک کو برکس کہتے ہیں۔ پہلا صدر بھارت سے ہوگا اور ممکن ہے قرض کیلئے پہلا درخواست گزار پاکستان سے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے قرض غریب کے استحصال کی بدترین صورت ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک کو یہ ادارے ہرسال 130 ارب ڈالر کا قرض یا امداد دے کر 2ہزار ارب ڈالر اینٹھ لیتے ہیں۔ لگتا تو یہی ہے کہ نئے بینک کا قیام بھی نئے ظالموں کا ظہور ہے لیکن ذرا دیکھئے کہ بھارت کس طرح عالمی معاملات میں داخل ہوتا جارہا ہے۔ یہ کھلتے ہوئے دریچے بھارت کے آگے بڑھنے کی نشاندہی کرتے ہیں جب کہ ہم محض ایک بے ہنگم صورتحال سے دوچارہیں جو تیزی سے مزید خلفشار کی طرف بڑھ رہی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں