گزشتہ کالم میں پاکستانی سفارت کاروں کی مہارت اور سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ایران امریکہ مذاکرات میں انکی پروفیشنل سفارت کاری کی کامیابی کا ذکر کیا گیا، دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی سفارت کاروں نے پانچ دہائیوں تک ایک دوسرے سے دست و گریباں رہنے والے امریکہ اور ایران کے حکمرانوں کو بات چیت کی میز پر آمنے سامنے بٹھا دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر دنیا کے تمام دارالحکومتوں میں ایک کامیاب سفارتی ٹیم کے طور پر ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں سیکرٹری خارجہ محترمہ آمنہ جنجوعہ اور انکی سفارتی ٹیم کی شب و روز محنت کو بھی سلام کرنا پڑے گا جنہوں نے اسلام آباد میں تاریخی مذاکرات کی کامیابی کیلئے کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستانی سفارت کار اپنی پروفیشنل سفارتکاری کا لوہا کئی بار منوا چکے ہیں۔ اب انکی سفارتکاری میں ملٹری سفارتکاری بھی شامل ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے، اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اپنے دوست وٹکوف اور اپنے داماد پر مشتمل وفد کو اسلام آباد میں ایرانی وفد سے بات چیت کیلئے بھیجا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس امریکی وفد مذاکرات کے دوران واشنگٹن میں اپنے زعماء سے مسلسل رابطے میں رہا اور مذاکرات کے دوران ہر پوائنٹ پر راہنمائی حاصل کر تا رہا۔ پاکستان نے پہلے دونوں وفود کیساتھ علیحدہ علیحدہ بات چیت کرکے ٹمپریچر کو کم کیا اور پھر دونوں وفود کو آمنے سامنے بٹھا دیا۔ تاہم اکیس گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد بھی بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی ثالثوں نے بھی اپنی طرف سے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی بھر پور کوشش کی حتیٰ کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی دونوں وفود کے ساتھ بات کی مگر امریکی نائب صد رمذاکرات کی کا میابی کا اعلان کئے بغیر اسلام آباد سے رخصت ہو گئے۔ حسبِ معمول صدر ٹرمپ، جو جلدی میں کیے جانے والے اپنے اقدامات کی وجہ سے مشہور ہیں، نے اگر چہ جنگ بندی کی تو پاسداری کی مگر اپنے بحری جہازوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر کے ایران سے آنے والے تمام جہازوں پر ہرمز سے گزرنے پر پابندی عائد کر دی۔ اسکا مقصد یہ تھا کہ ایران اپنا تیل چین اور دوسرے ممالک کو فروخت نہ کرسکے، کیونکہ خبریں آرہی تھیں کہ ایران اپنا تیل فروخت کر کے پیسے کما رہا ہے۔ ایران کی کمائی کو روکنے اور چین کو تیل کی سپلائی بند کرنے کیلئے صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر کے ایران کو معاہدہ کرنے کیلئے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہےتھے ۔ ذرائع سے خبریں آ رہی ہیں کہ نوے فیصد نکات پر راضی نامہ ہو چکا تھا۔ صرف چند نکات جن میں سرفہرست یورینیم کی حوالگی اور جوہری پروگرام کا تسلسل شامل ہیں پر اتفاق نہ ہو سکا۔ امریکہ کی کو شش ہے کہ افزودہ یورینیم اسکے حوالے کر دیا جائے اور جوہری پروگرام بند کر دیا جائے۔ جبکہ ایران چاہتا تھا کہ افزود ہ یورینیم اپنے سول و جوہری پروگرام کیلئے اپنے پاس رکھے۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول دوسرا بڑا مسئلہ ہے جو حل طلب ہے امریکہ ہزاروں میل دور سے آکر آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہتا ہے جبکہ صدیوں سے اس سمندری راستے پر ایران اور عمان کا کنٹرول ہے۔ ایران اگر جنگی نقصان پور ا کرنے کیلئے اس راستے پر ٹول لگانا چاہتا ہے تو یہ اسکا حق ہے کیو نکہ گزشتہ پچاس سال سے امریکہ نے ایرانی اثاثوں پر قبضہ کر کے انہیں فریز کر رکھا ہے۔امریکہ یہ اثاثے ایران کو واپس کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے مگر امریکہ دھونس سے ایران کو کنٹرول میں لانا چاہتا ہے۔ا یرانی تہذیب کو ختم کرنے کی صدر ٹرمپ کی دھمکی عیاں کرتی ہے کہ امریکی صدر ذہنی طور پر ایران سے مرعوب ہیں ۔ ایرانی قوم نے جنگ کے دوران اپنی حکومت کیساتھ جس یک جہتی کا مظاہرہ کیا ہے اس نے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مایوسی میں شدید اضافہ کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے دوسرے دور کا اشارہ دیکر ظاہر کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے مذاکرات کےدوسرے دورکیلئے بھی اسلام آباد کا عندیہ دیا ہے۔ پہلے دور کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیرنے اپنی ثالثی کی کوششوں کو جاری رکھا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی بین الاقوامی پلئیرز کیساتھ رابطے میں رہے جس سے مذاکرات کی فضا سبو تاژ ہونے سے بچی رہی اور اب دونوں ممالک اسلام آباد میں ہی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اسلام آباد اکارڈ کو فائنل کریں گے ۔ مذاکرات کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بھی ممکن ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود اسلام آبادآ کر معاہدے کو فائنل کریں۔ جس کیلئے ایرانی صدر کو بھی اسلام آباد آنا پڑیگا۔ کیونکہ امریکہ میں ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کیلئےصدر ٹرمپ اس معاہدے کا سارا کریڈٹ خود لینے کی کوشش کریں گے۔ اگر وہ اسلام آباد آکر مذاکرات میں شریک ہوکر معاہد ہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کی ایک بڑی کامیابی مانی جائیگی۔ لہٰذا پاکستان اپنے تعلقات کی وجہ سے امریکی صدر کو ان کی اسلام آباد آمد پر خوش آمدید کہے گا اور ان کا استقبال فقید المثال ہو گا۔ ویلکم پریزیڈنٹ ٹرمپ ... خوش آمدید صدر مسعود پزشکیان ۔