مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
ہمارے شہر میں ایک معروف فلاحی وسماجی تنظیم عرصۂ دراز سے شہر کے غریب و ضرورت مند افراد ، خصوصاً سفید پوش گھرانوں کو مفت راشن کی فراہمی سمیت فلاح و بہبود کے مختلف منصوبہ جات کے تحت بے لوث خدمات انجام دے رہی تھی۔ تنظیم کی جانب سے ماہِ رمضان اور عید کے موقعے پر مستحقین میں مفت راشن کے علاوہ نئے کپڑے اور نقدی وغیرہ بھی تقسیم کی جاتی۔ یہ تمام اُمور، تنظیم کی چیئرپرسن، سیّدہ شاہدہ شاہ کی نگرانی میں انجام پاتے۔
وہ امداد کی غرض سے آنے والی خواتین کا مکمل انٹرویو کرتیں کہ انہیں کس قسم کی اور کس حد تک مدد کی ضرورت ہے، پھر اچھی طرح چھان بین اور تحقیقات کے بعد ہی انہیں امدادی سامان بہم پہنچا دیا جاتا۔ ان ہی دنوں فاطمہ بی بی نامی ایک غریب خاتون نے چیئرپرسن سے رابطہ کیا اور اپنی دُکھ بھری داستان سنائی، جو کچھ اس طرح تھی۔ ’’مَیں جہلم شہر سے چند کلو میٹر دور ایک پس ماندہ بستی میں رہتی ہوں، جب سے ہوش سنبھالا، اپنی ماں کو لوگوں کے گھروں میں صفائی ستھرائی کرتے برتن مانجھتے ہی پایا۔
میرے والد ہمارے بچپن ہی میں فوت ہوگئے تھے، چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا بھائی ہے، جو کچھ عرصہ قبل جرائم پیشہ افراد کے ہتھے چڑھ کر لاپتا ہوگیا۔ ہم تین بہنوں میں سے دو بڑی بہنیں بھی لوگوں کے گھروں میں بطور ملازمائیں کام کررہی ہیں۔ بہرحال، ماں نے اتنی غربت کے باوجود ہم تینوں بہنوں کی شادیاں کردیں اور تینوں کے شوہر مزدور پیشہ ہیں۔ بڑی دوبہنوں کے شوہر کرائے پر رکشا چلاتے ہیں، جب کہ میرا شوہر دیہاڑی دار مزدور ہے۔
میرے پانچ بچے ہیں، جو ابھی بہت چھوٹے ہیں، شوہر کی قلیل آمدنی میں کھینچ تان کر بھی بچّوں کے اخراجات پورے نہیں ہوپاتے، لہٰذا بچّوں کا پیٹ پالنے اور شوہر کے سر سے بھاری مالی بوجھ کم کرنے کے لیے مَیں بھی گھروں میں کپڑے دھونے، برتن مانجھنے اور صفائی ستھرائی کا کام کرتی ہوں۔
کسی نےآپ کی تنظیم کا بتایا تو بڑی آس اور امید لے کر یہاں آئی ہوں کہ میرے بچّے جو ہر سال عید کے موقعے پر دوسرے بچّوں کو نئے کپڑوں،جوتوں میں دیکھتے ہیں تو ضد کرتے ہیں کہ ہمیں بھی نئے کپڑے لے کر دیں، تو اگر آپ کی تنظیم کی طرف سے کچھ امداد مل جائے تو ہمارے بچّوں کو بھی کم از کم اس عید پر نئے کپڑے نصیب ہوجائیں گے۔‘‘
چیئرپرسن نے فاطمہ بی بی کی دُِکھ بھری کہانی توجّہ سے سننے کے بعد تنظیم کے قواعد و ضوابط کے مطابق خاتون کا نام اور پتا رجسٹر میں درج کیا اور شناختی کارڈ کی کاپی لے کر کہا کہ ’’ٹھیک ہے بی بی! ہم تمہاری بھرپور مدد کریں گے، ان شاء اللہ عید پر تمہارے بچّے نہ صرف اچھے کپڑے پہنیں گے، بلکہ اچھا کھانا بھی کھائیں گے۔ امدادی سامان اور راشن وغیرہ کی تقسیم کے وقت المرکز کی طرف سے تمہیں مطلع کردیا جائے گا۔‘‘ عید سے ایک ہفتے قبل فاطمہ بی بی کو اطلاع دی گئی کہ مقررہ تاریخ کو صبح نو بجے فلاں ہال میں پہنچ جائے۔
