• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت حالیہ ایران جنگ کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے اور ان میں بگاڑ کی کیفیت جاری رکھنے کیلئےنت نئے حربوں پر تلا ہوا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کے بیانات واقدامات نشاندہی کررہے ہیں اس سوچ کی کہ اسلام آباد کو کسی نہ کسی طریقے سے نئی جنگ میں الجھایا جائے۔ چند دن قبل حساس اداروں کی طرف سے بھارت کا ایک فالس فلیگ آپریشن بے نقاب کئے جانے کی خبر اخبارات میں آچکی ہے۔یہ منصوبہ خفیہ کمیونی کیشن کو ڈی کوڈ کرنے سے سامنے آیا۔ذرائع کے مطابق بھارت میں موجود پاکستانی قیدیوں کو رہا کرکے ایک بڑی کارروائی کیلئے استعمال کیا جائیگاتاکہ الزام اسلام آباد پر لگایا جاسکے۔بھارت اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے یا کسی نوع کے فوائد حاصل کرنے کیلئے المیے تخلیق کرنے اور پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کاوسیع یکارڈ رکھتا ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ پر حملے(31دسمبر2001) ، سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی (18نومبر2007) سمیت متعدد واقعات کے بارے میں بعد ازاں ایسے شواہد سامنے آئے جن سے بھارتی حکمرانوں کی سفاکی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بعد میں بعض دیگر انواع کے مقدمات میں افسروں کے دیئے گئے بیانات سے یہ حقائق سامنے آئے کہ ایک معاملے میں کسی خاص قانون کو منظور کرانے میں دشواری تھی تو کسی دوسرے معاملے میں کوئی اور پیچیدگی حائل تھی جس سےنمٹنےکیلئےالمیے کی تخلیق ضروری سمجھی گئی۔ 22اپریل2025کو مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں دو غیر ملکیوں سمیت28افراد کی ہلاکت کا واقعہ خاص ایسے وقت پیش آیا جب امریکی نائب صدر جی ڈی وینس اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ چار روزہ دورے پر بھارت آئے ہوئے تھے جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب میں تھے۔یوں یہ واقعہ دنیا بھر میں پروپیگنڈے کیلئے بڑی خبر کا ذریعہ بنا۔حالات پر نظر رکھنے والے حلقے اس بات پر حیران تھے کہ دور دراز علاقے میں بھارتی وقت کے مطابق 3بجے دوپہر رونما ہونے والے واقعہ کے صرف پانچ منٹ بعد بھارتی خفیہ ایجنسی را سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پاکستانی دراندازی کے الزامات کی تکرار کن ثبوتوں اور شواہد کی بناپر ہوئی۔بھارت نے23اپریل کو سندھ طاس آبی معاہدہ معطل کرنے کے غیر قانونی اعلان سمیت جو عاجلانہ اقدامات کئے وہ اس امر کی نشاندہی کررہے تھے کہ جو کچھ ہوا وہ پہلے سے تیار کردہ اسکرپٹ کا حصہ تھا۔پاکستان نے اس معاملے کی غیرجانبدار بین الاقوامی فورم پرشفاف انکوائری کی پیشکش کی مگر بھارتی حکومت نےاس اہم بات پر کوئی توجہ دئیے بغیر وہ تمام اقدامات کئے جو جنگوں کے مواقع پر کئے جاتے ہیں بعد کے دنوں میں بھی تاحال اس باب میں غیر جانبدارانہ تحقیق سے گریز کی پالیسی جاری ہے۔7مئی کی رات سے10مئی تک وہ سب کچھ ہوگیا جو ایک بیدار ومستعد رہنے والی قوم کو جارحیت کا نشانہ بنانیوالوں کیساتھ ہونا چاہئے۔ بدترین ہزیمت سے دوچار ہونے والے مہم جو ملک بھارت کو امریکہ کی منت کرکے اس کی ثالثی میں جنگ بندی کرانا پڑی۔7جنگی طیاروں اور فضائی دفاعی نظام سمیت بہت کچھ اس کےہاتھ سے نکل گیا۔اس تفصیل میں جانے کی ضرورت اسلئے پیش آئی کہ ایک طرف بھارت کے ایک اور’’ فالس فلیگ آپریشن‘‘ کا منصوبہ حساس اداروں کے ذریعے بے نقاب ہوچکا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی پریس بریفنگ میں ’’ایرانی جنگ‘‘ کے حوالے سے اسلام آباد کے امریکی قیادت سے رابطے اور مسلسل مشاورت کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو دوران گفتگو ڈپلومیٹک زبان میں یہ جملہ بھی آجاتا ہے کہ بھارت پاکستان کی سفارتی کوششوں کے خلاف ’’ پروپیگنڈا‘‘ کررہا ہے۔ یہ جملہ کن سرگرمیوں کی عکاسی کررہا ہے، اس کے معانی سب ہی جانتے ہیں۔ اسی روز سامنے آنےو الے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کے اشتعال انگیز بیان سے امن کوششوں کے حوالے سےبھارت کی بیزاری نہ صرف عیاں ہے بلکہ گیدڑ بھبکیوں کی صورت میں نئی جنگ کے امکان کا اشارہ بھی ملتا ہے۔’’راج ناتھ کے جملے ’’آپریشن سیندور جاری ہے‘‘ کو کھربوں روپے کے نئے اسلحہ خریداری معاہدوں کے ساتھ ملاکر دیکھا جائے تو نئی دہلی کی بوکھلاہٹ زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بھارتی قیادت خطے میں امن کے امکانات سے خوفزدہ ہے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے بھی پاکستان کے حوالے سے ایسے نازیبا الفاظ کے استعمال کا غیر ملکی میڈیا میں اشارہ دیاگیا ہے جو عالمی اثرورسوخ کے بڑھتے ہوئے احساس بے دخلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ’’ ایکس‘‘ استعمال کرتے ہوئے جو جواب دیا وہ ڈپلومیسی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہے اور انتباہ بھی۔ ’’ہمارا ردعمل تیز، متوازن اور فیصلہ کن ہوگا‘‘۔ خواجہ آصف کے اس پیغام کی معنویت بھارتی حکمرانوں کو بطور خاص ملحوظ رکھنا ہوگی کہ دوایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا تصور بھی ناقابل فہم اور خطرناک نتائج کا حامل ہوگا۔یہ سب باتیں جس منظر نامے کا حصہ ہیں اس کا عنوان پاکستان کی ثالثی کا وشیں ہیں۔ بیجنگ میں پیش کردہ پانچ نکاتی امن منصوبے اور اسلام آباد کے چار فریقی مذاکرات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ خبروں،تبصروں، تجزیوں کے ہجوم میں بات سمیٹنےکیلئے امریکی جریدے ’’ فارن پالیسی‘‘ کے ان جملوں کا اعادہ کافی معلوم ہوتا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تیزی سے ایک موثر ثالث کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے اور یہی پیش رفت بھارت کیلئے نمایاں پسپائی کا باعث بن رہی ہے۔ جریدے کے مطابق ’’پاکستان کی سفارت کاری نے بھارت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے اگر پاکستان ثالثی میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ مودی کے اس بیانیے کی واضح طور پر ناکامی ہے جسکے ذریعے بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی‘‘۔

تازہ ترین