اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی جو کبھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یورپ میں قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھیں، اب بدلتی سیاسی اور معاشی صورتِ حال کے باعث ان سے محتاط فاصلے اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آنے والے انتخابات اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے جارجیا میلونی کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز میں میلونی واحد یورپی رہنما تھیں جنہیں حلف برداری تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان قریبی تعلقات کو اس وقت مغربی اتحاد کے لیے اہم سمجھا جا رہا تھا اور میلونی خود کو یورپ اور امریکا کے درمیان ’پُل‘ کے طور پر پیش کرتی تھیں تاہم امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد صورتِ حال بدل گئی ہے۔
خلیجی ممالک کے دورے کے دوران میلونی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ جب اختلاف ہو تو ہمیں اس کا کھُل کا اظہار کرنا چاہیے اور اس بار ہم متفق نہیں ہیں۔
اس سے قبل اٹلی نے امریکی بمبار طیاروں کو اپنی فوجی اڈے پر ایندھن لینے کی اجازت بھی نہیں دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اٹلی میں عوامی رائے تیزی سے بدل رہی ہے، ایک سروے کے مطابق ایران جنگ کے خلاف اطالوی عوام کی بڑی اکثریت ہے جبکہ ٹرمپ کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 19 فیصد رہ گئی ہے۔
حال ہی میں عدالتی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم میں حکومت کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جسے میلونی کی پالیسیوں اور ٹرمپ سے قربت کے خلاف عوامی ردِعمل قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر 18 سے 34 سال کے نوجوان ووٹرز کی 61 فیصد تعداد نے تجاویز مسترد کر دی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تجزیہ کاروں کا اٹلی کی وزیرِ اعظم سے متعلق کہنا ہے کہ میلونی مکمل طور پر ٹرمپ سے تعلق ختم نہیں کریں گی بلکہ بتدریج یورپی اتحادیوں کے قریب اور امریکا سے محتاط فاصلہ اختیار کریں گی تاکہ سیاسی نقصان سے بچا جا سکے۔
عرب میڈیا کے مطابق میلونی اب ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، نہ امریکا سے تعلق توڑنا چاہتی ہیں اور نہ ہی داخلی سیاست میں اس کی قیمت چکانا چاہتی ہیں۔