دنیا اس وقت ایک ایسے نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں طاقت، مفادات اور تصادم کی سیاست عالمی امن کو مسلسل خطرات سے دوچار کر رہی ہے، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ہو، بڑی طاقتوں کی رقابت ہو یا خطے کے پیچیدہ تنازعات، ہر طرف یہ خدشہ موجود رہا کہ کہیں کوئی چھوٹی سی چنگاری ایک بڑے عالمی تصادم میں تبدیل نہ ہو جائے، ایسے ماحول میں اگر کسی ملک نے سنجیدہ، متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ پاکستان ہے، آج دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کیا بلکہ عالمی امن کے تحفظ میں ایک اہم ستون بن کر سامنے آیا، اس عمل میں تین اہم شخصیات نمایاں رہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، پاکستان کے ان تینوں سپوتوںنے بیک وقت سیاسی بصیرت، سفارتی مہارت اور اسٹرٹیجک تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسے ممکنہ بحران کو ٹالنے میں کردار ادا کیا جسے بعض تجزیہ کار تیسری عالمی جنگ کی سمت بڑھتا ہوا خطرہ قرار دے رہے تھے،پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہوا کہ اسلام آباد نے بیک وقت امریکہ، سعودی عرب، ایران اور چین جیسے بااثر ممالک کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پل کا کردار ادا کیا، عالمی سفارت کاری میں یہ ایک غیر معمولی کامیابی سمجھی جاتی ہے کیونکہ ان ممالک کے مفادات، نظریات اور علاقائی ترجیحات اکثر ایک دوسرے سے مختلف بلکہ بعض اوقات متصادم بھی ہیں،ایسے میں کسی ایک ملک کا ان سب کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کرنا اور مکالمے کی راہ ہموار کرنا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، گزشتہ ایک مہینے کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے پس پردہ سفارتی رابطوں، مسلسل مشاورت اور حکمت عملی کے ذریعے ایسے اقدامات کئے جنہوں نے کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دی، وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے عالمی دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سفارتی محاذ پر متحرک کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کو نہایت ذمہ داری سے پیش کیا، اسی طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کئی راتیں جاگ کر خطے کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے سنجیدہ اور متوازن پیغام پہنچایا،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کو عالمی سطح پر دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے، مگر حالیہ سفارتی کوششوں نے اس تاثر کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیاہے، آج عالمی برادری یہ تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان صرف اپنی سلامتی کیلئے ہی نہیں بلکہ خطے اور دنیا کے امن کیلئے بھی سنجیدہ اور فعال کردار ادا کرنے والا ملک ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہمیشہ یہی رہا کہ تنازعات کا حل جنگ میں نہیں بلکہ مکالمے اور سفارت کاری میں تلاش کیا جائے،یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے ہر موقع پر مذاکرات، تحمل اور توازن کی بات کی ، حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے اس اصول کو عملی شکل دی ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ اگر نیت نیک ہو اور قیادت ذمہ دار ہو تو بڑے سے بڑا بحران بھی ٹالا جا سکتا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی مشترکہ کوششوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان صرف ایک ایٹمی طاقت ہی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور امن دوست ریاست بھی ہے، ان تینوں رہنماؤں نے دن رات محنت کرکے پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان تنازعات کو ہوا دینے والا نہیں بلکہ انہیں کم کرنے والا ملک ہے،تاریخ جب اس دور کا جائزہ لے گی تو ممکن ہے یہ لکھا جائے کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تصادم کے دہانے پر کھڑی تھی۔
پاکستان نے تدبر، حکمت اور سفارت کاری کے ذریعے امن کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب پاکستان کو صرف ایک ریاست نہیں بلکہ عالمی امن کے ضامن کے طور پر یاد کیا جائیگا،اگر یہی سوچ اور یہی حکمت عملی جاری رہی تو بعید نہیں کہ پاکستان آنے والے برسوں میں عالمی سفارت کاری میں ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرے جو طاقت کے توازن کے ساتھ ساتھ امن کے توازن کو بھی برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے،اس پورے عمل کے دوران اگر پاکستان نے وقتی طور پر کسی ایک ملک کو کھو دیا تو دوسری جانب ایران کو ہمیشہ کیلئے جیت لیا ہے، خطے کی سیاست میں کلیدی کردار بننے کے بعد پاکستان اس کھوئے ہوئے ملک کو واپس حاصل کرلے گا،ان شاءاللہ۔