• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

میرا بیٹا، بغرض ملازمت کئی سال سے آسٹریلیا میں مقیم تھا اور اس کی دیرینہ خواہش تھی کہ کچھ عرصے کے لیے مجھے بھی اپنے پاس بلائے، لیکن شہریت نہ ہونے کے باعث مجھے بلانے سے قاصر تھا۔ بہرحال، کچھ عرصے بعد جب اسے آسٹریلوی شہریت مل گئی تو اس نے میرے آسٹریلیا وزٹ کے لیے 6 ماہ کے سنگل ویزے کی درخواست اسلام آباد ایمبیسی میں جمع کروادی اوروہاں سے جلد ہی جواب بھی آگیا۔

حُسنِ اتفاق دیکھیے کہ سفارت خانے نے مجھے سنگل کی بجائے ملٹی پل اور6ماہ کی بجائے ایک سال کا ویزا ارسال کردیا۔ ایک طرف تو یہ خوشی تھی کہ سال بھر کی اجازت دے دی گئی اور دوسری طرف ملٹی پل بھی کردیا۔ دل سے صدا آئی کہ اس میں ضرور کوئی حکمتِ الٰہی ہے۔

چناں چہ سفر کی ضروری تیاری کے بعد جنوری2011ءکے آخری ہفتے میں لاہور سے سڈنی، آسٹریلیا کے لیے عازمِ سفر ہوگیا۔ دیارِ غیر اپنے بیٹے کے پاس پہنچا، تو ایک طویل عرصے بعد اس سے مل کر جو خوشی ہوئی، بیان سے باہر ہے۔ آسٹریلیا ایک وسیع برِ اعظم ہے۔چھوٹی چھوٹی آبادیوں والا، درختوں سے گِھرا ایک ہرا بھرا خطّہ، پھر میلوں پھیلے ساحلِ سمندر کا پُرسکون نظارا بھی انتہائی خوش کُن ہے۔

اس پُرفضا اور خُوب صُورت ماحول میں بیٹے کے پاس تین ماہ کیسے گزرے، پتا ہی نہیں چلا۔اس کے گھر میں ہر طرح کی آسائش میسّر تھی۔ تمام فکروں سے آزاد، تین ماہ قیام کے بعد ایک روز مَیں نے بیٹے سے کہا کہ ’’تمہارے سامنے والے پڑوسی مختار خان کا تعلق فیجی(FIJIE) سے ہے۔ وہاں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد کے علاوہ جگہ جگہ مساجد اور مدرسے بھی ہیں، تو میری دلی خواہش ہے کہ وہاں کا بھی ایک دورہ کرلوں۔ تم مختار خاں سے معلوم کرلو کہ اگر مَیں وہاں جانا چاہوں تو کیا وہ رہنمائی کے طور پر میرا گائیڈ بننا قبول کرے گا؟‘‘

بیٹا میری اس خواہش پر خوش ہوا، اس نے دوسرے ہی دن پڑوسی سے بات کی، تو وہ بخوشی رضامند ہوگیا۔ مختار خان کو تو کسی ویزے کی ضرورت نہیں تھی، میرے ویزے کے لیے بیٹے نے فیجی ایمبیسی میں اپلائی کر دیا اور ویزا منظور ہونے کے بعد اس نے سڈنی ہی سے فیجی کے ایک ہوٹل میں ہمارے لیے دوکمرے بھی بک کروادیئے۔ ہم دونوں کے سفری اخراجات بھی بیٹے نے اپنے ذمّے لے لیے۔

ہمیں جمعرات 11اپریل 2011ء کی صبح سڈنی سے روانہ ہونا تھا۔ بہرحال، ہم سوا چار گھنٹے کے فضائی سفر کے بعد فیجی ائرپورٹ اترے اور وہاں سے بذریعہ ٹیکسی ہوٹل پہنچ گئے۔ مختار خان کا بیٹا رستم، جو سڈنی میں منعقدہ مختلف محافل میں میری دینی موضوعات پرکی جانے والی تقاریر بہ توفیق ربّی سنتا رہا تھا، ہمارے پہنچنے سے قبل ہی فیجی پہنچ چکا تھا اور اُس نے وہاں مقیم اپنے ایک عزیز کو مطلع کردیا تھا کہ’’میرے ابّاجی کے ساتھ اُن کے ایک دوست بھی ہفتہ بھر کے لیے فیجی آرہے ہیں، وہ اسلامی موضوعات پر بہت اچھی تقریر کرتے ہیں۔‘‘ 

خیر، وقتِ مقررہ پر رستم مجھے اور اپنے اباجی کو ایئرپورٹ لے جارہا تھا کہ اسی دوران گاڑی میں اس کے اسی عزیز کا فون آگیا کہ ’’ہم دوستوں نے باہم مشورہ کیا ہے کہ آنے والے مہمان یہاں ’’مسجدالحق‘‘ میں جمعے کا خطبہ دیں اور نماز بھی پڑھائیں۔‘‘ رستم نے فون ہی پر آمادگی کا اظہار کرکے یہ بات مجھے بتائی تو مَیں نے کہا۔ ’’میرے عزیز! آپ نے مجھ سے پوچھے بغیر ہی انہیں میرے انتظار پرلگا دیا ہے۔

آپ جانتے بھی ہیں کہ طویل سفر، رات ہوٹل میں قیام، پھر250کلومیٹرSOVAکا سفر اور وہاں سے جمعے کی نماز سے پہلے دوسری ٹیکسی سے125کلومیٹر دور ’’مسجدالحق‘‘ پہنچنا بہت مشکل ہے۔ آپ کے ابّاجی نے بھی روانگی سے قبل آگاہ کردیا تھا، اور پھر سفری تھکاوٹ کے علاوہ میری خطبے کی تیاری ہے، نہ ہی سرِدست کوئی موضوع میرے ذہن میں ہے، تو عزیزم! ان سے کہہ دیں کہ اپنے خطیب ہی سے خطبہ و نمازِ جمعہ پڑھوالیں۔‘‘ رستم نے میری بات سننے کے بعد اپنے عزیز کو فون کیا کہ ’’ہمارے بزرگ دوست فرمارہے ہیں کہ جمعے کے خطبے کے لیے اُن کی تیاری نہیں ہے، لہٰذاآپ اپنے خطیب ہی سے پڑھوالیں۔‘‘

رستم نے جب اپنے طور پر انہیں جواب دے دیا تو مَیں مطمئن ہوگیا، مگر مَیں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرے انکار کے باوجود اللہ تعالیٰ نےمسجد الحق میں نمازِ جمعہ پڑھانے اور خطبہ دینے کے لیے میرا ہی انتخاب کر رکھا ہے۔ بہرحال، ہم SOVA پہنچے تو مختار خان نے طے شدہ95ڈالر کرایہ دینے کے لیے100ڈالر کا نوٹ ڈرائیور کو دیتے ہوئے کہا کہ ’’میرے پاس چینج نہیں ہے۔‘‘ ڈرائیور نے کہا۔ ’’میرے پاس بھی نہیں ہے،آپ کی مجبوری کے پیشِ نظر مَیں یہ کرسکتا ہوں کہ بقایا5ڈالر آپ کو مطلوبہ مسجد میں خود آکر دے جاؤں۔‘‘

ڈرائیور کی پیش کش پر ہم ٹیکسی سے بنا سامان اُتر آئے، پھر مَیں سوچنے لگا کہ دوسری گاڑی کے انتظار میں وقت ضائع ہوگا، ابھی کافی سفر باقی ہے اور نماز ِجمعہ کا وقت بھی قریب آتا جارہا ہے، ایسا نہ ہو کہ خطبہ اور نماز پڑھانا تو کیا، کہیں ہم نمازِ جمعہ ہی سے محروم نہ رہ جائیں، تو کیوں نہ اسی ٹیکسی ہی سے چلے جائیں۔ مختار خان بھی میری بات سے متفق ہوگیا اور ہم واپس ٹیکسی میں آبیٹھے، جس کے بعد ڈرائیور نے تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے بہت مستعدی سے ہمیں مسجد پہنچا دیا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے 5ڈالر کی عدم ادائی کو حیلہ بنادیا۔ مَیں باوضو تھا، لہٰذا مختار کے ساتھ مسجد میں داخل ہوگیا۔

مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ تاہم، خطبہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔مجھےاس بات پر حیرت ہوئی کہ خطبہ اب تک شروع کیوں نہیں ہوا۔ مَیں نے سوالیہ نگاہوں سے مختار خان کی طرف دیکھا، تو اس نے بغیر کوئی جواب دیئے اپنے اُسی عزیز کومیری آمد سے مطلع کرکے میرا تعارف کروادیا، اس کے عزیز نے پُرتپاک انداز میں سلام کے بعد انتہائی ادب سے کہا۔ ’’آئیں، خطبہ شروع کریں۔‘‘ مَیں نے تذبذب سے اُن کی طرف دیکھا تو کچھ اور نمازیوں نے بھی اصرار کیا ، مَیں نے مکرّر کہا کہ’’جناب! یہ مستقل خطیب کا حق ہے۔‘‘

لیکن خطیب نے بھی فوراً ہی خندہ پیشانی سے کہا۔ ’’آپ خطبہ پڑھیں، کوئی بات نہیں۔‘‘ مَیں حیران تھا کہ انکار کے باوجود وہاں موجود تمام افراد مجھ ہی سے خطبہ دینے اور نماز پڑھوانے پر بضد تھے، یعنی فیجی میں خطبہ دینا میرے ہی مقدر میں تھا۔ اُس وقت میرے ذہن میں کوئی موضوعِ خطبہ نہ تھا، مَیں کوئی موضوع سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک سورئہ انفال کی آیت13یاد آگئی، جس میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں کے لیے سخت عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی یا مخالفت کرے، تو اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ الحمدللہ، خطبہ شروع کیا اور قلیل وقت میں ابولہب (نبیﷺ کا چچا) اور اس کے بیٹوں کی، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت کا قصّہ بیان کیا۔ 

جب حضور اکرم ﷺ نے کوہِ فاران پر چڑھ کر لوگوں کو توحید کی دعوت دی، تو ابولہب نے واہی تباہی بکی، جس کے کچھ روز بعد سورئہ لہب نازل ہوئی۔ خطبے کے اختتام پر، مَیں نے امام کو نمازِ جمعہ پڑھانے کا اشارہ کیا، تو انھوں نےبڑے خلوص سے کہا کہ آپ ہی پڑھائیں۔

لہٰذا یہ سعادت بھی میرے حصّے آئی، نماز کی ادائی کے بعد مختار خان کے بھتیجے، سفیان نے دعوتِ ظہرانہ کا خاص اہتمام کر رکھا تھا۔ جب کہ ظہرانے کے بعدوہ ہمیں ہوٹل چھوڑ گیا۔ پھر ہفتہ بھراُسی ہوٹل میں قیام رہا۔ اس دوران جزائر کی سیروسیّاحت اور خُوب صُورت و دل کش مناظر سے خُوب لُطف اندوز ہونےکے بعد ہم واپس سڈنی لوٹ آئے۔ (شوکت محمود، گلشن ِراوی،ملتان روڈ، لاہور)

سنڈے میگزین سے مزید