آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
پچھلے دنوں میری بھتیجی عزین نے کہا، انکل! ایک سوال بہت دنوں سے کھلتا ہے کہ ؟؟جس قوم کے پاس زکوٰۃ جیسا سسٹم موجود ہے میں نہیں سمجھ پاتی کہ وہ قوم غریب کیوں ہے؟ کیونکہ میرا مطالعہ تو یہ ہے کہ زکوٰۃ جس قوم کے پاس ہو وہ غریب نہیں رہنی چاہئے، آپ کے پاس اس کا تشفی بخش کیا جواب ہے…؟‘‘
میں نے عزین کو بتایا کہ جس طرح ادھار محبت کی قینچی ہے اسی طرح دولت انسانیت کی قینچی ہے، علم دین کا تعلق جب تک روٹی روزی سے نہ جڑے گا انسان علم دین سے غافل ہی رہے گا کہ بیشتر لوگ اپنے مفادات کے لئے مذہب کو تو مانتے ہیں لیکن مذہب کی بات کو نہیں مانتے ہیں، موجودہ زمانے میں علم دین کے شعبے میں مادی فوائد بہت کم ہوگئے ہیں اس کے بجائے دنیوی اور مادی شعبوں میں مالی فوائد بے پناہ حد تک بڑھ گئے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اعلٰی ذہن اور اعلٰی صلاحیت کے لوگ غیردینی شعبوں کی طرف بھاگ گئے اور دینی شعبوں میں کام کرنے کے لئے کم باصلاحیت لوگ باقی رہے۔ میں نے اس طویل تمہید کے بعد عزین کو بتایا کہ نظام زکوٰۃ اسلام کا وہ مستحکم نظام ہے جس کے صحیح طور پر رائج ہونے سے پورے مسلم معاشرے کی معاشی حالت درست ہوسکتی ہے اور مسلمان مالی پس ماندگی سے اوپر اٹھ سکتے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مسلم معاشرے میں زکوٰۃ کا نظام مکمل طور پر رائج نہیں ہے بہت سے صاحب ثروت

اور صاحب نصاب زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور جو لوگ زکوٰۃ ادا کرتے بھی ہیں ان کا مصرف مناسب نہیں ہوتا اس لئے جو زکوٰۃ کی رقوم نکلتی بھی ہیں ان کا بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ ملک عزیز میں اجتماعی زکوٰۃ کے نظام پر کام نہ ہونے کے برابر ہے، میرے حساب سے بہت سے صاحب نصاب تو زکوٰۃ کے مسائل سے بھی ناواقف ہیں۔ میں نے مزید تفصیلات میں جاتے ہوئے اسے بتایا کہ زکوٰۃ ہر مسلم پر فرض ہے جس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو، زکوٰۃ کا نصاب 87 گرام (480 مل گرام) سونا یا اس کی قیمت کے بقدر چاندی، رقم یا سامان تجارت ہے۔ ایسا نصاب جب سال بھر کسی ملکیت میں رہے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے، صاحب نصاب اگر کسی سال کی زکوٰۃ پیشگی دے دے تو یہ بھی جائز ہے جس قدر مال ہے اس کا 40واں حصہ دینا فرض ہے یعنی ڈھائی فیصد، سونے یا چاندی یا جس مال تجارت پر زکوٰۃ فرض ہے اس کا 40واں حصہ دینا بھی صحیح ہے مگر قیمت خرید نہ لگے گی بلکہ زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد بازار میں جو قیمت ہوگی اس کا 40واں حصہ دینا ہوگا۔ کسی فقیر کو اتنا مال دے دینا کہ جتنے مال پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے مکروہ ہے، مقروض کو اس کے قرضہ کے بقدر یعنی جس سے اس کا قرض ادا ہوسکتا ہے دینا جائزہے خواہ قرض کتنا ہی ہو۔ زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے (یا ہونے کے لئے) پہلی شرط یہ ہے کہ جو رقم کسی مستحق زکوٰۃ کو دی جائے وہ اس کی کسی خدمت یا عمل کے معاوضہ میں نہ ہو صرف اللہ کے لئے ہو ایسا کرکے آدمی اپنے دل سے مال کی محبت کو نکالتا ہے وہ اس یقین کو تازہ کرتا ہے کہ اس کے پاس جو مال ہے وہ خدا اور اس کے بندوں کی امانت ہے نہ کہ اس کی ذاتی ملکیت اس طرح وہ اپنے اندر اس احساس کو جگاتا ہے کہ اس کے اوپر دوسروں کا حق ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ زکوٰۃ کی رقم مستحق زکوٰۃ کو مالکانہ طور پر دی جائے جس میں اس کو ہر طرح کا اختیار ہو اس کے مالکانہ قبضے کے بغیر زکوٰۃ ادا نہ ہوگی جب ایک آدمی زکوٰۃ کے تحت کسی کو کچھ دیتا ہے تو بظاہر وہ کسی غیر کو دے رہا ہوتا ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کا رخ خود دینے والے کی طرف ہوتا ہے دوسروں کو دے کر آدمی خود اپنی مدد کا اہتمام کرتا ہے۔ کسی کے پاس کچھ روپیہ، کچھ سونا، کچھ چاندی اور کچھ مال تجارت ہے مگر علیحدہ علیحدہ، ان میں سے کوئی بھی قدر نصاب نہیں ہے تو سب کو ملاکر دیکھیں گے اگر مجموعی قیمت 612 گرام چاندی کے برابر ہوجائے تو زکوٰۃ فرض ہوجائے گی اور اگر اس سے کم رہے گی تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ یاد رہے کہ نصاب میں چاندی کا اعتبار کیا گیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملت اسلامیہ میں زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کا تصور نہیں ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زکوٰۃ کی رقومات سے جن بڑے اور قابل قدر منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے وہ تکمیل کے مراحل تک پہنچ ہی نہیں پاتے جب تک زکوٰۃ کا اجتماعی نظام اپنی جڑیں نہ پھیلائے گا ہمیں کامیابی کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ ہر صاحب نصاب کو سب سے پہلے یہ سوچنے اور اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ زکوٰۃ کا اسلامی نظام کتنا جامع اور ہمہ گیر ہے اور اس سے ملت مسلمہ کو کتنا فائدہ ہوسکتا ہے۔ وطن عزیز میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کی تعداد 19کروڑ سے زائد ہے اگر ان 19کروڑ میں سے صرف ایک کروڑ مسلمان بھی زکوٰۃ ادا کرتے ہوں اور ان کی زکوٰۃ اوسطاً دو ہزار روپے بھی ہوتی ہوتو یہ سمجھ لیجئے کہ ہر سال ہمارے پاس دو ہزار کروڑ جیسی خطیر رقم جمع ہوسکتی ہے (جبکہ یہ محض ایک مثال ہے میرے حساب سے اس سے کئی گنا زیادہ رقم بطور زکوٰۃ نکالی جاتی ہے) ذرا سوچئے کہ یہ کتنی بڑی رقم ہے اور اگر یہ رقم ہمارے سامنے ہو تو ہم اسے صحیح طور پر گننا تو درکنار آنکھ بھر کے دیکھ بھی نہ پائیں گے۔ اب یہ سوچئے کہ اگر اتنی خطیر رقم (جبکہ 18کروڑ مسلمانوں کو ابھی چھوا بھی نہیں گیا) جوکہ صرف ایک کروڑ مسلمانوں کی ادائیگی زکوٰۃ کی مد میں اکٹھی ہوئی اس سے مسلمانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے کتنے اور کیسے حیرت انگیز کام کئے جاسکتے ہیں؟ آج مسلمان غریب اس لئے ہے کہ اس کے پاس روزگار نہیں ہے، علم نہیں ہے، روزگار اور علم حاصل کرنے کے لئے اسے در در کی ٹھوکریں بھی کھانی پڑتی ہیں اور ذلت و خواری کے مسائل سے بھی گزرنا پڑتا ہے میں جانتا ہوں مسائل کا رونا رونا ایک بات ہے اور وسائل کو پہچاننا اور انہیں بروئے کار لانا دوسری بات ہے ملک کے باسی 67سال سے مسائل کا رونا ہی روتے آئے ہیں اور وسائل کی تنظیم کی طرف کبھی راغب نہیں ہوئے اس کی کیا وجہ ہے؟ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے…!