• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’یہ بتائیے کہ صرف دو سال پہلے ایران اور پاکستان ایک دوسرے پر میزائل فائر کر رہے تھے اور دو سال کے اندر اندر ایران میں تشکر پاکستان کے نعرے لگ رہے ہیں ، دونوں ممالک کے تعلقات میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی ؟ ‘‘ سوال سُن کر میں مسکرایا اور پھر عرب صحافی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں کافی اُتار چڑھاؤ آتا رہا ہے لیکن دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ نیتن یاہو نے پچھلے سال امریکا کیساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا تو جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ایران کی جوابی کارروائی نے پاکستانیوں کے دل خوش کر دیئے کیونکہ پاکستانی عوام غزہ کے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کے باعث بہت رنجیدہ تھے ۔ پاکستان کی حکومت نے بھی پچھلے سال ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کی بھرپور مذمت کی اور یوں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط ہو گیا ۔ اس سال جب اسرائیل نے امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر ایک اور حملہ کیا تو پاکستانی عوام کی اکثریت دوبارہ ایران کے ساتھ کھڑی ہو گئی ۔ پاکستانیوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کی شہادت پر ایسے سوگ منایا جیسے وہ اُن کے قریبی عزیز تھے۔ ایران کے میزائلوں نے ایک دفعہ پھر اسرائیل اور امریکا کا غرور خاک میں ملا دیا ۔ اس جنگ کے باعث پاکستان کیلئے کچھ مشکلات بھی پیدا ہوئیں کیونکہ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکا کے فوجی اڈوں پر حملے کر دئیے تھے۔ ان سب خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن عام پاکستانی اس جنگ میں ایران کے ساتھ کھڑا تھا۔جب پاکستان نے جنگ بند کرانے کیلئے کوششوں کا آغاز کیا تو ایرانی حکومت نے پاکستان کی نیت پر شک نہیں کیا ۔ پاکستان واحد ملک تھا جو امریکا اور ایران دونوں کو بطور ثالث قبول تھا ۔ اگر ایرانی یہ جنگ ہار جاتےتو ثالثی کی نوبت ہی نہ آتی اسلئے پاکستان کو بطور ثالث جو عالمی مقام ملا ہے اُس کے پیچھے ایرانی قیادت کی قربانیوں اور ایرانی قوم کی شجاعت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ میرا جواب سُن کر عرب صحافی نے اثبات میں سرہلایا لیکن صحافیوں کی اس محفل میں موجود ایک امریکی خاتون نے اپنے اُلجھے ہوئے بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئے بڑے شائستہ لہجے میں ایک مشکل سوال داغ دیا ۔ پوچھنے لگیں کہ آپ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں توازن کب تک قائم رکھیں گے ؟ کبھی نہ کبھی تو آپکو اپنے اصل اتحادی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑئیگا؟ میں نے اپنے ان غیر ملکی صحافی دوستوں سے کہا کہ میں پاکستانی ضرور ہوں لیکن حکومت پاکستان کا ترجمان نہیں ہوں آپ کو خارجہ پالیسی کے متعلق پوچھنا ہے تو دفتر خارجہ سے رابطہ قائم کریں کیونکہ بعض معاملات پر میری رائے اپنی حکومت سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد کے ایک ریستوران کے میز کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تمام صحافی ہنسنے لگے ۔ امریکی خاتون صحافی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں آپکو 2003 ء سے جانتی ہوں جب ہم پہلی دفعہ عراق جنگ کے دوران بغداد کے فلسطین ہوٹل میں ملے تھے ۔ آپ پہلے بڑی کھری کھری باتیں کرتے تھے اب آپکو بھی سیاستدانوں کی طرح مشکل سوال کا جواب گول کرنا آگیا ہے ۔ یہ سُن کر میں بھی ہنس دیا اور پھر سنجیدہ لہجے میں کہا کہ میں نے جواب گول نہیں کیا ۔ میں نے تو جواب دینے سے پہلے یہ واضح کیا ہے کہ میری ذاتی رائے حکومت پاکستان کی پالیسی سے مختلف بھی ہو سکتی ہے کیونکہ حکومت پاکستان بار بار ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرتی ہے لیکن میں ٹرمپ کو امن کا نہیں صرف جنگ کا سفیر سمجھتا ہوں ۔ امریکی خاتون صحافی نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا کہ تو پھر میرے مختصر اور سادہ سے سوال کا جواب دے دیجئے ! میں نے جواب میں عرض کیا کہ میرے خیال میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کا اصل مقصد مسلمانوں کے مقدس مقامات کو صہیونی سازشوں سے بچانا ہے ۔ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران سعودی عرب میں امریکا کے فوجی اڈوں پر حملے کئے تو پاکستان نے ایران کو بار بار یاد دلایا کہ ہمارا سعودی عرب سے دفاعی تعاون کا معاہدہ ہے ہمیں کسی امتحان میں مت ڈالو۔ ایران نے جواب دیاکہ اگر سعودی عرب کی فضائی حدود سے ہم پر حملہ نہیں ہو گا تو ہم بھی سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ نہیں کریں گے ۔ پاکستان نے پوری کوشش کی کہ ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے پر حملے نہ کریں ۔ سعودی عرب نے بہت تحمل کا مظاہرہ کیا جو قابل تحسین ہے اسی لئے سب سے کم حملے سعودی عرب پر ہوئے ۔ اُمید ہے کہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ایران اور امریکا ایک معاہدے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں لیکن ٹرمپ کے غیر ذمہ دارا نہ بیانات اور ڈرامے بازیوں کی وجہ سے بار بار معاملات خراب ہو جاتے ہیں ۔ ٹرمپ کے اس رویے نے سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ امریکا ایک ناقابل اعتماد اتحادی ہے اور آنے والے وقت میں ایران کیساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنا ہی پورے خطے کا اصل مفاد ہے۔پاکستان آنے والے وقت میں ایران اور سعودی عرب کو دو بھائیوں کی طرح ساتھ لیکر چلے گا۔ دونوں بھائیوں کے مشترکہ دشمن کوشش کریں گے کہ انہیں آپس میں لڑایا جائے لیکن پاکستانی قوم اس لڑائی کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرئیگی۔ امریکی خاتون صحافی نے کہا کہ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ امریکا نے ایران کو ایٹمی طاقت بننے کی اجازت نہیں دی اور ایک دن پاکستان کے ایٹمی ہتھیار بھی پاکستان اور امریکا کے درمیان تنازع کھڑا سکتے ہیں ؟ میں نے فوراً جواب میں کہا کہ آپکی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ نے حال ہی میں پاکستان کے میزائل پروگرام کے بارے جو غیر ضروری بیان دیا وہ بتاتا ہے کہ امریکا میں بھارت نواز صہیونی لابی عالمی سیاست میں پاکستان کے نئے کردار سے کافی ڈسٹرب ہے لیکن یاد رکھئے کہ آج پاکستان آپکی مجبوری ہے ۔ ٹرمپ نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ ایران سے ہمارا سیز فائر کروا دو ۔ جب پاکستان نے سیز فائر کروا دیا تو ٹرمپ نے عجیب و غریب بیانات دیکر پاکستان کیلئے بار بار مشکلات کھڑی کیں ۔ ٹرمپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستان نے امریکا کو بہت بڑی ہزیمت سے بچایا ہے ۔ اب ٹرمپ ایک دن پاکستانی قیادت کی تعریف کرتا ہے دوسرے دن نیتن یاہو کی تعریف کر دیتا ہے۔ یہ تو پاکستانیوں کیلئے مشکلات کھڑی کرنے کے مترادف ہے ۔ اب موصوف فرماتے ہیں جنگ واپس آ رہی ہے۔ ایرانیوں کو پہلے جنگ سے فرق پڑا نہ آئندہ پڑنے والا ہے۔ فرق تو امریکا کو پڑنا ہے۔ آپ یاد رکھیں کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر اسرائیل اور امریکا کی مشتر کہ طاقت کا جنازہ نکال دیا ۔ آئندہ بھی یہی ہو گا۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اگر امریکا نے کبھی اسرائیل یا بھارت کے ذریعہ پاکستان کے ساتھ گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو آپ ایرانی میزائلوں کو بھول جائیں گے ۔ بہتر ہے پاکستان نے قیام امن کے لئے جو کوششیں کی ہیں انہیں کامیاب بنائیں ۔ اب کوئی آپ کی گیدڑ بھبکیوں میں نہیں آئے گا ۔ میرا جواب سُن کر خاتون امریکی صحافی نے دفاعی انداز میں کہا کہ میں نے تو صرف ایک سوال کیا ہے میں بھی آپ کی طرح ایک صحافی ہوں میں اپنی حکومت کی نمائندہ نہیں ہوں ۔ایک برطانوی صحافی نے بڑے مزاحیہ انداز میں گفتگو کو نیا رخ دینے کی کوشش کی۔ وہ کہنے لگے ہم تو صرف دو تین دن کیلئے اسلام آباد آئے تھے ۔ ٹرمپ کی ڈرامے بازیوں کی وجہ سے ہمارا قیام لمبا ہوتا چلا گیا۔ ہمارے ڈالر ختم ہو رہے ہیں ۔اسلام آباد میں سندھی بریانی، شنواری کباب ، بلوچی سجی اور لاہوری چنوں کی مفت دعوتوں سے ہماری رقم خاصی بچ جاتی ہے لیکن یہ سوچ کر دل کانپ جاتا ہے کہ جب آپ لندن آئینگے تو آپ کیلئے ہم ایسے کھانوں کا اہتمام کیسے کرینگے ؟ میں نے اس برطانوی صحافی کو کہا کہ فکر مت کیجئے۔ ایسٹ لندن اور ساؤتھ ہال سمیت لندن کے ہر علاقے میں آپ کیلئے ان سب پاکستانی کھانوں کا انتظام موجود ہے۔ ہم آپکی تواضع صرف پاکستان کی امن ڈپلومیسی سے نہیں بلکہ پاکستان کے کھانوں سے بھی کر سکتے ہیں اور یہ کھانے دنیا کے ہر کونے میں دستیاب ہیں۔ بہت جلد پاکستان کی امن ڈپلومیسی اور فوڈ ڈپلومیسی کی جیت ہونے والی ہے۔

تازہ ترین