امراض گردہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی مثانے کے کینسر کے خطرے کو چار گنا تک بڑھا سکتی ہے۔
اگرچہ تمباکو نوشی کو عام طور پر پھیپھڑوں کے کینسر سے جوڑا جاتا ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ مثانے کے کینسر کے خطرے میں بھی نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ پیشاب میں خون آنا اکثر اس بیماری کی ابتدائی اور اہم علامت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی عموماً پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کو بڑھانے کے لیے مشہور ہے لیکن تمباکو نوشی مثانے کے کینسر کے خطرہ کو بھی نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔
اس حوالے سے ایک بھارتی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں مثانے کے کینسر کا خطرہ غیر تمباکو نوش افراد کے مقابلے میں دو سے چار گنا زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے تمباکو کا استعمال اس بیماری کے لیے سب سے بڑے خطرات میں شمار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر انکور بھٹناگر نے کہا کہ تمباکو نوشی مثانے کے کینسر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں موجود سرطان پیدا کرنے والے کیمیائی مادے (کارسینوجینز) پھیپھڑوں کے ذریعے جسم میں جذب ہو کر خون کے راستے گردوں تک پہنچتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گردوں سے وہ پیشاب میں خارج ہو جاتے ہیں۔ جب مثانہ پیشاب کو ذخیرہ کرتا ہے تو یہ مضر صحت مادے طویل عرصے تک مثانے کی اندرونی جھلی کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں، جس سے خلیات میں کینسر پیدا کرنے والی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں اور اس طرح یہ مثانے کے کینسر کا سبب بنتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