پاکستان د نیا کو تیسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سےبچانے کیلئے انتھک کوششیں کر رہا ہے اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی مدبرانہ سفارت کاری کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی جنگ بازوں سے امن عالم کو لاحق سنگین خطرات پر کسی نہ کسی صورت میں بالآخر قابو پالیا جائے گا لیکن کچھ چال باز ایسے بھی ہیں جو بنی نوع انسان کےسکون اور عافیت کو غارت کرنے کے درپے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ امریکا ان کی سازشوں کا شدومد سےعملی حصہ بن چکاہے۔ ان منصوبہ سازوں میں اسرائیل اور امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسبتھ سب سے آگے ہیں۔ ہیگسبتھ کو وزیر بنوانے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر امریکا کی صہیونی لابی کا سب سے زیادہ دباؤ تھا۔ بنی اسرائیل کی خوئے بد تو حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانے سے ہی عیاں تھی۔ ہٹلر نے جرمنی میں یہودیوں کا جو قتل عام کیا وہ انسانیت کیخلاف اس کا بہت بڑا جرم تھا لیکن اس سے بڑا جرم برطانیہ نے امریکا اور اپنے وقت کی بڑی طاقتوں کی سازش سے کیا جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد اہل یہود کو عظیم ریاست فلسطین کےا یک ٹکڑے پر اسرائیل کی صورت میں ایک زمینی اڈہ فراہم کر دیا۔ صہیونی یہودیوں نے اس سرزمین کے اصل مالک فلسطینی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ انگریزوں نے بالواسطہ ان کی مدد کی اور عربوں کی وسیع سرزمین کو چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم کرکے انہیں کئی حصوں میں تقسیم کر دیا تاکہ وہاں کوئی ملک اتنا طاقتور نہ ہوسکے کہ اسرائیل کے لئے خطرہ بن جائے۔
صہیونی یہودیوں نے نہ صرف امریکا میں اپنی لابی اتنی مضبوط بنائی بلکہ اس سے انتہائی مہلک ہتھیار حاصل کرکے خودکو اتنا طاقتور بنالیا کہ 1967ء کی جنگ میں سارے عرب ممالک ملکر بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ اسرائیل 9؍ ہزار مربع کلومیٹر کی ایک چھوٹی سی ریاست ہے، ا مریکا سے ایٹمی اور غیر ایٹمی خطرناک اسلحہ سے اپنی فوج کو مسلح کرکے وہ ایک بڑی طاقت کے طور پر عربوں کے سروں پر مسلط ہو گیا پھر بھی اسے کسی مشکل میں دیکھیں تو سب سے پہلے امریکا اپنی تمام تر ہیبت ناکیوں کے ساتھ اس کی مدد کو پہنچ جاتاہے۔ ایران امریکا سے ہزاروں میل دور ہے وہ امریکا پر حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا وہاں کے علماء نے ایٹم بم بنانے کے خلاف فتویٰ دے رکھا ہےکہ یہ نسل انسانی کو تباہ کرنے کا ہتھیار ہے۔ ایران پر امن مقاصدکے لئے یورینیم افزودہ کر رہاتھا۔ امریکا نے اسے ایٹم بم بنانے کی کوشش قرار دے کر اسرائیل کے کہنے پر ایران پر حملہ کردیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جو اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے تحت پہلے ہی لبنان، شام، عراق، اردن اور مصر پر قبضے کا منصوبہ بنا چکاتھا لیکن ایران اس کے راستے میں حائل تھا۔غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے ذریعے اپنے منصوبے کی بنیاد رکھ چکا تھا۔اس نے 80 ہزار سے زائد فلسطینی مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوںکو قتل کرکے لبنان پر حملے شروع کر رکھے تھے۔
نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو اپنےجال میں ایسا پھنسایا کہ وہ ایرانی قوم ہی نہیں، دنیا کی قدیم ترین ایرانی تہذیب کو ملیامیٹ کرنے کے درپے ہوگئے اور اسرائیل کو ساتھ لے کر ایران پر چڑھ دوڑے۔ ان کاخیال تھا کہ ایران بھی وینزویلا کی طرح بس چند گھنٹے کی مار ہے مگر ایرانی تو لوہے کا چنا ثابت ہوئے اپنی قیادت کی شہادتوں اور دوسرے نقصانات کے باوجود انہوں نے امریکا اور اسرائیل دونوں کے چھکے چھڑا دیئے۔
پاکستان کے مدبر وزیراعظم شہباز شریف اور نڈر ڈیفنس چیف فیلڈمارشل عاصم منیر کی ثالثی سے فریقین میں دو ہفتوں کے لئے جنگ تو بند ہوگئی لیکن ایران کو سرنڈر کرانے کاخواب، خواب ہی رہا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے لبنان پر اسرائیل کے حملے دس روز کے لئے بند کرادیئے ہیں لیکن اسرائیل کی بدنیتی دیکھئے کہ اس نے جنگ بندی کے اعلان کے دوران بھی لبنانی شہر طائر پر بمباری کی اور بعد میں بھی مختلف شہروں پر حملے جاری رکھے۔ ایران نے جو آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کیلئے کھول چکا تھا لبنان پر اسرائیل کے حملوں اور امریکا کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے خلاف ہرمز کو دوبارہ بند کردیا۔ آبنائے ہرمز کھلنے سے دنیا میں توانائی کی قیمتیں کم ہونے لگی تھیں مگر دوبارہ بند ہونے سے پھر بڑھ گئیں۔ امریکا دعوے تو کرتا ہے کہ اس سے امریکا کو کوئی فرق نہیں پڑا مگرخود امریکا میں اس کے خلاف ہاہاکار مچی ہوئی ہے، امریکی معیشت بھی دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح نقصانات سے دوچار ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے ڈیڑھ ارب کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پوپ لیو امن کی دہائی دے رہے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں امریکی وزیر جنگ صدر ٹرمپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے (نعوذ باللّٰہ) مثیل قرار دیکر ان کا دفاع کررہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے ٹرمپ کو امن کے علمبردار پیغمبر علیہ السلام کے برابر بٹھا کر ایک مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے ٹرمپ اور پوپ کے درمیان الگ تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ پوپ امن اور ٹرمپ جنگ کی تصویر بن چکے ہیں اور کیتھولک ہی نہیں پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے بھی پوپ کے نظریئے کی حمایت کی ہے۔ امریکا، یورپ اور کئی دوسرے ملکوں میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی مذمت کے لئے ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ ان میں خود یہودی بھی شامل ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جنگ سے پہلے نیتن یاہو کو آشیرباد دینے تل ابیب پہنچ گئے تھے اب بھارت میں ان کے خلاف مہم چل رہی ہے۔ پاکستان نہایت نیک نیتی سے امریکا اسرائیل ایران جنگ مستقل بند کرانے اور امن سمجھوتے کے لئے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مصروف ہے مگر اسرائیل اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طاقتور صہیونی لابی کی موجودگی میں امن معاہدہ تاخیر کا شکار ہے ایسے میں یہ معاہدہ ہوجائے تو یہ ایک معجزہ ہی ہوگا۔کیونکہ معاہدے کیلئے ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے۔