• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیٹر ماجیار کی لینڈ سلائیڈ وکٹری یقیناً ہنگری میں نئی تاریخ رقم کرنے کے متراردف ہے کہ اُنھوں نے پاپولسٹ وزیرِ اعظم، وکٹر اوربان کا16 سالہ اقتدار حیرت انگیز طور پر ختم کردیا اور وہ بھی براہِ راست عوامی ووٹ سے۔ یہ سب اُس ہنگری میں ہوا، جہاں ہر سُو سوویت یونین اور اب روس کے سیاسی و معاشی اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

اِس شان دار فتح کے یورپ کے ساتھ، عالمی سطح پر بھی انقلابی اثرات مرتّب ہوئے۔ ماجیار نے اپنی غیرمعمولی فتح کے بعد وکٹری اسپیچ میں کہا کہ’’ وہ قوم کو متحد کریں گے اور مُلک کی معاشی حالت بہتر بنائیں گے۔‘‘ ماجیار کی فتح کے اہم ترین اثرات یوکرین، روس چار سالہ جنگ پر بھی مرتّب ہوں گے۔

نیز، اپوزیشن کی یہ جیت یورپ کے حق میں بھی ایک واضح فیصلہ ہے، یعنی اب ہنگری مکمل طور پر یورپ کے ساتھ ہے۔ یہ روسی صدر، پیوٹن کے لیے بہت بُری خبر ہے، کیوں کہ اُن کے نظریاتی دوست اوربان کو زبردست شکست ہوئی۔ ماجیار کی ’’ٹیسزا پارٹی‘‘ نے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی، جس کا مطلب ہوا کہ نئی حکومت کو آئینی و قانونی اصلاحات کے ضمن میں مکمل اختیارات حاصل ہوگئے، جو ماجیار کے منشور پر عمل درآمد کے لیے ضروری تھا۔

صدر ٹرمپ کے لیے بھی اوربان کی یہ شکست تکلیف دہ ہے کہ وہ بھی اُنھیں سپورٹ کرتے رہے، گو کہ اُنہوں نے ماجیارکی فتح پر بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ پیٹر ماجیار اچھے آدمی ہیں۔‘‘اور اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ وہ بہت اچھا کام کریں گے۔ یہ دراصل، ٹرمپ کی فطرت کے عین مطابق پالیسی شفٹ ہے۔ پیٹر ماجیار کی فتح میں ہنگری کے حالات نے اہم کردار ادا کیا۔ کم زور معیشت نے عوام کو اِس امر پر مجبور کردیا کہ وہ الیکشن کے دن بڑی تعداد میں نکلیں اور16 برس سے برسرِ اقتدار اوربان کے خلاف ووٹ ڈالیں اور ایسا ہی ہوا۔

عوام جس بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے، ہنگری کی تاریخ میں اِس کی مثال نہیں ملتی۔ درحقیقت، یہ عوام کی جانب سے اوربان اور اُس کے قائم کردہ نظام سے بے زاری کا اظہار ہے۔ عوام منہگائی میں جکڑے ہوئے تھے اور حکومت کے پاس بیانات کے سِوا کچھ نہیں تھا، جو پاپولسٹ رہنماؤں کا عمومی طریقۂ کار ہے۔ اوربان ’’دیوتا‘‘ بنے بیٹھے تھے، لیکن کرنے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ وہ سخت میڈیا کنٹرول کے ذریعے عوام کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کرتے رہے اور پھر پولیس کے ذریعے بھی عوام کو دبایا جاتا رہا، لیکن آخر کب تک یہ پالیسی جاری رہتی۔

مُلک پر قرضوں کا بوجھ اِس قدر بڑھ چُکا تھا کہ عوام براہِ راست اُس سے متاثر ہو رہے تھے اور اِن ہی سب عوامل نے مل کر معیشت کو ریکارڈ سُست رفتاری کی طرف لڑھکا دیا۔ ویسے ہنگری اقتدار سے چمٹے رہنے والے اُن حُکم رانوں کے لیے عبرت کا سبق ہے، جو معیشت کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں اور حکومتی پراپیگنڈے اور ریاستی سختی سے عوام کو اپنے تابع رکھنے کی پالیسی اپنائے رکھتے ہیں۔ اوربان اِسی طرح کے حُکم رانوں میں شامل تھے، جو نام کے الیکشن کروا کے مُلک پر قابض چلے آ رہے تھے، لیکن آخرکار عوام نے پولنگ بوتھ پر اُن کے خلاف ایسا فیصلہ دے دیا، جسے’’ انتخابی انقلاب‘‘ کہا جارہا ہے۔

