• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سارہ خان نے فیمینزم اور عورت مارچ سے متعلق کیا کہا؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

پاکستان کی معروف اداکارہ سارہ خان نے فیمینزم اور معاشرتی اقدار سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک صحت مند معاشرہ اقدار، عزت، احترام اور ذمہ داری کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔

سارہ خان، جو پاکستان کی مقبول ترین اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں، حال ہی میں اپنے شوہر اور گلوکار فلک شبیر کے ساتھ فیمینزم، عورت مارچ اور معاشرتی تبدیلیوں سے متعلق بیانات کے باعث سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہیں۔

اپنے ایک بیان میں سارہ خان نے کہا کہ ایک مضبوط معاشرہ اقدار، وقار، احترام اور ذمہ داری پر قائم ہوتا ہے، جب ایسے رویوں کو معمول اور قابلِ تعریف بنا دیا جائے جو ان اصولوں کو کمزور کرتے ہوں تو اس کے اثرات صرف ایک طبقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے پر پڑتے ہیں، اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی مرد ہے یا عورت، بلکہ یہ ہے کہ کیا فروغ دیا جانے والا طرزِ فکر ہماری ثقافت، خاندانوں اور آنے والی نسلوں کے لیے مثبت کردار ادا کرتا ہے یا نہیں۔

سارہ خان نے فیمینزم کے حوالے سے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے نزدیک حقیقی فیمینزم خواتین کو عزت، احترام، تعلیم، طاقت اور مقصد فراہم کرنے کا نام ہے، جبکہ اپنی معاشرتی اور ثقافتی اقدار سے جڑے رہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی حاصل کرنے کے لیے اپنے اخلاقی اور ثقافتی اقدار کو ترک کرنا ضروری ہے، ہر رجحان قابلِ ستائش نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر نظریے کو معمول بنایا جانا چاہیے، ہم ایسے فیمینزم کی حمایت کرتے ہیں جو معاشرے کو مضبوط کرے، وقار کو برقرار رکھے اور آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت اور ثقافت پر فخر کرنا سکھائے۔

دوسری جانب فلک شبیر نے بھی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جس ثقافت پر تنقید کر رہے تھے، اس کی مثال ایک تصویر ہی کافی حد تک واضح کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں بعض رجحانات کے حوالے سے والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید