• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ہفتے امریکا/ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے موقعے پر اُس وقت پوری دنیا میں ہل چل مچ گئی، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کے لیے ایک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر مقرّرہ وقت تک کوئی معاہدہ نہ ہوا، تو امریکا، ایران کی تہذیب مٹا ڈالے گا۔ 

اِس ضمن میں مختلف حلقوں کی جانب سے اِس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ شاید امریکا، ایران پر ایٹمی حملے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے واضح طور پر اعلان کیا کہ امریکا کی ایسی کوئی سوچ نہیں، البتہ کوئی معاہدہ نہ ہونے کی صُورت میں ایران پر بدترین حملہ ضرور کیا جائے گا۔

جُوں جُوں ڈیڈ لائن قریب آتی گئی، دنیا میں بے چینی بڑھتی گئی۔ فریقین میں جنگ بندی کے لیے بھی بھاگ دوڑ شروع ہوئی، جس میں پاکستان کا قائدانہ کردار رہا۔ اسلام آباد میں خطّے کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا، پھر پاکستان کے وزیرِ خارجہ، اسحاق ڈار اِس اجلاس کے فوراً بعد چین گئے اور وہاں کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت کی۔

اِسی دوران پاکستان اعتماد سازی کے لیے امریکا اور ایران سے بھی مسلسل رابطے میں رہا، مگر مصالحت کی اِن کوششوں کو اُس وقت شدید دھچکا لگا، جب ایران نے سعودی عرب کے مشرقی ریجن میں واقع ایک اہم تنصیب کو نشانہ بنایا، جس پر پاکستان کی جانب سے بھی سخت ردّ ِعمل سامنے آیا اور یوں محسوس ہوا کہ دشمن کا وہ منصوبہ کام یاب ہونے والا ہے، جس کے تحت وہ پورے خطّے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کے لیے کوشاں ہے، تاہم پاکستان نے بہترین سفارت کاری اور بے مثال تدبّر کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے سے روکا، بلکہ ایران پر ہونے والی جارحیت رُکوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

منگل اور بدھ کی اُس درمیانی رات کو کون بھول سکتا ہے، جب گھڑی کی سوئیاں مسلسل صدر ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کی طرف بڑھ رہی تھیں اور پوری دنیا دَم بخود تھی۔ ہر طرف ایک سنسنی سی تھی کہ جانے اگلے گھنٹوں میں کیا ہوگا۔ عالمی حالات و واقعات سے دل چسپی رکھنے والا شاید ہی کوئی فرد ہو، جو اُس رات نہ جاگ رہا ہو یا پھر صبح اُٹھتے ہی سب سے پہلے حالات سے باخبر ہونے کے لیے اپنے ٹی وی اسکرین یا موبائل فون کی جانب نہ لپکا ہو۔ دنیا نے ایسی سنسنی خیز راتیں کم ہی دیکھی ہوں گی۔ 

ایک طرف ٹرمپ کی دھمکیاں اور اسرائیل کی پُھرتیاں تھیں، تو دوسری جانب ایران بھی جوابی وار کے لیے تیار تھا، جس کا نشانہ پڑوسی عرب ممالک بنتے اور یوں جنگ کا دائرہ پھیلنے کے خدشات، عملی صُورت میں ڈھلتے نظر آ رہے تھے۔ ایسے میں پاکستانی وقت کے مطابق رات تین بج کر32 منٹ پر وزیرِ اعظم، شہباز شریف کی جانب سے سماجی رابطوں کی سائٹ، ایکس(ٹوئیٹر) پر ایک پیغام ظاہر ہوا، جس میں اُن کی جانب سے امریکی صدر سے ڈیڈلائن میں توسیع کی درخواست کی گئی۔

یہ پیغام دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا، جس کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اِسے چند منٹوں میں تقریباً چالیس لاکھ افراد نے دیکھا۔ یہ اس امر کا بھی ثبوت ہے کہ دنیا اُس وقت کی صُورتِ حال کو کس طرح دیکھ رہی تھی۔ اب پوری دنیا کی نظریں امریکی صدر پر مرکوز تھیں کہ اُن کی جانب سے کیا ردّ ِعمل سامنے آتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا کہ’’ صدر ٹرمپ کو پاکستانی وزیرِ اعظم کے پیغام سے آگاہ کردیا گیا ہے اور وہ اُس پر جلد ہی اپنا ردّ ِعمل دیں گے۔‘‘ 

ایک، ایک منٹ کا حساب رکھا جا رہا تھا۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور ساتھ ہی دل کی دھڑکنیں بھی تیز تر ہوتی جا رہی تھیں کہ امریکا سے جواب آگیا، جس پر پوری دنیا نے سُکھ کا سانس لیا۔ صدر ٹرمپ نے نوید سُنائی کہ اُنھوں نے پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی درخواست پر ایران کو مذاکرات کے لیے دی گئی مہلت میں دو ہفتوں کا اضافہ کردیا ہے۔

یوں ایک ماہ سے جاری جنگ، عارضی طور پر رُک گئی۔ اِس موقعے پر امن کے علم برداروں کو یہ خُوش خبری بھی سُنائی گئی کہ اگلے چند روز میں امریکا اور ایران کے مابین پاکستان کے دارالحکومت، اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے تاکہ عارضی جنگ بندی، مستقل امن میں تبدیل ہوسکے۔ تاہم، اب بھی ایک رکاوٹ موجود تھی اور وہ تھا، اسرائیل، جس نے سیز فائر کے باوجود لبنان پر تاریخ کا بدترین حملہ کرتے ہوئے دس منٹ میں 150 سے زاید مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے دَوران ایک ہزار سے زاید افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ مسلّح تنظیم، حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور یہ کہ لبنان سیز فائر کا حصّہ نہیں ہے۔ اسرائیل کے اِس مؤقف کی امریکی صدر نے بھی تائید کی، جب کہ دوسری جانب ایران نے اِن حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا اور یوں چند گھنٹے قبل ہونے والی جنگ بندی ٹوٹنے کے قریب پہنچ گئی۔ 

ایران کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر لبنان پر حملے جاری رہے، تو وہ امریکا کے ساتھ مذاکراتی میز پر نہیں بیٹھے گا۔ یہاں ایک بار پھر پاکستان کا شان دار سفارتی کردار سامنے آیا، جس نے ایک جانب ایران کو تحمّل سے کام لینے پر آمادہ کیا، تو دوسری جانب، امریکا کو بھی حالات کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے اسرائیل پر قابو پانے کا مشورہ دیا، جس پر، میڈیا رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم، نیتن یاہو کو ایک سخت فون کال کی، جس کے بعد لبنان پر حملے رُک گئے۔ پاکستان کی اِن کوششوں سے مذاکراتی عمل پر منڈلانے والے غیر یقینی کے بادل چھٹ گئے اور ہفتہ11 اپریل کو وہ لمحہ آگیا، جب اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں امریکا اور ایران کے وفود آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ 

امریکا کی جانب سے وفد کی قیادت نائب صدر نے کی، تو ایرانی ٹیم کی قیادت اسپیکر اور وزیرِ خارجہ کر رہے تھے۔ ہم یہ سطور اُس وقت قلم بند کر رہے ہیں، جب اسلام آباد میں مذاکرات کی بساط بچھائی جا چُکی ہے، مذاکرات سے کیا نتیجہ برآمد ہوگا، عارضی جنگ بندی میں اضافہ ہوگا یا یہ مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو جائے گی، بات چیت طول پکڑے گی یا پھر مذاکرات ناکام ہوجائیں گے اور صدر ٹرمپ کی دھمکی کے مطابق، جنگ کا بدترین دَور شروع ہوجائے گا، اِن معاملات پر فی الوقت کوئی بھی رائے دینے سے قاصر ہیں، البتہ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اسلام آباد مذاکرات کا نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلے، پاکستان نے امن کے لیے جو کوششیں کیں یا اب بھی کر رہا ہے، وہ دنیا میں ایک مثال کے طور پر پیش کی جاتی رہیں گی۔

عرب دنیا نے بھی جنگ بندی کی حمایت کی اور عین مذاکرات کے موقعے پر سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ پاکستان آئے۔ عرب ممالک اِس جنگ میں کسی طور بھی شامل نہیں، مگر امریکا کے حلیف ہونے کی وجہ سے ایران نے پہلے ہی دن سے اُنھیں اپنے نشانے پر رکھا۔ اُس نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، اومان اور اردن پر میزائلز اور ڈرونز برساتے ہوئے اُن کی تیل تنصیبات، کمرشل ایریاز، امریکی سفارت خانوں اور اڈّوں کو نشانہ بنایا۔

عربوں کو اِس جنگ میں بہت نقصان ہوا، مگر تادمِ تحریر اُنھوں نے پلٹ کر ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ اِسی طرح آبنائے ہرمز کی بندش سے بھی سب سے زیادہ عرب ممالک ہی متاثر ہوئے کہ وہیں سے دنیا میں تیل یا ایل این جی جاتے ہیں۔ نیز، فضائی حدود بند رہنے یا مسلسل خلل سے بھی عرب ممالک کی ہوائی کمپنیز مالی بحران سے دوچار ہوئیں۔ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے، جس کی ایک شق کے تحت ہم اُس کے دفاع کے پابند ہیں، مگر سعودی قیادت کی ستائش کی جانی چاہیے کہ اُس نے پاکستان کو کسی امتحان میں نہیں ڈالا۔

