• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی چیونٹی نے بھی ہاتھی کو یرغمال بنایا ہے؟ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ایک چیونٹی جیسی ریاست اسرائیل نے جو برطانیہ کی ناجائز اولاد ہے، امریکہ جیسے ہاتھی پر سوار ہوکر اسے ایران کو جارحیت کا نشانہ بنانے پر مجبور کردیا۔ امریکہ 98لاکھ 33ہزار 520کلو میٹر رقبے کا ہاتھی ہے، جس کو صرف 22 ہزار کلو میٹر کی چیونٹی نے نکیل ڈالی اور اسے جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا۔ امریکہ 34کروڑ، 50لاکھ آبادی والا ہاتھی رقبے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اسرائیل کی آبادی صرف ایک کروڑ ہے جبکہ ایران کی آبادی 9 کروڑ 30 لاکھ اور رقبہ 16 لاکھ، 48 ہزار، 995، مربع کلو میٹر ہے۔ صہیونی ریاست نے شیطانی چال سے امریکی ہاتھی کے مہابت کو شیشے میں اتارکر اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل کی غرض سے ایران پر چڑھائی کے لیے دھکیل دیا، جو اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ بہانہ یہ تراشا گیا کہ ایران ایٹم بم بنانے والا ہےجس سے امریکہ خطرے میں پڑجائےگا۔پہلے تو کوئی یہ پوچھے کہ امریکہ کو کس نے اختیار دیا ہے کہ خود تو ایٹم بم بنالےاور اسے استعمال کرکے کروڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دے پھر جوہری ہتھیاروں کے انبار لگالے، مگر کوئی دوسرا ملک پرامن مقاصد کے لیے بھی ایٹمی توانائی حاصل کرے تو اس پر ہلہ بول دیا جائے! لیکن انسانیت کے جذبے سے عاری ہاتھی، چیونٹی کے نیچے اتنا دبا ہوا تھا کہ اس نے ایران کو مذاکرات میں الجھا کر خود اس پر اچانک حملہ کردیا!

یہ جنگ اسرائیل کی ہے جو امریکہ لڑ رہا ہے اور پوری دنیا کو معاشی عذاب میں مبتلا کردیا ہے۔ یورپی ملکوں نے جو نیٹو کی صورت میں، اس کے اتحادی بھی ہیں، اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی جنگ سے لاتعلقی اختیار کرلی ہے اور امریکہ تنہا رہ گیا ہے۔ خود 55فیصد امریکی عوام نے ایک سروے کے مطابق جنگ فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ باقی 45فیصد میں سے 13فیصد اس معاملے پر خاموش تماشائی ہیں۔ 70لاکھ امریکیوں نے پچھلے ہفتے ملک بھر میں سڑکوں پر نکل کر جنگ کے خلاف بھرپور مظاہرہ کیا۔ ان میں یہودی بھی شامل ہیں۔ امریکی وزیر جنگ نے جو یہودی لابی کے دبائو پر وزیر بنے، لاچارگی کے عالم میں صدر ٹرمپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مثل قرار دیا ہے۔ انہی کے دبائو پر وائٹ ہائوس میں عیسائی پادریوں نے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے دعا کروائی۔جبکہ عیسائیوں کے مذہبی پیشواپوپ لوئی اس جنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسے روکنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ بھی اس معاملے میں شدید اختلافات کا شکار ہے۔ فوج صدر ٹرمپ کے احکامات ماننے سے گریزاں ہے، جس پر انہوں نے فوج کے کمانڈر اور تین جرنیلوں کو برطرف کردیا ہے اور مزید کئی فوجی افسروں کی برطرفی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

ٹرمپ کابینہ کے بعض جنگ مخالف وزیروں کی بھی چھٹی ہونے والی ہے۔ انٹیلی جنس ادارے کا سربراہ خود ہی جنگ کو بلاجواز قرار دے کر استعفیٰ دے چکا ہے۔ صدر ٹرمپ ویسے تو ایران کو ’’تڑی ‘‘لگاتے نظر آتے ہیں۔ مگر اس جنگ پر دو ارب ڈالر یومیہ خزانے سے خرچ ہوتے بے بسی سے دیکھ رہے ہیں اور جنگی بجٹ کے لیے کانگریس سے ڈیڑھ کھرب ڈالر مزید مانگے ہیں۔ ان کے متضاد بیانات کا دنیا بھر میں مذاق اڑایا جارہا ہے۔ ایک طرف ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کو تباہ کردیا گیا۔ اس کی قیادت کو مار دیا گیا ہے اور فوج، فضائیہ اور بحریہ کا صفایا ہوگیا ہے۔ 158 بحری جہاز سمندر میں غرق کردیے گئے۔ دوسری طرف برطانیہ اور نیٹو ممالک کی منتیں کررہے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ کی مدد کریں۔ ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ مذاکرات کرو، آبنائے ہرمز کو کھولو، مگر ایران جانی و مالی نقصانات اٹھاکر بھی ان کی بات سننے سے انکار کررہا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے عرب ملکوں کو ایران سے لڑانے کا جو گھنائونا خواب دیکھا تھا وہ بھی پورا نہیں ہوا۔ ان ملکوں نے ایران کے خلاف عملی جنگ میں شریک ہونے سے انکار کردیا ہے۔ کوئی عجب نہیں کہ جنگ کے خاتمے پر وہ مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجی اڈے ختم کرنے کا مطالبہ کردیں، جن کی وجہ سے انہیں بھاری نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔ دنیا میں تیل کا بحران امریکی اسرائیلی جنگ کی وجہ سے سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔ متاثر ہونے والوں میں پاکستان بھی شامل ہے اور حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، مگر ساتھ ہی کچھ ریلیف بھی دیا ہے۔ بعض ممالک اس صورت حال سے زیادہ پریشان ہیں۔ آبنائے ہرمز کے بعد اگر باب المندب کا راستہ بھی بند ہوگیا تو حالات اور خراب ہوجائیں گے اور عالمی معیشت تباہ ہوجائے گی۔ امریکہ کو اس کی کوئی فکر نہیں کیونکہ وہ میدان جنگ سے ساڑھے بارہ ہزار کلو میٹر دور خود اپنے تیل پر انحصار کررہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ بھی محض خوش فہمی ہے۔ ایران نے ابتدائی جھٹکے سہنے کے بعد میدان جنگ میں قدم جمالئے ہیں۔ اپنا دفاعی نظام نئے سرے سے ترتیب دیا ہے۔ اب ایران کی فضائوں میں امریکی اور اسرائیلی جنگی طیارےآسانی سے داخل نہیں ہوسکیں گے۔پچھلے دو دن میںایران نے 9 امریکی طیارے مار گرائے ہیں، جس سے واشنگٹن اور تل ابیب میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ادھر لبنان سے حزب اللہ اور یمن سے حوثیوں نے حملے تیز کردیے ہیں۔ جس سے تل ابیب غزہ کی طرح کھنڈر بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان نے قیام امن کے لیے جو سفارتی کردار اپنایا ہے اس کی کامیابی کے امکانات روشن ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔آخرامریکہ کب تک من مانی کرتا رہے گا۔

تازہ ترین