میں یہ کالم دبئی سے تحریر کررہا ہوں۔ یوں تو تقریباً ہر ماہ کام کے سلسلے میں میرا یو اے ای آنا جانا رہتا ہے مگر ایران امریکہ جنگ کے بعد پہلی بار دبئی آیا ہوں۔ حالیہ مشرق وسطیٰ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے خلیجی ممالک خصوصا یو اے ای اور دبئی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ دبئی کی پہچان اس کے مصروف ہوائی اڈے، سیاحتی مراکز اور بڑے بڑے شاپنگ مالز ہیں لیکن خطے کی موجودہ صورتحال نے اس شعبے کو تقریبا مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سیکورٹی خدشات کے باعث دبئی میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے، ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دبئی میں نہ صرف جانی نقصانات ہوئے بلکہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دبئی کی آبادی کا بڑا حصہ غیر ملکیوں پر مشتمل ہے لیکن خوف و ہراس کے باعث بڑی تعداد میں غیر ملکی شہر چھوڑ کر جاچکے ہیں، سڑکیں ویران، شاپنگ مالز اور ہوٹل خالی پڑے ہیں۔ دبئی کی معیشت جو سیاحت، تجارت اور خدمات کے شعبے پر انحصار کرتی ہے، شدید دبائو کا شکار ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش نے دبئی کی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے جس سے تجارت، درآمدات اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ میں جب دبئی ایئرپورٹ پر اترا تو وہ ایئر پورٹ جو مشرق وسطیٰ جنگ سے پہلے گہما گہمی کا مرکز ہوا کرتا تھا، آج وہاں سناٹا نظر آیا، شاپنگ مالز میں لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی اور پراپرٹی جس کی قیمتیں آسمان کو چھورہی تھیں، انہیں لینے والا کوئی نہیں تھا۔ پاکستانیوں کے بارے میں اکثر یہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے دبئی کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، دبئی میں قیام کے دوران میری کچھ بڑے پاکستانی ڈویلپرز سے ملاقات ہوئی جو مشرق وسطیٰ بالخصوص دبئی کی موجودہ صورتحال سے خاصا پریشان نظر آئے تاہم کچھ خوش نصیب پاکستانی جن کا سرمایہ دبئی کے بینکوں میں موجود تھا، وہ اسے پاکستان منتقل کررہے ہیں، اس خوف سے کہ کل پاکستان میں ان سے سوالات نہ ہوں اور وہ اپنی رقوم بینکنگ چینل سے بھیجنے کے بجائے غیر بینکنگ چینل کو ترجیح دے رہے ہیں۔ حکومت کو تجویز ہے کہ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کیلئے ایسی اسکیم کا اعلان کرے جس سے پاکستان میں سرمایہ واپس آسکے، اگر حکومت ایسا کوئی اقدام اٹھاتی ہے تو 4 سے 5 ارب ڈالر قانونی طریقے سے پاکستان کو حاصل ہوسکتے ہیں۔
پاکستان میں اس طرح کی افواہیں گردش کررہی ہیں کہ یو اے ای نے تعلقات میں کشیدگی کے باعث پاکستان میں رکھوائے اپنے 3.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس واپس مانگ لئے ہیں۔ یو اے ای کے یہ ڈپازٹس کئی سالوں سے اسٹیٹ بینک میں رکھے تھے جس پر حکومت پاکستان، یو اے ای کو 6 فیصد سود بھی ادا کررہی تھی۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ یو اے ای کے ڈپازٹس کی واپسی معمول کی پیشرفت ہے تاہم اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث یو اے ای اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں سردمہری دیکھنے میں آئی ہے۔ یو اے ای کو پاکستان سے تحفظات ہیں کہ مشرق وسطیٰ جنگ میں پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور ایران کی آواز بن کر ابھرا ہے جو یو اے ای کو یقینا ناگوار گزرا ہوگا جبکہ پاکستان میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ مشرق وسطیٰ جنگ میں یو اے ای، اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے اور بھارت، یو اے ای کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ پاک یو اے ای تعلقات میں مزید تنائو اُس وقت دیکھنے میں آیا جب یو اے ای نے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں قرارداد پیش کی کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جائے جس کیلئے یو اے ای مغربی ممالک کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے مگر پاکستان اور چین نے یو اے ای کی اس قرارداد کی مخالفت کی جس کا یو اے ای نے برا مانا اور پاکستان سے اپنے 3.5 ارب ڈالر ڈپازٹس کا مطالبہ کیا۔ ایسے میں جب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 16 ارب ڈالر ہیں، یو اے ای ڈپازٹس کی واپسی سے روپے کی قدر پر دبائو بڑھے گا۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ وہ اسے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس اور 5 ارب ڈالر کا ادھار تیل فراہم کرے، اُمید کی جارہی ہے کہ سعودی عرب مشکل وقت میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
یو ای اے میں اس وقت 17 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں جو سالانہ 7 ارب ڈالر ترسیلات زر پاکستان بھیج رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان، یو اے ای سے اپنے تعلقات خراب کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا لیکن کچھ غیر محب وطن افراد پاک یو اے تعلقات کے حوالے سے بے بنیاد اور گمراہ کن تبصرے کررہے ہیں اور یو اے ای ڈپازٹس کی واپسی کو غلط رنگ دیا جارہا ہے جو ملکی مفاد میں نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یو اے ای کے خدشات دور کئے جائیں اور اسے یقین دلایا جائے کہ پاکستان، یو اے ای کے خلاف نہیں اور پاکستان نے سعودی عرب میں ہونے والے حالیہ وزرائے خارجہ اجلاس میں خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر جن کے یو اے ای کے حکمرانوں سے قریبی ذاتی تعلقا ت ہیں، دونوں شخصیات جلد از جلد یو اے ای کا دورہ کریں اور مشکل وقت میں پاکستان کی مالی مدد کرنے پر یو اے ای قیادت کا شکریہ ادا کریں، ساتھ ہی یو اے ای کی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور یہ یقین دلایا جائے کہ پاکستان اپنے برادر ملک یو اے ای کی مخالفت کا تصور بھی نہیں کرسکتا تاکہ پاک یو اے ای تعلقات خراب کرنے کا بھارت، اسرائیل مذموم منصوبہ ناکامی سے دوچار ہوسکے۔