• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی سمندر سےجُڑا شہر ہے اور سمندر سے جُڑا شہر قصّوں، کہانیوں کا شہر ہوتا ہے۔ کس واسطے کہ ساحلی شہر پر دنیا بھر کے بحری جہاز لنگرانداز ہوتے ہیں۔ مِچ مِچی آنکھوں والے جہاز ران ساحل کی دھوپ سے ملتے ہیں تو مقامی اور سمندر پار کا حُسن گُھل مِل جاتا ہے۔ یہی شاعری کا مقامِ ظہور ہے۔ اور جہاں شاعری کا مقامِ ظہور ہو، وہاں لازم ہے کہ ’’انور شعور‘‘ ہو۔ انور شعور سے مَیں پہلی بار کراچی ہی میں ملا۔

یادگار شام تھی۔ برسوں پہلے کی بات ہے۔ احمد شاہ کراچی آرٹس کونسل کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ اُردو زبان و ادب کی ترویج میں بے مثال کردار ادا کرنے والی شخصیت بھی ہیں۔ اُنہی کے زیرِ اہتمام مشاعرہ تھا۔ کراچی آرٹس کونسل کا بڑا والا لان کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور مزید شائقینِ زبان و ادب جُوق در جُوق آرہے تھے۔

اسٹیج کے پیچھے شعراء منتظر تھے کہ ناظم نام پکاریں تو ہم اسٹیج کی جانب سُدھاریں۔ دُور میز پر ہم نے انور شعور کو دیکھا جو شور سے پرے کسی لاشعوری موج میں مست ہولے ہولے ہلکورے لے رہے تھے۔ اُن کی لہک مہک تب بھی دیدنی تھی اور آج بھی ہے، کیوں کہ وہ من کے سچّے ہیں۔

جو ہیں، سب کے سامنے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ انور شعور، نُور و شعور کے شاعر ہیں۔ اس واسطے کہ حرف حرف میں نُور اور لفظ لفظ میں شعور لیے گھومتے ہیں۔ چھوٹی بحر میں بڑا شعر کہتے ہیں۔ اُن کے محض سہلِ ممتنع پر جانا ممنوع ہے، کیوں کہ معانی میں آسانی سے ادق مضامین کا پِتّا پانی کر دیتے ہیں۔ ان کو دیکھیے تو سہی، مُنے سے ہیں، سکڑے سمٹے سے، شرمائے لجائے سے۔

دُور سے دیکھیے، تو معلوم ہوتا ہے، چھوٹی بحر کا کوئی من موہنا مصرعہ چلا آرہا ہے وہ بھی سہلِ ممتنع میں۔ دل بَر، دل آویز، دل دار سے ہیں۔ پاجاما ہمیشہ ایک سائز بڑا اور قمیص ایک سائز چھوٹی پہنتے ہیں۔ چال جیسے کڑی کمان کا (بُھولا بھٹکا) تیر، جو دائیں بائیں غضب ڈھاتا ناک کی سیدھ میں بھی ٹیڑھا ہی چلتا ہے۔

اپنی مثال آپ ہیں، اِس لیے ہر کوئی اُنہیں اُنہی کی مثال دیتا ہے کہ انور صاحب! مصرع کہنا ہو تو انور شعور جیسا کہیے۔ پہلی ہی ملاقات میں ہمیں لگا کہ بولتے بھی یوں تول کر ہیں، جیسے شعر پڑھ رہے ہوں۔ ہم نے کہا۔ ’’انور بھائی! آپ تو نثر کی بھی تقطیع کرکے بولتے ہیں۔‘‘ مسکرا کر کہنے لگے۔ ’’فارس میاں! یہی ہمارا لہجہ ہے۔‘‘ یاد پڑتا ہے کہ اُس دن اُنہوں نے جو پینٹ پہن رکھی تھی، وہ ٹخنوں سے تھوڑی اوپر تھی۔

ہم نے کہا کہ’’انور بھائی! ہمیں علم نہیں تھا کہ آپ بھی اس قدر مولوی ہیں۔‘‘ اپنی خاص ادائے دِل برانہ کے ساتھ مُسکرائے اور کہنے لگے کہ ’’بھئی، زیادہ نہ سہی، تھوڑا سا تو مَیں ہُوں۔‘‘ ہم نے پہلی ہی ملاقات میں ان سے اُن کے بےشمار معروف اشعار میں سے ایک کی فرمائش کردی۔ کہنے لگے۔’’اسٹیج پر سُن لینا۔‘‘ عرض کیا کہ ’’وہاں تو آپ سبھی کو سُنائیں گے، یہاں خاص الخاص صرف ہمیں سُنائیے۔‘‘ تو انہوں نے لہک لہک کر پڑھا کہ ؎

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گُم ہو جاتا ہُوں

اب مَیں اکثر مَیں نہیں رہتا، تُم ہوجاتا ہُوں

یار لوگوں نے محبّت میں ’’یک جان، دو قالب‘‘ کی کیفیت والے شعرکی پیروڈی یُوں کی کہ مصرعۂ اُولیٰ میں گُم کی بجائے ’’ٹُن‘‘ جَڑ دیا۔ انور، یاروں کے یار ہیں۔ ہم چُپ رہے، ہم ہنس دیے، منظور تھا، پردہ ترا۔ انور شعور سے لوگوں کی محبّت کا تازہ ترین واقعہ سیرینا، اسلام آباد کے یادگار مشاعرے میں پیش آیا۔ عزیز بولانی بھائی پاکستان میں ہاسپٹیلٹی یعنی فنِ میزبانی کے شائستہ و شُستہ ترین آئیکون ہیں۔ جنوبی اور وسطی ایشیا میں سیرینا ہوٹلز کے سی ای او ہیں۔

اُردو زبان و ادب سے لگاؤ کے باعث اکثر مشاعرے کرواتے ہیں۔ اُنہوں نے پچھلے سال اکتوبر میں سیرینا، اسلام آباد کے شادمان ہال میں مہکتی لہکتی ’’محفلِ سخن‘‘ برپا کی۔عباس نقوی بھائی کہ یارِدل پذیر ہیں، اس مشاعرے کے مہتممِ اعلیٰ و بالا تھے۔ انور شعور کراچی سے تشریف لائے تو شاید پرواز کے وقت کے باعث ٹھیک سے آرام نہیں کر پائے۔ مُشاعرہ خُوب جما ہوا تھا اور سامعین ہر اچھے شعر پر بھرپور داد دے رہے تھے۔

انور شعور کی باری آئی تو اُنہوں نے پہلے ہی دو چار اشعار میں حسبِ معمول مشاعرہ لُوٹ لیا۔ لوگ لوٹ پوٹ ہو رہے تھے، مگر اِسی قرات کے دوران انور کے شعور و لاشعور کے عین درمیان ہلکی پُھلکی نیند کا اعلان ہونے لگا اور انہیں کچھ مصرعے بھول گئے۔ اب حال یہ تھا کہ ہال بھر کی نظریں انور پر تھیں، جو چہرے پر اپنی من موہنی مسکراہٹ سجائے بھرپور مزے کے عالم میں اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ پھر تھوڑا چونک کر بولے۔ ’’ارے بھئی، لگتا ہے کہ ہم کچھ شعر بھول گئے شاید۔‘‘ یہ کہنا تھا کہ سامعین نے تالیاں پیٹنا شروع کردیں۔

انور بولے۔ ’’اب کیا سنائیں آپ کو؟‘‘ لوگ مزید دیوانہ وار داد دینے لگے۔ انور نے اگلے شعر کا پہلا مصرعہ پڑھا۔ سامعین کِھل اُٹھے، مصرعہ اُٹھایا گیا۔ انور اگلا مصرعہ پھر سے بھول گئے۔ سامعین پھر سے کِھلکھلا اُٹھے۔ تالیوں کا شور کھڑکیوں کی جالیوں سے پرے مارگلہ کی پہاڑیوں تک گیا۔ انور اس بات سے محظوظ ہوکر پھر سے ہنس پڑے۔ کیا ہی پُرلطف صورتِ حال تھی۔

شاید بلکہ یقیناً یہ اُردو شاعری کی تاریخ کا پہلا مشاعرہ تھا، جو ایک شاعر نے شعر بُھول بُھول کر بھی لُوٹ لیا۔ ہم نے مشاعرے کے بعد انور شعور کا ہاتھ تھام کر اسٹیج کی سیڑھیوں سے نیچے اُتارتے ہوئے عرض کیا کہ ’’آپ تو کبھی شعر نہیں بھولتے۔‘‘ کہنے لگے۔ ’’ہاں بھولتا تو نہیں۔ تازہ غزل تھی، پرچی پر لکھ رکھی تھی مگر یہی بھول گیا کہ پرچی کس جیب میں تھی۔‘‘ ہم نے کہا۔ ’’مشاعرہ تو پھر بھی لُوٹ لیا آپ نے۔‘‘ بہت خوش ہوکر کہنے لگے۔ ’’رحمان فارس! تم بہت شریر ہو اور روز بروز شریر تر ہوتے جارہے ہو۔‘‘

