عالمی معیشت پر ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جارحیت سے کسی نہ کسی صورت میں جو تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ان سے مشرق وسطیٰ اور پاکستان سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک نہیں بچ سکا۔ عرب ملکوں میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں سے ایک تخمینے کے مطابق تقریباً دو سو ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ متحدہ عرب امارات ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان کو دیئے گئے ساڑھے تین ارب ڈالر، مدت ادائیگی مکمل ہونے پر واپس مانگ لئے۔ پاکستان اسی ماہ یہ رقم ادا کردے گا۔ اس سے زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کیلئے سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کیلئے پانچ ارب ڈالر کی منظوری دی ہے۔ اس سے حکومت پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 79؍ ہزار 9؍ سو ارب روپے تک پہنچ جائے گا اس کا مطلب قومی اسمبلی میں بیان کئے گئے وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ ہوگا کہ پاکستان کا ہر شہری ساڑھے تین لاکھ روپے کا مقروض ہوجائے گا۔ اس وقت ملک پر مجموعی مقامی قرضوں کا بوجھ 56679؍ ارب روپے اور بیرونی قرضوں کا 23203؍ ارب روپے ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک بھی پاکستان کو 15؍ سال کی رعایتی مدت کیلئے قرض دینے والا ہے جواس کے علاوہ ہوگا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاسوں میں شرکت کیلئے واشنگٹن میں ہیں توقع ہے کہ یہ عالمی ادارے بھی پاکستان کی مزید مدد کریں گے جو قرض کی صورت میں ہی ہوسکتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کا اربوں ڈالر کا مقروض ہے اور ملک کی معیشت اس وقت اس کی ڈکٹیشن پر چل رہی ہے۔ نئی ’’امداد‘‘ سے پاکستان پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
جدید دور میں دنیا کی معیشت قرضوں ہی کی مرہون منت ہے۔ پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کیلئے قرضے تو لازمی سمجھے جاتے ہیں مگر ترقی یافتہ ملکوں کا معاشی نظام بھی قرضوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔ امریکا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے لیکن سب سے بڑا قرض دار بھی وہی ہے۔ اس وقت اس پر 58؍ ارب ڈالر کے قرضے واجب الادا ہیں۔ ایران حملے کے ابتدائی دنوں میں جنگ پر اس کے دو ارب ڈالر روزانہ خرچ ہورہے تھے اس طرح اب تک اس کے 31؍ ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوچکے ہیں۔ قرضوں کا حصول کوئی بری بات بھی نہیں بشرطیکہ پیداواری اور فلاحی مقاصد کیلئے حاصل کئے جائیں۔ پیداواری قرضے کسی ملک کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے حاصل کئے جاتے ہیں جن کا مقصد عوام کیلئے روزگار اور مختلف النوع سہولتوں کی فراہمی ہوتا ہے۔ پاکستان کو ایک جائزے کے مطابق اگلے دس سالوں میں روزگار کے تین کروڑ مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کا مطلب ہر سال 25؍ سے 30؍ لاکھ اسامیوں کی تخلیق ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب سرکاری او رنجی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے۔ حکومت اپنے منصوبوں کیلئے ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرتی ہے لیکن قرضوں کے بوجھ کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔ اس وقت اصل قرضے تو اپنی جگہ پر رہتے ہیں ان کا سود ادا کرنے کیلئے بھی مزید قرضے لئے جاتے ہیں۔ اس طرح جو مقروض معیشت وجود میں آتی ہے وہ ملکی ترقی میں کوئی سودمند کردارادا نہیں کرسکتی۔ ملک اس وقت ترقی کرتا ہے جب حاصل کردہ قرضے زیادہ سے زیادہ پیداواری مقاصد کیلئے استعمال کئے جائیں اس معاملے میں نجی شعبے کی شراکت بھی ضروری ہے۔ قدرتی آفات، خاص طور پر سیلاب، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور غذائی قلت وغیرہ پر قابو پانے کیلئے مقامی وسائل کے استعمال کے علاوہ غیر ملکی امداد اور قرضوں کی بھی ضرورت پڑتی ہے ۔ اس وقت ڈالر ہی بین الاقوامی کرنسی ہے مقامی کرنسی کی قدر مسلسل گرنے کی وجہ سے ڈالروں میں لیا گیا قرضہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی مشکل ہوجاتی ہے اسی لئے دنیا متبادل کرنسی کی تلاش میں ہے۔ چین کا یو آن اسی لئے مقبول ہورہا ہے اور تیزی سے امریکی ڈالر کی جگہ لینے لگا ہے۔ چین نے دنیا کے 86؍ ملکوں سے یو آن میں ہی کاروبار شر وع کردیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی یو آن کو متبادل کرنسی کے طور پر قبول کرلیا ہے۔ ڈالر کے نظام نے پسماندہ ملکوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے کیونکہ مقامی کرنسیوں کی قدر مسلسل کم ہورہی ہے۔ موجودہ حکومت نے معاشی بحالی کیلئے قابل قدر کام کیا ہے مگر اس مقصد کیلئے اسے قرضے لینا پڑ ر ہے ہیں۔ وہ 24.5 ارب ڈالر کے قرضے لے چکی ہے جس سے ملک کے مزید دو کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ معیشت کو قرضوں سے نجات دلانے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ ڈالر سے نجات کے بارے میں سوچا جائے اور صنعت اور زراعت کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے۔