تنظیم کی جانب سے مرکزی ہال میں غریب اور مستحق مردوں کے لیے جب کہ ملحقہ ہال میں عورتوں کے لیے مفت راشن اور کپڑوں وغیرہ کی تقسیم کا بندوبست کیا گیا ہے مقررہ دن تنظیم سے وابستہ افراد مستحق مردوں میں راشن، کپڑے وغیرہ تقسیم کررہے تھے، جب کہ تنظیم کی چیئرپرسن اور دیگر کارکن خواتین ضرورت مند عورتوں میں راشن، کپڑے وغیرہ تقسیم کررہی تھیں۔
قریب ہی چوڑیوں، منہدی، آرٹیفیشل جیولری اور کھلونوں وغیرہ کے اسٹالز بھی لگے ہوئے تھے، جہاں سے خواتین کو راشن اور دیگر امدادی سامان کی تقسیم کے بعدیہ اشیاء بھی مفت فراہم کی جارہی تھیں۔ فاطمہ بی بی کو سیّدہ شاہدہ شاہ نے اپنی نگرانی میں راشن بیگز کے علاوہ بچّوں کے لیے نئے کپڑے، منہدی، چوڑیاں اور کھلونوں وغیرہ کے ساتھ پانچ ہزار روپے بطور عیدی دے کر رخصت کیا۔ اور فاطمہ بی بی شکریہ ادا کرتے ہوئے سب چیزیں لے کر چلی گئی۔
بہرحال، عید سے ایک ہفتے بعد کا ذکر ہے، تنظیم کی چیئرپرسن اس ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں کسی ضروری کام سے گئیں، جہاں سے انھوں نے عید اور رمضان پیکیج کے تحت غریب و مستحق افراد کے لیے راشن، کپڑوں وغیرہ کی خریداری کی تھی، تو اسٹور کے مالک نے، جو ان سے اچھی طرح واقف تھا، انھیں باقاعدہ تمہید باندھ کر بتایا کہ ’’میم! بڑی خوشی کی ہے کہ آپ کی تنظیم سمیت دیگر کئی فلاحی تنظیمیں رمضان اور عید کے لیے اس طرح کے پیکیجز کا اہتمام کرتی ہیں۔
اگرچہ آپ لوگ خاصی احتیاط کرتے ہیں کہ امدادی سامان، راشن اور نقدی وغیرہ خالصتاً مستحق، ضرورت مندوں ہی تک ہی پہنچے، مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان ساری احتیاطی تدابیر کے باوجود کچھ پیشہ وَر نوسرباز، آپ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کام یاب ہوجاتے ہیں اور ان میں مرد و خواتین سمیت نو عمر لڑکے، لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
یہ مختلف تنظیموں سے راشن، نقدی، کپڑے اور دیگر چیزیں اکٹھی کرتے ہیں اور جب اچھا خاصا سامان جمع ہوجاتا ہے، تو کسی غیر معروف دکان پر جاکر سستے داموں بیچ ڈالتے ہیں اور یوں بے چارے مستحق، سفید پوش خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔ اسٹور مالک کی زبانی نوسربازوں کی دھوکا دہی کا سن کر نہ جانے کیوں سیّدہ شاہدہ شاہ کے دل میں فوراً فاطمہ بی بی کا خیال آیا، چناں چہ اگلے ہی روز انھوں نے فاطمہ بی بی کے دیے گئے شناختی کارڈ پر درج ایڈریس پر جاکر معلومات حاصل کیں، تو پتا چلا کہ اس عورت نے اپنے متعلق جو کہانی سنائی تھی، وہ سراسر جھوٹی تھی۔
درحقیقت وہ ایک پیشہ ور قسم کی نوسرباز، جھوٹی عورت تھی، جو وقتاً فوقتاً ایسی ہی جھوٹی سچی کہانیاں سناکر لوگوں سے پیسے، راشن اور دیگر چیزیں بٹورتی اور دکانوں پر جاکر سستے داموں بیچ آتی تھی۔ اس انکشاف کے بعد چیئرپرسن کو سخت دھچکا لگا۔ وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئیں کہ اس دنیا میں کیسے کیسے نوسرباز ہیں، جو نیک، مخلص لوگوں کے ساتھ دھوکا ہی نہیں کرتے، اصل ضرورت مندوں کا سخت استحصال بھی کرتے ہیں۔ اب ایسے میں کوئی کسی سے نیکی و بھلائی کا ارادہ بھی کرے، تو کیوں کر کرے۔ (اختر شاہ عارف، ڈھوک جمعہ، جہلم)