پاٹے خاں کی نمائش دنیا بھر کے سینما گھروں میں جاری ہے۔ بڑھتی ہوئی عوامی دلچسپی کی خاطر ہر گھر کی اسکرینیں بھی اس بین الاقوامی فلم کے کلپس گاہےگاہے دکھا رہی ہیں۔ پاٹے خان آج کے دور کا سب سے طاقت ور انسان ہے اور وہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق بدل کر بنانا چاہتا ہے۔ انسانوں نے صدیوں کے تجربات اور مشاہدات کے بعد قوموں کے درمیان تعلقات اور ہر فرد کے حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کا چارٹر ترتیب دیا، جس کا مقصد کمزور بھیڑوں کو شیروں سے بچانا تھا اور ہر ملک کے آمرانہ ریچھوں سے مرغیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے بھی اصول وضع کیے گئے تھے۔ پاٹے خاں ان اصولوں کو نہیں مانتا۔ وہ اخلاقیات کو نہیں طاقت کو اہم ترین سمجھتا ہے، وہ طاقت اور تلوار کے زور پر نئی دنیا تخلیق کرنا چاہتا ہے۔ فلمی پاٹے خاں کا سائیڈ ہیرو یاہو خواہ مخواہ ہی ہے۔ خواہ مخواہ کو آپ ہیر وارث شاہ کا کیدو سمجھ لیں۔ یہ امن کا دشمن ہے اور قتل و غارت پر یقین رکھتا ہے۔ اس کا جوش انتقام ٹھنڈا ہونے کو نہیں آرہا۔ یہ خود کچھ بھی نہیں مگر پاٹے خاں کی طاقت پر اکڑفوں دکھاتا ہے۔ فلم میں ہر منظر کے پیچھے خواہ مخواہ ہی کی لگائی ہوئی آگ ہے۔ فلم میں پاٹے خاں کا مقابل علامہ باغی ہے۔ پاٹے خان، طاقت کے نشے میں دُھت کردار ہے جبکہ علامہ باغی، ضد اور انا کا شکار ہے۔ دونوں کی لڑائی میں بے گناہ لوگ مرتے ہیں۔ دنیا بھر کی تیل کی سپلائی رکتی ہے۔ معیشت سست تر ہوجاتی ہے۔ اسٹاک مارکیٹس گر جاتی ہیں، گویا فلم صرف پاٹے خاں اور علامہ باغی کی لڑائی کو موضوع نہیں بناتی، دراصل اس لڑائی سے پھیلنے والی آگ ہر گھر اور ہر فرد تک پہنچ رہی ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ دنیا میں اصول، اخلاقیات اور قانون و انسان کا احترام ختم ہوجائے تو کیا ہوتا ہے۔ پھر جھوٹ، دھوکہ دہی، وعدوں کی خلاف ورزی اور مخالف کو نیچا دکھانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ فلم کا مرکزی خیال اس لڑائی کا کھوکھلا پن ہے جس میں جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ناظرین تجزیہ کرسکتے ہیں کہ عقل کا استعمال کیا جائے تو یہ لڑائی ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ فلم کی دلچسپ اور نمایاں ترین منفرد بات یہ ہے کہ پاٹے خاں اور علامہ باغی دونوں روایتی ہیرو کی تعریف پر پورے نہیں اُترتے۔ فلم میں دونوں ہی کو عقل سے خالی اور مضحکہ خیز روپ دیا گیا ہے۔ دونوں کا انداز آمرانہ ہے، ظالم اور ضدی کی لڑائی میں مارے بے چارے پیارے جارہے ہیں۔
فلم کا جو منظر دنیا بھر کے شائقین کیلئے سب سےزیادہ دلچسپی کا مظہر ہے، وہ اس جنگ سے دنیا میں کھلبلی پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔ اقوام متحدہ جو پاٹے خاں اور علامہ باغی کی جنگ رکوانے کا قانونی اختیار رکھتا ہے، وہ بے بسی اور ویرانی کا منظر دکھا رہا ہے۔ فلم میں دکھایا جاتا ہے کہ سلامتی کونسل کی کرسیوں پر مکڑی کے جالے لگ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی زباں بندی کردی گئی ہے اور دنیا بھر کے اقوام متحدہ کے مبصرین کی آنکھوں میں دھول پڑ گئی ہے۔ اس منظر کے فوراً بعد غزہ، لبنان، شام، لیبیا اور ایران میں بمباری اور آہ و بکا کے مناظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔اس المیہ منظر کے بعد اچانک پاٹے خاںکے طربیہ بیانات، فلم میں کامک ریلیف لاتے ہیں۔ پاٹے خان، پنجابی فلموں کے مظہر شاہ اور الیاس کشمیری کے پروٹو ٹائپ ہیں، وہ کبھی نسلیں اور تہذیبیں ختم کرنے کی بات کرتے ہیں اور دوسرے ہی لمحے امن کی جوت جگانےپر زور دینے لگتے ہیں۔ وہ دنیا کے سب سے جدید خطے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں کے لوگوں نے ہی انہیں لیڈر اور ہیرو بنایا ہے۔ فلم یہ سوال بھی پیدا کرتی ہے کہ قومیں اور خطے ایسے ہیرو کیوں کھڑے کرلیتے ہیں، کیا وہ کسی سے انتقام کی خاطر ایسا کرتے ہیں یا پھر لوگوں کی مادی ضرورتیں اُنہیں اعلیٰ اخلاقی اصولوں سے ہٹا کر گھٹیا معاشی فیصلوں پر مجبور کردیتی ہیں۔فلم کے رومانوی مناظر ایک نیا رنگ پیش کرتے ہیں۔ جیفری ایپسٹین اور پاٹے خاں کی دوستی میں رقص، موسیقی، حسن اور عیاشیوں کے مناظر پاٹے خاں کی جوانی کی کہانی سناتے ہیں یاہو خواہ مخواہ ہی کو ایک کرپٹ، عیاش اور کپتے کردار میں دکھایا گیا ہے جو کیدو کی طرح ہیر کے باپ کو پاٹے خاں کی جھوٹی سچی افواہیں اور شکایتیں پہنچاتا ہے۔ علامہ باغی کے افراد کو عبایہ اور برقعوں میں ملبوس پیش کیا گیا ہے۔ ایک خاتون جب اچانک عبایہ ہٹاتی ہے تو فلم میں دکھایا جاتا ہے کہ اس کے حسن سےکس طرح لوگوں کی آنکھیںخیرہ ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ پاٹے خاں کا نائب ایشیا کے دورے پر آتا ہے، وہ غائبانہ طور پر اس خاتون کا عاشق ہوجاتا ہے اور یوں ساری صورتحال میں ایک نیا کلائمیکس پیدا ہوجاتا ہے۔
اس منظر کے بعد وہی پاٹے خان اور علامہ باغی کی لڑائی مارکٹائی بم بارود، جہاز راکٹ اور ڈرونز کی بجائے اچانک تفریحی اور دلفریب مناظر نظر آتے ہیں۔ سبز اور سفید رنگ کا عبایہ پہنے ایک فرشتہ صورت شخص زمین پر اُترتا ہے۔ پاٹے خاں اور علامہ باغی دونوں اس فرشتے کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف یاہو خواہ مخواہ لگائی بجھائی کیلئے بار بار پاٹے خان کے پاس آنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسے دور بھگا دیتا ہے۔ اسی دوران فلم میں دور سے ایک ہجوم آتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہجوم قریب آتا ہے تو اس میں عورتیں، معصوم بچے اور بزرگ نظر آتے ہیں۔ اچانک ہجوم امن امن کے نعرے بلند کرتا ہے۔ اسی دوران فلم میں یاہو خواہ مخواہ کو ہجوم کے سامنے سے گزرتے دکھایا جاتا ہے۔ ہجوم کی نظر یاہو خواہ مخواہ پر پڑتی ہے تو اچانک اس پر پتھروں کی بارش شروع ہوجاتی ہے۔ یاہو خواہ مخواہ کیدو کی طرح پتھر کھاتا ہو ا منظر سے بھاگتا نظر آتا ہے۔ یاہو خواہ مخواہ کو بھاگتا دیکھ کر ہجوم تالیاں بجاتا اور پھر سے امن امن کے نعرے لگاتا ہے۔ ہجوم میں مسلم، عیسائی، یہودی اور بدھ مت سب نظر آرہے ہیں۔یہ فلم ہر کوئی دیکھ رہاہے، کوئی تالیاں پیٹ رہا ہے تو کوئی نعرے لگا رہا ہے، کوئی دعائیں مانگ رہا ہے تو کوئی اپنی مٹھیاں بھینچ کر غصے کا اظہار کررہا ہے۔ کوئی فلم کا حصہ ہے یا نہیں مگر اس جنگ کا حصہ ضرور ہے۔فلم سے ہٹ کر حقیقت کی دنیا کے مناظر بھی ہر ایک کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔ پاکستانیوں کیلئے خوش کن منظر یہ ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کی جنگ میں کامیاب ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ کیا پاٹے خاںاور کیا علامہ باغی، دونوں کیلئے یہ ثالث قابل قبول ہے۔فلم ہو یا حقیقت، عزت، قدر و قیمت اور مقام کی بہت اہمیت ہے مگر اصل بات وسائل اور پیسے کی ہے۔ پاکستان کی عزت بہت بڑھی ہے مگر فی الحال سب سے بڑا مسئلہ پیسہ نہ ہونا ہے یہ نہ ہو کہ مخالف کل کو کہیں کہ’’پلے نئیں دھیلا تے کردی میلہ میلہ‘‘ اس لیے حکومت کے حکمت کاروں کو ایسی اسٹرٹیجی بنانی چاہیے کہ عزت کے ساتھ ساتھ پاکستان کا معاشی مسئلہ ضرور حل ہو۔ سعودی عرب کی وقتی امداد اس معاشی بحران کیلئے وقتی ریلیف تو ثابت ہوسکتی ہے مگر لانگ ٹرم کیلئے دور رس پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے۔ فی الحال ہم فلم کے ایک کردار ہیں۔ فلم میٹھی لگتی ہے جبکہ حقیقت تلخ ہوتی ہے، اور ہمیں حقیقی کردار اپنانے کی ضرورت ہے تبھی معاشی مسئلہ دیرپا طور پر حل ہوگا۔