یہ بات تو طے ہے کہ انور سے لوگوں کی محبت غیر مشروط ہے۔ ایک اور قصّہ یوں ہے کہ مظفّرآباد، آزاد کشمیر میں پاکستان لٹریری فیسٹیول چل رہا تھا۔ یہاں بھی اہتمام برادرِ عزیز احمد شاہ کا تھا۔ وہاں کے مشاعرے میں انور اپنا جو مصرعہ پڑھتے، سامعین اگلامصرعہ خُود سُنا دیتے۔ انور کے شعروں میں سماعت سے دل اور دل سے حافظے میں اُتر جانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے اور یہ ربِ اظہار کی عطائے خاص ہے۔

عوام کی انور سےمحبّت کا حال یہ ہے کہ نیشنل کالج آف آرٹس، لاہور کے مشاعرے میں ایک چھوئی موئی سی طرح دار محترمہ کچھ شرماتے لجاتے ہمارے پاس تشریف لائیں۔ پھول دار لباس زیبِ تن کر رکھا تھا اور پونی سر سے اوپر، بہت اوپر بنا رکھی تھی کہ جسے ’’ہائی پونی‘‘ کہتے ہیں۔ ہاتھ میں آٹوگراف بُک تھی۔ مشکل ہی سے بائیس چوبیس برس کی ہوں گی۔ آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہنے لگیں کہ ’’آپ رحمان فارس ہیں ناں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا کہ ’’جی! ہیں تو سہی۔‘‘ فرمایا۔ ’’آٹو گراف دیں گے کیا؟‘‘

ہم نے کہا ’’جی ضرور۔‘‘ اُن سے ڈائری اور قلم تھام کر ہم نے اُن سے نام پوچھا، نام اُن کی آٹوگراف بُک میں لکھا اور ابھی اپنا کوئی شعر لکھا ہی چاہتے تھے کہ وہ بولیں۔ ’’ایک منٹ، ایک منٹ… وہ والا شعر لکھ دیجے۔ اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہوجانے والا جو شعر ہے۔‘‘ ہم گڑبڑا گئے۔ ’’محترمہ!‘‘ ہم نے دھیرے سے کہا۔ ’’وہ شعر تو انور شعور کا ہے۔‘‘ آنکھیں مزید پٹپٹا کر سُلطان راہی اسٹائل میں اکڑ کر کہنے لگیں۔ ’’مگر مجھے تو وہی پسند ہے۔اور لکھوانا بھی آپ ہی سے ہے۔‘‘ خیر، ہم نے شعر لکھا اورساتھ ہی انور شعور کا نام لکھ کے اُن کے حوالے کیا، تو خوشی خوشی چلتی بنیں۔

انور کے اشعار بہت سے مسائل حل کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ آج کل شاعروں اور شاعری کےحوالےسےبہت سے معاشرتی رویے مروّت (بلکہ اکثر اوقات منافقت) پر مبنی ہوتے ہیں۔ شعر کی تحسین و تنقید میرٹ پر نہیں کی جاتی، دوستی یا دشمنی آڑے آجاتی ہے۔ پچھلے دِنوں لاہور جِم خانہ میں ایسے ہی ایک منہ پھٹ (مگر بے وزن) شاعر دوست کا منہ ہم نے انور شعور کے شعر سے بند کیا کہ ؎

دوست کہتا ہوں تمہیں شاعر نہیں کہتا شعورؔ

دوستی اپنی جگہ ہے، شاعری اپنی جگہ

ویسے انور کی کہانی بھی عجیب ہے۔ گیارہ اپریل1943ء کو سیونی قصبے کی پُرسکوت فضا میں آنکھ کھولنے والا بچّہ انوار حسن خان، جو بعد میں انور شعور کہلایا، شروع ہی سے نشیب و فراز بَھری زندگی کا سامنا کرتا رہا۔ چار برس کی ننّھی سی عُمر تھی کہ ہندوستان کی تقسیم ہوئی، اور یہ بچّہ اپنے خاندان کے ہم راہ کراچی آن بسا۔ سب کچھ اجنبی تھا۔ موسم بھی، سرزمین بھی، لوگ بھی، پرندے بھی، ہوائیں بھی، پھول پودے بھی۔

مگر پھر اِسی اجنبیت سے شناسائی کے جو کھوّے اور کونپلیں پھوٹیں وہ انور کے معصوم خیالات کی صُورت اخبارات ورسائل میں چھپنے لگیں۔ زندگی کبھی انور کے لیے سہل نہیں رہی۔ ابتدائی تعلیم ہی کے دوران ماں کی رحلت اور باپ سے دُوری۔ کچی عُمر میں تعلیم ادھوری۔ مگر شعری تربیت اندر ہی اندر پوری۔ نکھر سنور کر حرف لفظوں، لفظ مصرعوں، مصرعے شعروں اور شعر غزلوں میں ڈھلنے لگے۔ بعد میں اگرچہ جامعہ کراچی سے سند یافتہ بھی ہوچُکے، مگر ہمارے شاعر کی اصل درس گاہ تو تھیں اُس کی کتابیں۔