ہنگری، سینٹرل یورپ کا خشکی سے گِھرا مُلک ہے، یعنی لینڈ لاکڈ مُلک ہے، جس کا دارالحکومت، بوڈاپیسٹ عالمی شہرت رکھتا ہے، خاص طور پر جب یہ مُلک سوویت بلاک کا حصّہ تھا، تو سوویت یونین کے کئی اہم اداروں کے ہیڈکوارٹرز اِسی شہر میں تھے۔ ہنگری کی آبادی تقریباً ایک کروڑ نفوس پر مشتمل ہے، جب کہ اِس کی سرحدیں یوکرین، رومانیا، سربیا، آسٹریا اور سلوواکیہ سے ملتی ہیں۔ یہ مُلک تُرک عثمانی خلافت کے عروج کے زمانے میں159 سال تک اُس کا حصّہ رہا۔

پھر دوسری جنگِ عظیم میں سوویت یونین نے اِس پر قبضہ کرلیا اور 1989ء میں اس کے بکھرنے پر ہنگری کو آزادی ملی، جس کے بعد اس نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ دنیا کے اہم اداروں کا رُکن ہے اور اپنی خُوب صُورتی کی وجہ سے سیّاحوں کے لیے بہت کشش رکھتا ہے، جس کے سبب سالانہ24 لاکھ سے زیادہ سیّاح وہاں کا رُخ کرتے ہیں۔

یعنی کُل آبادی کا چوتھائی حصّہ۔ اوربان2010ء سے مُلک کے وزیرِ اعظم چلے آ رہے تھے۔ وہ گزشتہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کام یاب ہوتے رہے، لیکن اِس بار اُنھیں جو شکست ہوئی، اُس پر اُن کے ساتھ، پوری دنیا بھی حیران ہے کہ یہ سب آخر ہو کیسے گیا؟ نومنتخب وزیرِ اعظم پیٹر ماجیار اُنہی کی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے، لیکن اختلافات کی وجہ سے 2024 ء میں اُنھیں خیرباد کہہ دیا تھا۔

اوربان کی پارٹی اور اُن کی حکومت پر بیڈ گورنینس، کرپشن اور معاشی تباہی کے الزامات ہیں، جنہیں ایک حقیقت کے طور پر عوام کی حالتِ زار کی صُورت دیکھا جاسکتا ہے۔ اِسی لیے ماجیار نے دو سال تک شہر، شہر اور گاؤں گاؤں جاکر عوام کو یقین دِلایا کہ وہ اُنھیں اِن بُرے حالات سے نجات دِلائیں گے۔ بالخصوص اُنھوں نے دیہات میں مسلسل مہم چلائی اور بالآخر اوربان کا روایتی ووٹ بینک اپنے حق میں کرلیا۔

لوگوں نے ان پر بھروسا کیا، ویسے بھی وہ طویل عرصے کی حُکم رانی سے تنگ آچکے تھے۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ حُکم ران جب لمبے عرصے تک اقتدار میں رہتے ہیں، ہیں تو عوامی خواہشات یا مطالبات کو یہ کہتے ہوئے دَبا دیتے ہیں کہ’’یہ نظام کے خلاف بغاوت ہے، مُلک خطرے میں پڑ جائے گا، مُلک دشمن سازشیں کر رہے ہیں‘‘ حالاں کہ منہگائی اور بدحال معیشت کے مارے لوگ تو صرف ریلیف چاہتے ہیں۔ بہتر زندگی اور مُلکی حالات میں مثبت تبدیلی اُن کا مطالبہ ہوتا ہے، جسے حُکم ران کیا کیا نام دے ڈالتے ہیں۔

ماجیار کی ایک سیاسی کام یابی یہ بھی ہے کہ اُنہوں نے اپوزیشن کو متحد کیا۔ اِسی لیے اُن کی دو سالہ تحریک ’’قومی اصلاحات کی مہم‘‘ کی شکل اختیار کرگئی۔ اِسی لیے پولنگ کے دن ریکارڈ ٹرن آؤٹ دیکھا گیا، جو نوّے فی صد بتایا جاتا ہے۔ حکومت نے مین اسٹریم میڈیا پر اپنی پسند کے اینکرز اور تجزیہ کاروں سے پراپیگنڈا کروایا، جسے وہ’’ ماہرانہ رائے‘‘ کہتے ہیں۔ اوربان کا عوامی امیج بلند کرنے کی کوشش کی کی گئی، اخبارات پر سخت کنٹرول تھا، جو دن رات پیٹر ماجیار کی مخالفت اور کردار کُشی کرتے رہے۔

تاہم، ماجیارنے اپنی میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا حکمتِ عملی سے حکومتی پراپیگنڈا بے اثر کردیا۔ اُنھوں نے گھر گھر اپنی انقلابی آواز پہنچائی۔ یہ سوشل میڈیا کی انتخابی سیاست اور منظّم طریقے سے تبدیلی کی بڑی مثالوں میں سے ایک ہے۔ ماجیار نے ایک احتیاط یہ رکھی کہ پوری مہم کے دَوران عوام کی بہتری پر زور دیا، نہ کہ مخالفین کی کردار کُشی میں مصروف رہے۔

