تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈلز: ہنیہ، صبا اقبال
ملبوسات: مظہر علی کلیکشن
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکّاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
مشہور مقولہ ہے۔ ’’خُوب صُورتی دراصل دیکھنے والی آنکھ میں ہوتی ہے۔‘‘ یہ بات سو فی صد نہ سہی، مگر کسی حد تک تو درست تسلیم کی ہی جا سکتی ہے کہ ایک عام شخص جس منظر کو معمول سمجھ کرگزر جاتا ہے، وہی منظر کسی حسّاس دل کے لیے ایک مکمل کہانی بن جاتا ہے۔
جیسا کہ افتخار حیدر نے کہا۔ ؎ دونوں آنکھوں میں بَھرلیاجائے…حُسن محفوظ کرلیا جائے… زندگی سے کلام کرنے کو…اذنِ نُورِ سحرلیا جائے…ہم سے پاداش میں محبّت کی…جان لی جائے، سر لیا جائے…بے خطا ہے تو پھر بھی ڈر اے دوست…بےخطا ہی نہ دھر لیا جائے… شہرِ اُمید کتنا دل کش ہے… آؤ کچھ دن ٹھہرلیا جائے…کیسا سرسبز ہے تمہارا ساتھ…اِس کو تصویر کرلیا جائے۔ اور یہ ’’خاص نظر‘‘ جب کسی آرٹسٹ کو عطا ہو تو گویا برش باتیں کرنے لگتے ہیں، کینوس اِس گفتگو کا مکمل جہاں بن کر سامنے آتا ہے۔
ڈاونچی کی’’مونا لیزا‘‘ ہو یا کلاڈ مونیٹ کی ’’واٹر لِلیز‘‘، اِسی خاص نظر کے طفیل دنیا شاہ کارفن پاروں سےرُوشناس ہوئی۔ یہی مَن کا اُجلا پن لکھاریوں کے حصّے آجائے تو عام سے حالات و واقعات بھی کلاسیک بن جاتے ہیں۔ صدیوں کے فاصلے پر محیط محبّت کے جمالیاتی، جذباتی پہلوؤں کی لازوال داستان سُناتا شیکسپئر کا ڈراما ’’رومیو جولیٹ‘‘ ہو یا رومی و تبریز کے لازوال اسباق کے ساتھ قاری کو کسی اور ہی دنیا کی سیر پرلے جاتی ایلف شفک کی ’’فورٹی رُولز آف لو‘‘، سب دیکھنے والی خاص آنکھ ہی کی عنایات ہیں اور شعراء تو یوں بھی معمولی بات کو غیرمعمولی بنا کرپیش کرنے پہ ملکہ رکھتے ہیں، خصوصاً شان دار مشاہداتی، جمالیاتی ذوق بھی ہو تو اقبال کی ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ جیسی لازوال تخلیق سامنے آتی ہے، تو ورڈزورتھ سے ’’ڈیفوڈلز‘‘ تخلیق کروا لیتی ہے۔ یوں ہی کہیں پرانی دلی میں ’’دیوانِ غالب‘‘ بھی ترتیب پایا ہوگا۔
ایسے ہی کئی گم نام سازندوں نے جادوئی دُھنیں بنائیں، اُن پر کہیں امرت گھولتے بول ترتیب پائے اور پھر سریلی آوازوں نے اُنھیں امر کردیا۔ یعنی بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ خُوب صورتی اپنے آپ میں کوئی جامد حقیقت نہ سہی، مگر احساس، مشاہدے اور تخلیقی نظر کے باہمی امتزاج سے جنم ضرور لیتی ہے۔
ان عناصر کا باہمی ملاپ ایسی بصیرت کی بےداری کاسبب بنتا ہے، جو فن کو معنی، ادب کو زندگی اور شاعری کو دوام عطا کردیتی ہے۔ بقول حسن رضوی ؎ گئی رُتوں کو بھی یاد رکھنا، نئی رُتوں کے بھی باب پڑھنا… گلاب چہروں نے جو لکھی ہے تمازتوں کی کتاب پڑھنا…تمام رنگوں کی ایک رنگت، تمام موسم کی ایک نگہت…تمام چہرے حسین لکھنا، تمام آنکھیں سراب پڑھنا۔
اور…ہماری آج کی بزم آپ کو خوش بیاں، خوش رنگ، خوش خُو، خوش نظر و خوش دید اُسی صُورت لگے گی، جب آپ آنکھ میں خُوب صُورتی سموکر اِس پہ نگاہ کریں گے۔ ملاحظہ فرمائیے۔ روایتی، مشرقی طرز کا عکّاس سبز اور گہرے زرد رنگ کا غرارہ چولی، جس کی نفیس جیکوارڈ چولی کا رنگ چمک دار سبز ہے، تو پیلے رنگ کا سادہ غرارہ بھاری کام دار ’’پیچ ورک‘‘ اسٹائل دوپٹے کے ساتھ خُوب ہی غضب ڈھا رہا ہے۔
ساتھ شوخ و شنگ آتشی رنگ کے پہناوے کی قمیص پرچکن کاری کی جدّت و ندرت ہے، توسادہ، آرام دہ ٹراؤزر اِس ’’مونوکروم‘‘ اسٹائل کو گویا مکمل کررہا ہے۔ گہرے نیلے مائل سبز رنگ (Teal Blue) کے پُروقار فارمل لباس میں شیفون کی قمیص پر بَھری بَھری، مگر نفیس کڑھت اور تلّے کا کام بہت صفائی سے اُبھر کر سامنے آرہا ہے، تو ساتھ آرگنزا کے ہم رنگ دوپٹے کا انتخاب بھی لاجواب ہے، جس پر بڑے سائز کے پھولوں، جیومیٹریکل ایمبرائڈری کا حُسن نمایاں ہے۔
ہلکی سی قدرتی چمک لیے سُرمئی سلیٹی رنگ کی قمیص کے گلے اور سامنے کے حصّے پر سنہری دھاگے سے حسین کڑھت کی گئی ہے، جو اِسے ایک فارمل لُک دے رہی ہے، تو ساتھ آرگنزا کے دوپٹے پر سنہری گوٹا ورک نے پہناوے کے حُسن کو جیسےچار چاند ہی لگا دیئے ہیں۔
اِسی طرح سیاہ رنگ کی لانگ شرٹ پر بنارسی اسٹائل بھاری کام کے ساتھ سادہ سیاہ رنگ پلازو اور سیاہ ہی رنگ کے پلوؤں کے چوڑے ڈیزائن سے آراستہ دوپٹے کا انتخاب کیا گیا ہے، جو قمیص کے بھاری کام کو بہت حد تک متوازن کررہا ہے، تو چھوٹی کُرتی کے سیاہ غرارہ ڈریس میں غرارے کے جوڑ پر سنہری گوٹے کی آرائش کے ساتھ چولی خُوب بھاری بھرکم میٹیلک رنگ کڑھت سے آراستہ پیراستہ ہے۔ یہ سارے روایتی سے رنگ و انداز آپ کی کچھ خاص الخاص تقاریب کو ہزار چاند لگانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں، بشرطیکہ منتخب کرنے اور پھر دیکھنے والی نگاہ خُوب صُورت ہو۔