• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد میں ہونیوالے امریکہ ایران مذاکرات کی ناکامی کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل ایک بار پھر منڈلانے لگے ہیں۔ ایران پر دبائو بڑھاتے ہوئے امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کردی ہے اور کسی بھی ملک کے بحری جہاز کو آنے اور جانے سے روک دیا ہے۔ اسرائیل نے امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حمایت جبکہ نیٹو نے ناکہ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے تنازع کاحصہ بننے سے صاف انکار کردیا ہے۔ ردعمل میں ایران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہ کی ناکہ بندی کی گئی تو خلیج کی کوئی بھی بندرگاہ قابل استعمال نہیں رہے گی جس نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنادیا ہے۔ موجودہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکہ، ایران مذاکرات کسی معاہدے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے ڈیل کئے بغیر یہ کہتے ہوئے وطن روانہ ہوئے کہ ایران کی جانب سے جوہری پروگرام روکنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی ضمانت نہ دینے پر مذاکرات ناکامی کا شکار ہوئے تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران تاریخی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن امریکہ نے آخری لمحات میں اپنے مطالبات زیادہ سخت کردیئے جس سے مذاکرات ناکام ہوئے۔

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ، ایران مذاکرات سے یقیناً ایک اُمید پیدا ہوئی تھی لیکن مذاکرات کی ناکامی سے جہاں ایک طرف پاکستان افسردہ ہے وہاں دوسری طرف اسرائیل اور کچھ خلیجی ممالک کیلئے مذاکرات کی ناکامی باعث مسرت ہوگی کیونکہ یہ ممالک امریکہ ایران مذاکرات کے حق میں نہیں تھے۔ مذاکرات کے دوران ایران کے روّیے سے لگتا تھا کہ وہ مذاکرات کو طول دینا چاہتا تھا جس کیلئے امریکہ تیار نہ تھا۔ ایران کی ہمیشہ سے مذاکرات کو طول دینے کی پالیسی رہی ہے جو پہلے بھی ناکامی سے دوچار ہوچکی ہے۔ جنگ سے قبل بھی امریکہ نے ایران سے ہونے والے مذاکرات طویل ہونے پر ایران پر حملہ شروع کردیا تھا اور اس بار بھی امریکہ مذاکرات کو طول دینا نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر ایران سے مزید مذاکرات کیلئے تیار تھا۔ اگر ایران، امریکی مطالبات پر لچک کا مظاہرہ کرتا تو امریکہ جواب میں ایران کے دوسرے مطالبات بھی تسلیم کرنے پر آمادہ تھا مگر ایران اپنے دونوں موقف پر بضد رہا۔ ایسے میں امریکہ جو ایران پر حملے کے بعد اندرونی اور عالمی سطح پر شدید تنقید کا شکار تھا، اب اسے یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ اس نے اپنے نائب صدر کو ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان بھیجا مگر ایران کے سخت موقف کے باعث معاہدہ طے نہ پاسکا۔ اس طرح امریکہ کو عالمی سطح پر فیس سیونگ مل گئی جسکے بعد امریکہ نے اپنے اصل اہداف پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ میں پہلے بھی اپنے کالم میں تحریر کرچکا ہوں کہ وینزویلا کے بعد چین پر معاشی دبائو بڑھانے کیلئے ایران سے چین کو تیل کی سپلائی منقطع کرنا امریکہ کا اصل ہدف ہے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کہ ایران کو عالمی منڈی میں اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، چین کے خلاف امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے جسکے اثرات نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔ دوسری طرف ایران نے بھی کھلے لفظوں میں یہ کہہ دیا ہے کہ اگر اس کی بندرگاہ پر آنے جانیوالے بحری جہازوں کی ناکہ بندی کی گئی تو وہ خلیجی ممالک کی بندرگاہوں پر بحری جہازوں کی آمد و رفت کو ناممکن بنادے گا جس سے تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کو ہوگا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونیوالے مذاکرات نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے تھے بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن اور قوت کی نئی تشکیل کا عندیہ بھی دیتے تھے۔ اس تناظر میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی جو پاکستان کی بدلتی خارجہ پالیسی اور متوازن حکمت عملی کا مظہر ہے۔ پاکستان نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کو برقرار رکھا بلکہ پس پردہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ نازک توازن برقرار رکھنا کسی بھی ملک کیلئے آسان نہیں ہوتا مگر پاکستان نے اس حوالے سے قابل ذکر سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے اور یہی اصول امریکہ ایران مذاکرات میں بھی کارفرما نظر آیا۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر نہ پہنچ سکے جس کی بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان عدم اعتماد کا فقدان تھا تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ امریکہ دو ہفتے کی جنگ بندی پر عملدرآمد کررہا ہے۔ ایران کو بھی چاہئے کہ وہ وقت ضائع کئے بغیر دوبارہ مذاکرات کی ٹیبل پر آئے اور لچک کا مظاہرہ کرے تاکہ خطے بالخصوص ایران کو مزید تباہی سے بچایا جاسکے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے نہ صرف دنیا بھر میں اس کے وقار میں اضافہ کیا بلکہ اسے ایک قابل اعتماد ملک کے طور پر بھی منوایا جس نے ایک بڑے جنگی محاذ کو روک دیا۔ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی اور دونوں ممالک براہ راست بات چیت پر آمادہ ہوئے۔ یوں پاکستان، مسلم دنیا اور عالمی برادری کے درمیان ایک موثر پل کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ اس کامیابی کا سہرا پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو جاتا ہے جس پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارخراج تحسین کے مستحق ہیں۔

تازہ ترین