یوں اُن کا عوامی امیج ایک سُلجھے ہوئے لیڈر کا بنا، جو قوم کو متحد کرسکتا ہے۔ اُنہوں نے کردار کُشی، گالم گلوچ یا جھوٹ کا سہارا لینے کی بجائے گورنینس اور عوامی حالات پر فوکس رکھا اور یہی باتیں عوام سُننا چاہتے تھے، جسے اُنھوں نے دل سے سُنا اور پولنگ بوتھ میں فیصلہ سُنا دیا۔

پیٹر ماجیار آئینی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں، جس کے لیے دوتہائی اکثریت کی ضرورت تھی اور عوام نے یہ اختیار بھی اُنھیں دے دیا۔ ماجیار کا منشور چار بنیادی امور پر مشتمل ہے۔ آئین میں تبدیلی، وزیرِ اعظم کے عُہدے کی مدّت کا تعیّن کہ کوئی کتنی بار اِس عُہدے پر براجمان ہوسکتا ہے، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی۔ ظاہر ہے، اِن اقدامات سے اوربان کا قائم کردہ نظام گر جائے گا اور اُن کی واپسی کے راستے بھی بند ہوجائیں گے۔

پیٹر ماجیار کے وزیرِ اعظم بننے سے ہنگری کے یورپ سے تعلقات پر گہرے اثرات مرّتب ہوں گے، اِسی لیے اُن کی جیت پر یورپ کے بڑے رہنماؤں نے کہا کہ ’’ماجیارکی جیت، یورپ کی فتح ہے۔‘‘ اوربان، یوکرین کے معاملے پر یورپ کی پالیسیز کے مخالف رہے، جیسے اُنہوں نے یورپی یونین کی جانب سے یوکرین کے لیے فنڈز کی فراہمی کی مخالفت کی۔ یورپی یونین کوئی بھی قدم اکثریت کے بغیر نہیں اُٹھاسکتی، اِس لیے آج تک وہ فنڈز بلاک ہیں۔ اوربان نے روس کے خلاف پابندیوں کی بھی مخالفت کی۔ اوربان کی پالیسیز کی وجہ سے ہنگری کے یورو فنڈ منجمد کردیے گئے، جس سے اُس کی معیشت پر بہت دباؤ پڑا۔

پیٹر ماجیار کے آنے سے اب یہ فنڈز جلد ریلیز کردیئے جائیں گے، جس کے ہنگری کی معیشت پر اچھے اثرات مرتّب ہوںے کے امکانات ہیں۔ سب سے بڑھ کر یورپی یونین میں ہنگری کی صُورت جو پرو سوویت بلاک تھا، اوربان کی شکست سے اب اُس کا خاتمہ ہوجائے گا، جس سے رُکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی بڑھے گی اور متفقّہ فیصلے آسان ہوجائیں گے۔ اِس تبدیلی کا اثر یوکرین، روس جنگ میں دیکھنے کو ملے گا۔ پیوٹن، اوربان کی شکل میں ایک اچھے اور بااعتماد دوست سے محروم ہوجائیں گے، جو یوکرین جنگ میں یورپ کا حصّہ ہوتے ہوئے بھی اُن کے ساتھ تھے۔

اِس ضمن میں ماجیار کا کہنا ہے کہ’’ صدر پیوٹن میرے کہنے سے جنگ بند نہیں کریں گے، اِس لیے اُنہیں فون نہیں کروں گا، ہاں، اُن کا فون آیا، تو بات کرلوں گا۔‘‘ اِس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین جنگ پر ہنگری کی پالیسی میں کتنی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ہنگری اب بھی بہت سے معاملات میں، خاص طور پر انرجی سپلائی کے لیے روس پر انحصار کرتا ہے۔ اِس لیے فوری یا یک دَم پالیسی تبدیلی ممکن نہیں، اِس کام کے لیے ماجیار کو ایک حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرنی ہوگی تاکہ یورپ اور روس سے تعلقات میں توازن برقرار رہے۔

گو، حالیہ انتخابات میں صدر ٹرمپ نے اوربان کی کُھلی حمایت کی، لیکن الیکشن کے فوراً پیٹر ماجیار کی حمایت کا اعلان کردیا۔ دوسرے الفاظ میں، اُنہیں ہنگری کی نئی حکومت سے معاملات طے کرنے میں کوئی ایشو نہیں ہوگا۔ چوں کہ ہنگری کی یوکرین سے سرحدیں ملتی ہیں، اِس لیے امریکا، یورپ اور روس کے لیے اِس سے تعلقات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اوربان ایک رائیٹیسٹ اور نیشنلسٹ لیڈر تھے، اِسی لیے صدر ٹرمپ اور دیگر پاپولسٹ رہنماؤں کو اُن کی اِس تاریخی شکست سے بڑا دھچکا لگا ہے۔

پیٹر ماجیار کی زبردست فتح جہاں اُن کے حامیوں کے لیے جشن کا سبب ہے، وہیں بڑے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ ہنگری کی معیشت زبردست دباؤ میں ہے۔ آئینی اور قانونی اصلاحات تو فوری ممکن ہیں، لیکن اصل امتحان معیشت کی بہتری ہے اور اِسی بنیاد پر عوام اُن کی کارکردگی جانچیں گے۔ وہ وعدوں کی تکمیل میدان میں دیکھنا چاہتے ہیں، جس سے اُن کے معاشی حالات میں تبدیلی آئے۔ اِسی لیے پیٹر ماجیار جیسے لیڈر اپنی تمام تر نیک نیّتی کے باوجود شدید عوامی دبائو کا شکار رہتے ہیں۔

اُن کے دن گِنے جاتے ہیں کہ ایک سو دن کی حُکم رانی میں کیا ہوا اور سال بعد کے نتائج کیا ہیں؟ یہ حقیقت ہے کہ معاشی بحالی ایک دن، تین ماہ یا ایک سال میں نہیں ہوسکتی، ہاں، اِس ضمن میں بڑی کام یابی یہ ہوتی ہے کہ نئی حکومت معاشی سمت درست کردے، جس کے مثبت نتائج جلد سامنے آنے لگتے ہیں۔ ایسی حکومت بے مقصد سیاست، مخالفت اور سیاسی دشمنیوں میں اُلجھنے کی بجائے اپنے عوام کی زندگی میں بہتری لانے ہی پر توجّہ مرکوز رکھتی ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا کہ اتحادی حکومتوں میں بہت سے سمجھوتے بھی کرنے پڑتے ہیں اور مختلف نظریات کی حامل اتحادی جماعتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

یہ کہنے میں تو بہت اچھا لگتا ہے کہ اپوزیشن متحد ہے، لیکن اس کا سارا زور الیکشن جیتنے ہی تک ہوتا ہے، اس کے بعد ہر پارٹی اور گروپ اپنے اپنے مفادات کو مقدّم ٹھہراتا ہے۔ اِس پس منظر میں پیٹر ماجیار نے اپوزیشن کو یک جا کیا، جو ایک بڑا کارنامہ ہے، لیکن اب کس طرح سب مل کر چلیں گے اور یہ کسی چیلنج سے کم نہیں۔ اُمید یہی ہے کہ ماجیار کی زبردست فتح ہنگری میں اہم تبدیلیوں کا سبب بنے گی۔ اندرونِ مُلک کُھلے نظام کی شروعات ہو گی، جس میں میڈیا آزاد ہوگا اور سیاسی دشمنیاں کم ہوں گی، لیکن ہنگری کا معیشت میں روس پر انحصار بہت سی پیچیدگیوں کا سبب بنے گا۔

ماجیار کی کام یابی اِن معنوں میں یورپ کی فتح ہے کہ اُس کا ایک کم زور اتحادی، اب مضبوط دوست میں بدل گیا ہے، جس کے یورپی سیاست پر گہرے اثرات مرتّب ہوں گے۔ امریکا اور یورپ میں ٹیرف سے لے کر ایران جنگ تک، جو وسیع ہوتی خلیج ہے، اُس میں ماجیار کی فتح سے یورپ کو طاقت حاصل ہوگی۔ یاد رہے، ٹرمپ، ایران سے جنگ کے معاملے پر یورپ اور نیٹو سے سخت ناخوش ہیں۔ اُنہوں نے یورپ کو نیٹو کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے پر بھی مجبور کیا۔ ویسے یورپ کے نیشنلسٹ لیڈر، ٹرمپ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

یوکرین کے معاملے میں بھی ٹرمپ نے پیوٹن کے لیے ایک خاص رویّہ اختیار کیا۔ وہ زیلنسکی پر زور دیتے رہے کہ روس کو زمین کا ٹکڑا دے کر سودے بازی کر لے۔ اِس معاملے میں ٹرمپ کو اوربان جیسے ساتھیوں کی حمایت حاصل رہی، لیکن اب ماجیار کے آنے سے پیوٹن پر دباؤ بڑھے گا۔ زیلنسکی بھی ماجیارکی جیت کو یوکرین کی فتح سمجھ سکتے ہیں، کیوں کہ یورپی یونین میں اُن کا ایک مخالف ووٹ، اب اُن کے حق میں ہوگیا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید