• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

Waterloo ویسے تو بلجیم کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام ہے مگر انگریزی میں اسے شکست کے استعارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے یورپ کے مردِ آہن نپولین بونا پارٹ کوڈیوک آف ولنگٹن نے یہاں 1815ء میں حتمی شکست دی تھی۔ نپولین اور واٹر لو کے بغیر یورپ کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی یہی وُہ واقعہ ہے کہ جسکے بعد سلطنت عظمیٰ برطانیہ دنیا بھر کی سپر پاور بن کر ابھری۔ واٹر لو کی فتح اور شکست سے جڑے سبق آج کے حالاتِ حاضرہ پر بھی منطبق ہوتے ہیں۔ فرانس اور برطانیہ کی عظیم بننے کی خواہش اور سمندروں پر حکمرانی کا جذبہ اس جنگ میں بھی کار فرما تھا اور آج کی امریکہ ایران جنگ میں بھی نمایاں عنصر کے طور پر موجود ہے۔ نپولین بونا پارٹ نے ایک سپاہی سے جرنیل اور پھر ڈکٹیٹر حکمران بننے تک کے جو مراحل طے کئے وہ دنیا بھر کے سیاستدانوں اور جرنیلوں کیلئے دلچسپی کا موضوع رکھتے ہیں۔ نپولین کے تاریخ پر اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لیجنڈری برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل خود نپولین کے بڑے مداحوں میں شامل تھے۔ نپولین اسلئے بھی اہم تاریخی مرتبہ رکھتا ہے کہ وُہ وسیع مطالعہ کا حامل تھا ۔سکندر اعظم یونانی، جولیس سیزر اور جرمنی کے فریڈرک اعظم اس کے پسندیدہ ہیرو تھے اور وُہ سکندراعظم کی طرح ہر جنگ میں کوئی نہ کوئی نیا جنگی منصوبہ آزماتا تھا نپولین نے 60 جنگیں لڑیں جن میں سے صرف وہ 6میں ہارا باقی سب اس نے جیتیں۔ نپولین کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اسے شکست دینے والے ڈیوک آف ولنگٹن نے کہاتھا ’’ ہمارے زمانے، پچھلے زمانے اور آنیوالے زمانے، سب کا بہترین سالار ’’نپولین‘‘ تھا۔

عام فہم زبان میں واٹر لو کو ایک عہد کے خاتمے اور نئے عہد کی شروعات سمجھا جاتا ہے پاکستان کے مخصوص سیاسی حالات میں امریکہ ایران جنگ کا جو بھی مستقبل ہو کوئی جیتے یا ہارے صلح ہو یا لڑائی ۔ پاکستان کی سیاست کا واٹر لو ہوچکا۔ اس واقعے سے پہلے کی سیاست سرے سے اور تھی اور اسکے بعد کی سیاست سرے سے اور ہوگی۔ نپولین کہا کرتا تھا ’’میں ہی انقلابِ فرانس ہوں‘‘ نپولین نہ رہا تو سب کچھ بدل گیا۔پاکستان میں بھی تبدیلی اور انقلاب کے نعرے لگتے رہے ہیں مگر تازہ واٹر لو نے تبدیلی اور انقلاب کو داغ لگا دیا ہے اور ’’مسٹر تبدیلی‘‘ کو فی الحال قومی اور بین الاقوامی حالات نے مکمل طور پر پس منظر میں دھکیل دیا ہے ۔بدلتی بین الاقوامی صورتحال میں نون، پیپل اور مولانافضل الرحمٰن نے تو ریاست کے جھنڈے پر صاد کہہ دیا ہے، تحریک تحفظ آئین نے بھی داد دی ،جماعت اسلامی بھی مخالفت نہیں کررہی ،واحد جیل میں بیٹھے خان کے ترجمان ریاست کی موجودہ پالیسیوں کی مخالفت کر رہے ہیں ان کا بیانیہ پٹنا انکاواٹر لو ہے اور یہ بیانیہ ہی خان کا واحد ہتھیار بنا ہوا تھا اسلئے اس بیانیے کی شکست تحریک انصاف کا سیاسی واٹر لو ہے۔غیر جانبداری اور تحقیقی انداز سے جائزہ لیا جائے تو خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اورالیکشن 24 میں ناکامی پر تحریک انصاف کے بیانیے میں اچھی خاصی جان تھی اور اسکے جھوٹے سچے خریدار بھی بہت تھے، اوورسیز میں یہ بیانیہ بہت تیزی سے بکا مگر صدر ٹرمپ کے دوسری بار امریکی صدر منتخب ہونے سے لیکرآج تک تحریک انصاف کے یوٹیوبرز اور انکے چاہنے والوں نے جو بیانیہ بنایا ہے وُہ بار بار نہ صرف پٹ رہا ہے بلکہ انکے جھوٹ کو بے نقاب کرکے انکی غلط نیت کو عیاں کر رہا ہے۔ کسے یاد نہیں کہ صدر ٹرمپ کے منتخب ہونے سے پہلے یہاں سینہ تان کر دعوے کئے جاتے تھےکہ ٹرمپ آئیگا تو اگلے ہی دن خان رہا ہو جائیگا پھر امریکی کانگریس کے کچھ لوگوں کو پاکستان کیخلاف پروپیگنڈے پر لگا دیا گیا کبھی ٹرمپ حکومت کے کسی رکن کا نام لیکر تبدیلی کا انتظار کیا جاتا رہا اور کبھی حکومت کو اقتصادی اور دفاعی پابندیوں سے ڈرایا جاتا تھا، یہ افواہیں اور اندازے سو فیصد غلط ثابت ہوئے،سیاسی واٹر لو میں شکست کے اسباب وہیں سے شروع ہوئے،پاک بھارت جنگ میں انہی یوٹیوبرز نے بھارت سے امیدیں باندھیں۔ جنگ کے نتائج پاکستان کے حق میں نکلے، پاکستان نے نہ صرف بھارت کو شکست دی بلکہ دنیا نے بھی 70 سال بعد واقعی مانا کہ پاکستان فتح یاب ہواہے یہ سیاسی واٹر لو کی دوسری شکست تھی جو انصافی بیانیے کو ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے جنگ کے بعد فیلڈ مارشل اور پاکستان کی فیصلہ کن فتح کی تعریف شروع کی تو سمجھا گیا کہ ٹرمپ بھارت اور مودی کو دبانے یا نیچا دکھانے کیلئے ایسا کر رہے ہیں مگر صدر ٹرمپ کا پاکستانی فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی تعریف کا بیانیہ مسلسل جاری رہنا تحریک انصاف کی تیسری سیاسی واٹر لو ہے، اسی پربس نہیں جب سب پروٹوکولز اور روایات کو ختم کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہائوس میں براہ راست ملاقات ہوئی تو تحریک انصاف کے بین الاقوامی بیانیے کا غبارہ پھٹ گیا۔ غبارے کے پھٹنے کے بعد انہی یوٹیوبرز نے پینترا بدلا پہلے پاکستان کو امریکہ سے ڈراتے تھے اب نیا بیانیہ یہ لائے کہ دراصل پاکستان امریکہ کا ایجنٹ بن گیا ہے حالانکہ پہلے ثابت کیا کرتے تھے امریکہ کے سب سے وفادار ایجنٹ یہ خود ہیں اور انکے بل بوتے پر دوسروں کو ڈراتے تھے۔ واٹر لو کہیں یا خطے کے تناظر میں پلاسی کی چوتھی جنگ کہہ لیں تحریک انصاف کے جھوٹے یوٹیوبرز کے بیانیے کو یہاں بھی شکست ہوئی ۔ ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی تو انصافی یوٹیوبرز نے یہ بے انصافی موقف اپنایا کہ پاکستان امریکہ کا اتحادی اوردراصل ایران کا مخالف ہے اب ان یوٹیوبرز نے ایران کے حق میں موجود پاکستانیوں کے جذبات سے کھیلنا شروع کر دیا اور تاثر دیا کہ امریکہ اور پاکستان اندر سے ملے ہوئے ہیں اور پاکستان ایران کی نہیں امریکہ کی مدد کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل نے تہران کا دورہ کرتے ہوئے فیصلہ کن واٹر لو فتح حاصل کرلی جب انہوں نے ثابت کیا کہ پاکستان کے کردار کی نہ صرف صدر ٹرمپ قدر کرتے ہیں بلکہ ایرانی بھی اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں یہ سفارتی اور بین الاقوامی مقام ہمیں پہلی دفعہ ملا ہے اب تحریک انصاف کے مصنوعی بھونپو چاہتے تو ریاست کے حق میںاپنا بیانیہ بدل سکتے تھےمگرپانی پت کی پانچ جنگوں کے برابر واٹر لوجنگ میں فیصلہ کن شکست کے باوجود اسی پرانے بیانیے کو چلاتے جارہے ہیں جبکہ اب سیاست نہیں بین الاقومی امور ترجیح بن چکے ہیں ،سیاست نہیں بلکہ ریاست پہلی ترجیح بن چکی ہے، حکومت کی تبدیلی نہیں ریاست کی مضبوطی پہلی ترجیح بن گئی ہے اور تو اور تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر ایاز امیر نے آج اعتراف کیا ہے کہ وُہ پہلے غلط کہتے رہے حقیقت تویہ ہے کہ دفاع کو اہمیت نہ دینے والی ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔ گویا اب ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا اور نہ کھڑا ہونا اہم ہے، سیاست اس وقت موضوع ہی نہیں ہے اس کا فیصلہ بعد میں ہو جائے گا اور ظاہر ہے کہ وُہ بھی کرنا ہی ہوگا ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دفاع کے ذریعے معاشی استحکام کا فارمولا یقینی طور پر کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے۔ برطانیہ نے واٹر لو کے بعد دنیا بھر میں تسلط قائم کیا معاشی و سیاسی خوشحالی حاصل کی پاکستان تو صرف ثالث ہے حکمرانی نہیں چاہتا، باعزت طور پرجینے کا حق چاہتا ہے کسی سے لڑے بغیر اور کسی کا ایجنٹ بنے بغیر۔ پاکستان جنگ میں فریق نہیں تھا مگر اس جنگ نے اسے اندرون ملک سیاسی بیانیےمیں واٹر لو فتح دلا دی ہے اب کوئی نئی کہانی بنائیں پرانی تو پٹ چکیں.....!

تازہ ترین