ایران پر امریکا اور اسرائیل کا حملہ ناجائز تھا، لیکن ایران کے سعودی عرب، یو اے ای، قطر، بحرین، اومان اور تُرکیہ وغیرہ پر حملوں کو بھی محض اِس لیے درست قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہاں امریکا کی موجودگی ہے۔ اِس لیے کہ آزاد ریاستوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مُلک سے اپنی ضرورت کے تحت معاہدے کرسکتی ہیں، جب کہ سعودی عرب کا پہلے دن سے یہی مؤقف رہا کہ وہ اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا اور ایسا ہی ہوا، پھر بھی اُس پر حملے نے مسلم دنیا کو بڑی آزمائش سے دوچار کیا۔ 

اِسی طرح ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کو بھی یہ کہہ کر جسٹیفائی نہیں کیا جاسکتا کہ اُس کی بقا کا سوال ہے۔ دیکھا جائے، تو اِس راہ داری کی بندش سے امریکا یا اسرائیل کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ صرف وہی ممالک زیادہ متاثر ہوئے، جن کا اِس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں۔

صرف جنوب مشرقی ایشیا میں نوّے کروڑ مسلم آبادی ہے، جو کُل مسلمانوں کی آبادی کا نصف ہے، اِن سب کو تیل کی بندش کی وجہ سے معاشی دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے جائز دفاع کے حق کی ہر کوئی حمایت کرتا ہے، تاہم اگر پڑوسیوں کو یہ احساس ہونے لگے کہ ایران کے دفاعی ہتھیار اُن کے لیے خطرے یا دبائو کا باعث بن سکتے ہیں، تو یہ باہمی اعتماد کے لیے خطرناک صُورت ہوسکتی ہے۔

پاکستان اِس امر پر مطمئن ہوسکتا ہے کہ اُس نے اپنی سِول اور فوجی قیادت کی اَن تھک محنت کے ذریعے خطّے کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کی ہرممکن کوشش کی۔ اِس ضمن میں سیز فائر کسی بڑے بریک تھرو سے کم نہیں تھا، یہ الگ بات کہ فریقین اُس سے فائدہ اُٹھا سکے یا نہیں۔ یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان مصالحتی عمل میں سہولت کار کی بجائے ثالث کے طور پر سامنے آیا۔

دوسرے الفاظ میں، وہ کسی کے ساتھ نہیں، کسی کا طرف دار نہیں، بلکہ فریقین کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے کوشاں ہے اور اِسی کے نتیجے میں اسلام آباد میں مذاکرات کا مرحلہ آیا۔ پاکستان کا یہ کردار بہت ہی مشکل، پیچیدہ اور صبر آزما ہے کہ یہاں مذہبی یا نظریاتی طور پر تقسیم بہت واضح ہے، جو محض جذبات کی بنیاد پر شدّت اختیار کر جاتی ہے۔ یہاں کے اہلِ دانش، ماہرین اور تجزیہ کار بھی بظاہر یہی تاثر دیتے ہیں کہ وہ نیوٹرل ہیں، مگر ایسا ہے نہیں۔ 

نیز، یہاں سازشی تھیوریز کا بھی رواج عام ہے، جس پر عوام کے تو کیا کہنے، اہلِ دانش بھی بغیر تحقیق یقین کرلیتے ہیں، بلکہ بعض تو خُود بھی ایسی تھیوریز پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں، جب کہ سوشل میڈیا نے تو اِس روش کو دو آتشہ کردیا ہے۔ تجزیوں میں حقائق اپنی مرضی اور خواہشات کے تابع کرنے سے لائکس تو مل سکتے ہیں، مگر یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ یہ رویّہ بعض اوقات مُلک کی ساکھ کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اِس لیے اِس اہم موقعے پر ہمیں بہت سوچ سمجھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے۔ اپنے اندرونی مسائل پر گفتگو میں وہ انداز اختیار کرنا کسی صُورت مناسب نہیں، جو عالمی سطح پر مُلک کی رسوائی کا سامان کرے۔ اِسی طرح، پاکستان کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کی جو نوعیت ہے، اُس نے جنگ کے سبب نازک صُورت اختیار کرلی ہے، تو ہمارے ماہرین کو بھی سفارتی باریکیوں اور نزاکتوں کا احساس کرتے ہوئے اِس طرح کی باتیں یا بیانیہ پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے، جن سے پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ 

ہمارے’’ثالث‘‘ کے کردار نے جہاں ہماری عالمی شہرت اور وقعت میں اضافہ کیا ہے، وہیں حکومت اور عوام کی ذمّے داریوں میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ اگر اِس موقعے پر ہم اپنے اندرونی اختلافات، سیاسی و مسلکی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ذمّے دارانہ رویّہ اختیار کریں، تو یہ مُلک و قوم کے عالمی امییج میں مزید بہتری کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

پاکستان کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے، مگر اِس کے لیے بہت سمجھ بوجھ، دانش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جو ابھی تک تو نظر آ بھی رہا ہے۔ بہرحال، ہمارا یہ عالمی ثالث کا پہلا تجربہ اور کردار ہے، تو شاید ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید