پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجوں کا جب بھی ذکر ہوتا ہے مجھے حکیم محمد سعید(شہید) کا ایک جملہ یاد آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’غربت کا علاج یہ ہے کہ غریب ہوجایئے‘‘۔ مفہوم یہ ہوا کہ سادگی کو شعار بنا لیا جائے ،نام و نمود، نمائش اور دکھاوےکے اخراجات سے اجتناب کرتے ہوئے ملکی اثاثوں کو پیداواری مدمیں بروئے کار لایا جائے تو متعلقہ منصوبوں کے مثبت اثرات جلد سامنے آتے ہیں ۔ ان کی فکر کےبموجب تعلیم،صحت اور عوامی فلاح و بہبود پر توجہ پیداواری سرمایہ کاری کا لازمی جزو ہے۔ حکیم سعید نے اپنی ذاتی زندگی میں اس اصول کو کس طرح لاگو کیا، اس تفصیل میں جائے بغیر دوست اور پڑوسی ملک چین کے انقلابی قائدین چیئرمین ماؤزے تنگ ،وزیراعظم چواین لائی اور ان کے دیگر ساتھیوں کے سادہ طرز زندگی کا ذکر کروں گا۔ انکے زمانے میں چین اپنے پیروں پر کھڑے ہونےکی تگ و دو میں مصروف تھا عام لوگوں کو راشننگ سسٹم کے تحت ملنے والے کپڑوں میں محدود جوڑے ہی بن سکتے تھے جن سے سال بھر گزارا کرنا پڑتا تھا عظیم چینی رہنماؤں نے اس سے زیادہ حصہ لینا پسند نہ کیا ۔ ان کے کپڑے پھٹ جاتے تو پیوند لگالیتےتھے، پھٹے ہوئے جوتے پہننے میں انہوں نےعار محسوس نہیں کیا۔ غیر ملکی مہمانوں کے استقبال کے موقع پر بھی پیوند زدہ کپڑوں کی جامہ زیبی اور جگہ جگہ جوڑ لگا کر سلوائے گئے جوتے غربت کی کہانی نہیں وقار کی بلندی کی داستان محسوس ہوتے۔چینی قیادت کے ہر عمل نےایسے معیارات قائم کئے جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوگئے ۔ چینی قائدین نےمعیار زندگی ، کھانےپینےاور دیگر ذاتی اخراجات میں کسی طور بھی خود کوبلند تر سہولتوں یا مراعات کا مستحق نہیں قرار دیا ۔ اپنے عوام کی حالت بہتر بنانے کے منصوبوں اور اقدامات پر توجہ دی اور ان کے قریب تر رہنا اپنا اولین فرض جانا ۔ آج وہی چین اپنے رہنماؤں کی کاوشوں ، محنتوں اور دور اندیشانہ منصوبوں کے تسلسل کے ساتھ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں ایک بڑی صنعتی طاقت ، برآمدات کا مرکز اور عالمی سپلائی زنجیر کا ایسا محور سمجھا جاتا ہے جس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑتا ہے ۔ عوامی جمہوریہ چین دنیا کی معیشت کے لحاظ سےGDPمیں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔
چین (جسے ہم آئرن فرینڈ کہتے ہیں) وہ ملک ہے جو معاشی مسائل حل کرنے سمیت متعدد شعبوں میں ہمارے لئے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس نے بھی معاونت میں بخل سے کام نہیں لیا ۔کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے ملک کی منصوبہ بندیوں، مختلف شعبوں کی کارکردگی بڑھانے اور کرپشن ختم کرنے کے سلسلے میں چینی ماڈل سے فائدہ اٹھاتے نظر آئیں۔ ہم اپنی قومی زندگی میں جن مراحل سے گزرے ان میں متعدد بار رکاوٹوں اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ۔اس باب میں یہ بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ عزم صمیم نے ہر چیلنج میں آگےبڑھنےکی کوئی نہ کوئی صورت تلاش کرلی۔قوموں کو اپنی زندگی میں قدرتی آفات(زلزلوں، سیلابوں ، طوفانی بارشوں ، سمندری طوفانوں) کے علاوہ عالمی و علاقائی حالات کے جھٹکوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ نت نئے چیلنجوں کے ساتھ گزارا کرنا، نمٹنا اور انکا حل تلاش کرنا پڑتا ہے ۔قوموں کی بقا کا راز اسی نکتہ میں مضمر ہے کہ وہ اپنی حفاظت کیلئے ہر دم مستعد رہتی ہیں ۔ سال گزشتہ (2025) کے ابتدائی مہینوں سے اب تک غیر معمولی واقعات کی ایک فہرست ہے جس میں 7مئی 2025سے لیکر 10مئی 2025کے واقعات کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ان چار دنوں نے خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دی جبکہ اسلام آباد سفارتی میدان میں ایک متوازن اور فعال کردار کے ذریعے اپنی موثر موجودگی منوانے میں کامیاب رہا۔ امریکا اور ایران کے درمیان 47سال کی طویل مدت کے بعد ہونیوالی سفارتی پیش رفت اور بالواسطہ رابطہ کاری کو پوری دنیا نے دیکھا، محسوس کیا ہے ۔ جنگ بندی کے دوران فریقین کے درمیان جاری رابطوں اور پیغامات کے سلسلے نے اس امید کو قوی کیا کہ آنیوالے دنوں میں بہترنتائج سامنے آسکتے ہیں۔ یہ صورتحال کا ایک پہلو ہے جو سفارتی پیش رفت اور علاقائی رابطوں کی بہتری ظاہر کرتا ہے اس کیساتھ وہ پہلو بھی ہے جہاں سے گفتگو کا آغاز ہوا تھا یعنی غربت کا علاج کیسے کیا جائے؟ اس سوال کیساتھ جب ہم آگے بڑھتے ہیں تو ہمارے سامنے پھر وہی جواب آجاتا ہے کہ ’’غریب ہوجایئے‘‘ یعنی سادہ زندگی اختیار کیجئے جو لوگ کم وسائل کے حامل ہیں وہ تو اپنی مجبوریوں کے باعث سادگی اور قناعت کی منزلوں سے کہیں نیچے فاقہ کشی ، مالی مصائب، ذہنی و جسمانی بیماریوں کے شکنجے میں پھنسے نظر آتے ہیں ۔ اس باب میں کھلے دل سے اعتراف کیا جانا چاہئے اپنی فلاحی تنظیموں کی خدمات کا جن کے دسترخوانوں نے جانے کتنے لوگوں کی خود کشی یا کمیِ خوراک سے آنیوالی موت کا راستہ روک رکھا ہے ۔صاحب ثروت طبقے پر اس باب میں دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اول یہ کہ وہ نہ صرف ٹیکس نیٹ میں آکر قومی ضروریات کے حوالے سے اپنا پورا حصہ ادا کرے بلکہ تام جھام روک کرپسماندہ بستیوںکی خبر گیری سمیت معاشرے میں ایسی فضا قائم کرے جس میں ہر پڑوسی دوسرے پڑوسی کیلئے خوراک اور ضروریات زندگی کی فراہمی کا اسلامی تعلیمات کے مطابق خود کو ذمہ دار سمجھے اور اپنی ان ذمہ داریوں کی تکمیل میں دشواریاں محسوس کرے تو دوسرے پڑوسی کی مدد لینے میں تامل نہ کرے۔ بھوکا، ضرورت مند ، بیماری میں مبتلا ہر پڑوسی بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب تمام پڑوسیوں کی مدد اور توجہ کا مستحق ہے۔وطن عزیز کو حق تعالیٰ نےماضی قریب میں بے پایاں کامیابیوں سے نوازا ہے اور اسکی ذات سے امید ہے کہ وہ 79ہزار 288ارب روپے کی بلند سطح پر پہنچے قرضوں سے چھٹکارا پانے ،تجارتی خسارے کو منافع میں بدلنے اور دیگر کامیابیوں کے حصول کی منزل تک رسائی سہل کردے گا ۔ لیکن اس باب میں معاشرے کے تمام طبقوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہونگی جب کہ حکمرانوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس باب میں اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت سے ایک لائحہ عمل تیار کرکے حالات کی بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات یقینی بنائیںگی۔