وہیں سے نہ جانےکہاں رئیس امروہوی کی بیٹھک میں بیٹھنے اور جون ایلیا کی دوستی کا دَم بھرنے والے انور شعور کے ہاں مشکل گوئی اور سہلِ ممتنع کے درمیان کہیں ایک ایسا انوکھا آہنگ پیدا ہوا کہ جس نے ایک دنیا کے دل فتح کر لیے۔ پیشہ ورانہ سفر بھی لفظوں ہی سے منسلک رہا۔ انجمنِ ترقیٔ اردو سے جُڑے، صحافت سے وابستہ رہے، مگر صاحبو! انور شعور سر تا پا شاعر تھے، ہیں اور رہیں گے۔ سو، پلٹ کر اِسی کوچے میں آن بسرام کیا۔ اور پھر اُن کے ہاں رُونما سہلِ ممتنع کے معجزے اور چھوٹی بحر کے چمتکار کو ’’جنگ‘‘ اخبار نے پہچان لیا۔

جنگ کے لیے روزانہ قطعات لکھنا شروع کیے تو یہ کام کوئی بازیچۂ اطفال نہیں تھا۔ یہ عظیم رئیس امروہی کی Legacy تھی کہ جس کو انور نے پوری ذمّے داری، ذہانت اور محبّت سے آگے بڑھایا۔ وقت کی نبض پر دھیرے سے نرم ہاتھ رکھنے والے یہ قطعے روزمرّہ زندگی، سیاسیات، معاشرتی حالات، انسانی رویوں اور حالاتِ حاضرہ کے عکّاس ہیں۔

مگر انور یہ قطعہ روز کسی مشین کے مانند نہیں لکھتے۔ ان قطعوں میں جو ادبی چاشنی اور تاثیر ہے، وہ بعضے شعراء کے پورے پورے دیوان میں دکھائی، سُنائی نہیں دیتی۔ روز لکھتے ہیں اور خُوب لکھتے ہیں۔ مقدار کو معیار کےساتھ برقرار رکھنا کارِ دشوار ہے۔ انور یہ کام روز بہت آسانی سے کرتے ہیں۔ انور کے مجموعے ’’اندوختہ‘‘، ’’مشقِ سخن‘‘، ’’می رقصم‘‘ وہ کڑیاں ہیں، جن سے مل کے اُن کے شعری سفر کا روشن سلسلہ بنتا ہے۔

انور کے ہاں جو خُمار ہے وہ خُمریات سے بھی منسلک ہے اور موصوف حالتِ حال میں بھی بھرپور شعر کہنے پر قادر ہیں۔ ایک بار اسلام آباد میں کوئی مشاعرہ تھا۔ سب شاعر اکادمی ادبیات کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے تھے۔ وہیں بعد از شام طعام کا اہتمام تھا۔ ہم انور سے ملنے گئے۔ تب ہمارا یہ خیال یقین میں بدل گیا کہ انور حالتِ حال میں معصوم تر ہوجاتے ہیں۔

اُن کےاندرکا متجسّس اور متحیّر بچّہ اُچھل کر سامنے آتا ہے اور مخاطب کو اپنی من موہنی گفتگو سے نہال کردیتا ہے۔ انور لگی لپٹی نہیں رکھتے۔ پچھلے دنوں شکیل خان بھائی نے ہمیں ناظم آباد ٹاؤن، کراچی میں جماعتِ اسلامی کے مشاعرے میں مدعو کیا۔ مشاعرے سے قبل کھانےکی میز پر ہمیں خوش قسمتی سے انور کے برابر جگہ ملی۔ ہمارا نیا مجموعہ ’’یاد آباد‘‘الحمدُللہ قومی و بین الاقوامی سطح پر خوب توجّہ لے رہا ہے۔

اُسی مجموعے کی دو کاپیاں ہمارے ہاتھ میں تھیں۔ ہمارے برابر بیٹھے ایک اور شاعر نے وہ مجموعہ کھول کر پڑھنا شروع کیا۔ انور شعور کی نظر پڑی تو کہنے لگے۔’’رحمان فارس! تم ہمیں بھول گئے ہو؟‘‘ عرض کیا کہ ’’سر! یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ فرمانے لگے۔ ’’تم نے فَلاں کو اپنا مجموعہ دیا اور ہم ؟‘‘ اس پر ناچیز نے بہت محبّت سے عرض کیا کہ ’’سر! ہم، آپ کو پورے اعزاز کے ساتھ مجموعہ پیش کریں گے۔‘‘ یہ واقعہ بتانےکا مقصد انور شعور کے دل کی شفّافیت، معصومیت اور اپنائیت اپنے قارئین تک پہنچانا ہے۔

چوں کہ انور دل کے بہت صاف ہیں، لہٰذا دوستوں پراُن کا مان اور بھروسا دوستوں کے لیے ایک اعزاز ہے اور ہمارے لیے تواَن مول سند بھی۔ سند سے یاد آیا، آج بھی اگر کسی لفظ کے تلفّظ، معانی یا استعمال کے حوالے سے ہمیں کوئی شک، شبہ، شائبہ یا اشتباہ ہو تو ہم فوری طور پر انور شعور سے فون پر بات کرتے ہیں۔ وہ ہمیں خُوب محبّت سے سمجھاتے بھی ہیں اور کلاسیک سے سند بھی لا کردیتے ہیں۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ ’’انور بھائی! آپ کا کہنا ہی ہمارے لیے پکی سند ہے۔‘‘ ایک بار آبروئے غزل، عباس تابش کے زیرِ اہتمام برپا ’’عشق آباد‘‘ کے مشاعرے کے بعد کھانے کے دوران کہنے لگے کہ ’’فارس! تمہارا ایک شعر مجھے یوں لگتا ہے کہ میرے ہی رنگ اور لہجے کا ہے۔‘‘ ہم نے پوچھا کہ ’’سر! کون سا؟‘‘ تو کہنے لگے کہ ’’وہی، بڑا آیا والا۔‘‘ وہ شعر کچھ یوں ہے۔ ؎

زباں پر مصلحت، دل ڈرنے والا

بڑا آیا محبّت کرنے والا !

ہم نے عرض کیا کہ ’’انور بھائی! ہم تو خُود آپ کے رنگ ڈھنگ بلکہ آپ کی اُمنگ ترنگ میں رنگے ہوئے ہیں اور یہ ہم جیسے مُبتدی کج مُج بیان کے لیے باعث عزت ہے۔‘‘ یہ سُن کر اُنہوں نے ہمیں ڈھیروں دُعائیں بھی دیں اور کاندھا بھی تھپتھپایا۔ انور کی شخصیت کا ایک اور پہلو ہمیں ہمیشہ سے بہت بھاتا ہے اور وہ یہ کہ موصوف ہمیشہ خُود سے بھی خوش رہتے ہیں، خدا سے بھی۔ ہر وقت مُسکرانا اُن کی فطرت ہے۔ یہی دلبرانہ مسکراہٹ اُن کے مصرعوں میں بھی چھلک اور جھلک اُٹھتی ہے۔

انسانی رویوں کی جو سہج، دھیمی، ہلکی مگر پُرکار لطافت اُن کے ہاں ملتی ہے، وہ خال خال ہے۔ ہم نہایت یقین، بھروسے، اعتماد، اعتبار بلکہ مان کے ساتھ کہتے ہیں کہ کراچی کے ساحلِ سمندر پر اُڑنے والے بادلوں، پرندوں سے پوچھیں، اسلام آباد کے ’’ممی ڈیڈی‘‘ انگریزی ماڈل ماڈرن لڑکے لڑکیوں سے پوچھیں یا لاہور کے دیسی کھابے کھانے کے شوقین لاہوریوں سے، انور کے اشعار سب کے اندرونی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

انور نے ایک دُنیا کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے اور یہ کمال ساختہ نہیں بے ساختہ ہے۔ انور کے ہاں زبان کا چسکا، لہجے کی کاٹ اور آواز کی معصومیت سب بےساختہ ہیں اور شاید اِسی لیے بہت سچے بھی۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ محبوب یا محبوبہ ملاقات کے لیے آنے کا وعدہ کرے اور تاخیر کردے تو جھنجھلاہٹ تو ہر شاعر اپنے شعر میں دکھا سکتا ہے، پاؤں بھی ہر کوئی پٹخ سکتا ہے، وسوسوں، واہموں کا شکار بھی ہرکوئی ہوسکتا ہے، مگر صاحبو! انور شعور جیسا شدید پُرلطف شعر کون کہے گا کہ جس کو پڑھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور انور پر پیار بھی۔ ؎

تھا وعدہ شام کا، مگر آئے وہ رات کو

مَیں بھی کواڑ کھولنے فوراً نہیں گیا

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید