• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونیوالے امریکہ ایران مذاکرات کے پہلے دور میں ناکامی کے بعد ایرانی وفد کی واپسی کے موقع پر ایسی خفیہ اطلاعات سامنے آئیں کہ اسرائیل، ایرانی وفد کے طیارے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک تھی، ایسے میں پاکستان نے اسرائیلی خطرے کے پیش نظر اپنی فضائیہ کے طیاروں کے حصار میں ایرانی وفد کو بحفاظت ایران پہنچانے کا فیصلہ کیا اور 24جے 10-C جنگی طیاروں کے ساتھ ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) بھی ایرانی وفد کی فضائی نگرانی پر مامور کیا۔ AWACS طیارہ سینکڑوں کلومیٹر دور سے دشمن کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسرائیل کو جب یہ اطلاعات ملیں کہ پاکستانی جنگی طیارے ایرانی وفد کو اپنے حصار میں لے کر بحفاظت ایران پہنچارہے ہیں تو وہ اپنے مذموم منصوبے پر عمل کرنے کی جرات نہ کرسکا اور اس طرح پاکستان ایرانی وفد کو بحفاظت ایران کے محفوظ مقام تک پہنچانے میں کامیاب رہا۔ اسرائیلی جریدے ’’یروشلم پوسٹ‘‘ نے بھی اسرائیلی منصوبے کی خبر شائع کی اور کہا کہ پاکستان کے بروقت اقدام نے اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنادیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب پاکستان ایئر فورس کے طیاروں نے کسی غیر ملکی وفد کو حفاظتی حصار فراہم کیا ہو۔ اگر خدانخواستہ دشمن اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوجاتا تو پوری دنیا میں پاکستان کی شدید بدنامی ہوتی اور یہ کہا جاتا کہ پاکستان ایرانی مہمانوں کو اپنے وطن بلاکر ان کی حفاظت میں ناکام رہا۔ یاد رہے کہ امریکہ سے مذاکرات کرنے والے ایرانی وفد میں شامل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اسرائیل کی اسٹرائیک لسٹ میں ہیں۔ اسرائیل کی یہ سازش تھی کہ اگر وہ ایرانی قیادت کو راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو مستقبل میں امریکہ ایران مذاکرات نہیں ہوسکیں گے اور پاکستان پر دنیا کا اعتماد بری طرح متاثر ہوگا۔ گزشتہ دنوں امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے یہ دعویٰ کیا کہ اسرائیل کافی عرصے سے امریکہ کے سابقہ صدور کو ایران پر حملے کیلئے اکسارہا تھا مگر وہ اسرائیل کی باتوں میں نہیں آئے لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے کہ اسرائیلی منصوبے کے تحت امریکہ اور اسرائیل جیسے ہی ایران پر حملہ آور ہوں گے، ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ایران میں رجیم چینج کا امریکی اور اسرائیلی منصوبہ کامیاب ہوجائے گا مگر ایران پر حملے اور ایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ احساس ہوا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بچھائے گئے جال میں ٹریپ ہوگئے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر، امریکی صدر کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئے جسکے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا نیتن یاہو کے ساتھ رویہ بدل گیا جس کا اظہار انہوں نے اپنی حالیہ ٹوئٹ میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ وہ ان دونوں شخصیات کے مشکور ہیں جنہوں نے امن کوششوں میں پوری دنیا خاص طور پر امریکہ کا ساتھ دیا۔ بدلتی صورتحال میں اسرائیل، پاکستان اور اسکی سیاسی و عسکری قیادت بالخصوص نڈر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا صف اول کا دشمن سمجھتا ہے۔ پاکستان کا ایرانی وفد کو بحفاظت تہران پہنچانا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ ایران اسرائیل کے منہ پر طمانچہ ہے کیونکہ اسرائیل یہ دعوے کررہا تھا کہ وہ ایران کی فضائی حدود پر قابض ہے مگر فیلڈ مارشل عاصم منیر فوجی یونیفارم میں ایران پہنچے اور اپنے قیام کے دوران انہوں نے ایران کے صدر، آرمی چیف اور انقلابی گارڈز کے کمانڈر انچیف سے ملاقات کی جو یقیناََ ایک دلیرانہ فیصلہ تھا اور اسکی کوئی مثال نہیں ملتی جس پر جنرل عاصم منیر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ایسے میں جب دنیا کی نظریں اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور اور امن معاہدے پر مرکوز ہیں اور غیر ملکی مہمان اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، اسرائیل اور صہیونی طاقتیں مذاکرات سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان، چین سے آنے والے ایک ایرانی بحری جہاز پر امریکی قبضہ اور ایران کی جانب سے دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان نے امریکہ ایران مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر کو ٹیلیفون کال اور وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو میں تحمل اور لچک دکھانے کی درخواست نے مذاکرات کی راہ ہموار کردی ہے۔ کسی وقت بھی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اسلام آباد آمد متوقع ہے اور امید کی جارہی ہے کہ امریکہ ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پاسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں فریقین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تحمل، تدبر، دور اندیشی اور لچک کا مظاہرہ کریں۔ اسلام آباد مذاکرات محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی قیادت کے فہم، برداشت اور امن کیلئے سنجیدگی کا امتحان ہیں۔ اگر یہ موقع ضائع ہوگیا تو اسکے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

تازہ ترین