• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ فرعون کے لہجے میں دھمکیاں دیتا ہے ۔ کہتا ہے کہ ایران نے امریکا کیساتھ سمجھوتہ نہ کیا تو ایران کو تباہ و برباد کر دیا جائیگا۔ ایرانی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کسی بھی دھمکی کو خاطر میں لانےپر تیار نہیں ۔ ایرانی مرنے سے ڈرتے ہیں نہ ہارنے سے ڈرتے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرو پھر تم سے بات کریں گے اور اگر ناکہ بندی ختم نہیں کرنی تو پھر ہم جنگ کیلئے تیار ہیں ۔ پاکستان نے بہت کوشش کی کہ ایران اور امریکا میں سے کوئی ایک اپنے موقف میں لچک پیدا کرے اور دونوں فریقین مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں آمنے سامنے بیٹھ جائیں لیکن ایران نے بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بغیر امریکیوں کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا اور امریکی وفد کی پاکستان آمد مؤخر ہو گئی۔ امریکی حیران ہیں کہ ایران ایک سپر پاور سے اُلجھنے کیلئے تیار کیوں بیٹھا ہے ؟ گزشتہ شب ایک امریکی صحافی نے ایرانی صحافی سے پوچھا کہ آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے ؟ ایرانی صحافی نے مسکرا کر جواب دیا کہ ہمارا مسئلہ اقبال ہے ؟ یہ جواب امریکی صحافی کے سر کے اوپر سے گزر گیا ۔ اُس نے پوچھا کہ یہ اقبال کون ہے ؟ ایرانی صحافی نے کہا کہ اقبال پاکستان کا قومی شاعر ہے ۔ امریکی صحافی نے حیرانی سے پوچھا کہ کیا اقبال نے تمہیں امریکی وفد کے ساتھ بات چیت کرنے سے منع کیا ہے؟ جب تم نے دو ہفتے قبل اسلام آباد میں امریکا سے مذاکرات کئے تو اقبال کہاں تھا؟

ایرانی صحافی جواب دینے کی بجائے امریکی صحافی کو نظر انداز کر کے ایک فون کال سننے میں مصروف ہو گیا۔ امریکی صحافی نےاقبال نامی قومی شاعر کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کردی ۔ اُسے بتایاگیا کہ یہ شاعر پاکستان میں علامہ اقبال اور ایران میں اقبال لاہوری کے نام سے مشہور ہے ۔ کچھ دیر کے بعد اقبال کا پیچھا کرنے والا یہ امریکی صحافی مجھ تک پہنچ گیا ۔ میں نے اُسے کہا کہ گوگل میں جاؤ ۔ ڈاکٹر محمد اقبال ٹائپ کرو۔ سب تفصیلات مل جائیں گی ۔ اُس نے لیپ ٹاپ کھولا اور دکھایا کہ وہ گوگل کے ذریعے اقبال کے بارے میں کافی سرچ کر چکا ہے لیکن سمجھ نہیں آرہی کہ اقبال تو 1938 ء میں انتقال فرما گئے لیکن ایرانی 2026 ء میں اقبال کی وجہ سے امریکا کے ساتھ لڑنے مرنے پر تیار بیٹھے ہیں؟ یہ سُن کر میں نے امریکی صحافی سے کہا کہ فی الحال تو امریکی وفد پاکستان نہیں آ رہا جب آئے گا تو آپکو اقبال اور ایران کا تعلق سمجھا دوں گا ۔ اُس نے جواب میں کہا اُسے اب امریکی وفد کے آنے جانے سے کوئی دلچسپی نہیں وہ ایران اور اقبال کے تعلق پر اسٹوری لکھے گا۔ اس نے اصرار کیا کہ آپ مجھے اقبال اور ایران کا تعلق سمجھائیں ۔ایک لمحے کو میں نے سوچا کہ اس امریکی کے ساتھ وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔پھر خیال آیا کہ میں تو پاکستانی ہوں ۔ اور میری ریاست تو امریکا اورایران کے درمیان ثالث بنی ہوئی ہے ۔ اس ثالثی کا بھرم رکھنے کیلئے مجھے اس امریکی صحافی کو کچھ راز کی باتیں بتا دینی چاہئیں کیونکہ اب اسکے پاس لکھنے کو کچھ نہیں ہے۔ میں نے گھڑی کی طرف دیکھا اور بڑی عاجزی سے امریکی صحافی کو کہا کہ میرے پاس صرف پانچ منٹ ہیں ۔ اقبال اور ایران کے تعلق کو پانچ منٹ میں جتنا سمجھ سکتے ہو سمجھ لو ۔ اُس نے فوری طور پر نوٹ بک نکالی اور کہا کہ جی بتائیے۔ میں نے اُسے بتایا کہ چند دن قبل لاہور میں علامہ اقبال کی برسی پر ایک بہت بڑا اجتماع منعقد ہوا۔

اس اجتماع کے مہمان خصوصی لاہور میں ایران کے قونصل جنرل مہران مواحد فار تھے ۔ جب انہیں خطاب کیلئے بلایا گیا تو الحمراء ہال میں سینکڑوں شرکاء اُن کے استقبال کیلئے کھڑے ہو گئے اور کئی منٹ تک تالیاں بجاتے رہے ۔ اس موقع پر مہران مواحد فار نے کہا کہ اقبال نے ایرانیوں کو جو ہمت اور حوصلہ دیا اُس سے ہم نے امریکا کو شکست دی۔ امریکی صحافی نے پوچھا ایرانی سفارتکار کو اس اجتماع میں کس نے بلایا تھا ؟ میں نے بتایا ذوالفقار چیمہ صاحب نے بلایا تھا ۔ اُس نے پوچھا وہ کون ہے ؟ میں نے بتایا ایک ریٹائرڈ آئی جی ، کالم نگار اور مصنف ہے۔اور اقبال کا بڑا پرستار ہے۔ وہ نوٹ بک پر تیزی سے لکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا اس اجتماع میں اور کون کون تھا ؟ میں نے بتایا کہ سینکڑوں افراد تھے لیکن کنئیرڈ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر ارم انجم ، ڈاکٹر عظمیٰ زرین،بریگیڈئر وحید الزمان اور تنویر عباس تابش نے وہاں تقریریں کیں اور صدارت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے کی کیونکہ علامہ اقبال کا تعلق بھی اسی تعلیمی ادارے سے تھا۔ امریکی صحافی نے پوچھا کہ یہ سب توپڑھے لکھے لوگ لگتے ہیں پھر انہوں نے ایک ایرانی سفارتکار کو وہاں کیوں بلایا ؟ میں نے اپنی جھنجلاہٹ کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا کہ ڈیئر فرینڈ! تمہیں تو علامہ اقبال کا پتہ نہیں ، جے ڈی وینس اور ٹرمپ کو بھی پتہ نہیں ہوگالیکن ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کئی سال پہلے علامہ اقبال پر ایک کتاب لکھی تھی ۔ اقبال کی شاعری نے انقلاب ایران میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ تم ہی بتاؤ اگر ہم یوم اقبال کی تقریب میں کسی امریکی سفارت کار کو بلائیں تو وہ بیچارا کیا تقریر کرے گا ؟ امریکی صحافی لاجواب ہو چکا تھا ۔ میں نے گھڑی دیکھی اور اُسے کہا پانچ منٹ پورے ہو گئے ۔ اُس نے چلتے چلتے پوچھا اقبال کے بارے میں اور کس سے پوچھوں ؟ میں نےاُسے مشاہد حسین کا نام دیا ۔ وہ مشاہد حسین کو جانتا تھا ۔ کہنے لگا کہ اُسکا اقبال سے کیا تعلق ہے ؟ میں نے بتایا مشاہد حسین نے بھی گزشتہ ہفتے یوم اقبال پر اسلام آباد میں ایک تقریب سے دھواں دھار خطاب کیا اور کہا کہ ایران کی جیت فکر اقبال کی جیت ہے۔ اس تقریب کا اہتمام بھی ایک سابق بیوروکریٹ طارق پیر زادہ نے کیا تھا اور یہاں تاجکستان کے سفیر شریف زادو یودوف اور افراسیاب خٹک نے تقریریں کیں ۔ امریکی صحافی نے سر کھجاتے ہوئے کہا کہ اگر اقبال ایرانیوں اور پاکستانیوں کا مشترکہ ہیرو ہے تو پھر پاکستان ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار کیسے ادا کر سکتا ہے ؟ میں نے جان چھڑانے کیلئے انگریزی میں اُسے کہا کہ اقبال عام پاکستانیوں کا ہیرو ہے، اس اشرافیہ کا ہیرو نہیں ہے جو مرنے سے بہت ڈرتی ہے ۔ اب ٹرمپ کو یہ کون سمجھائے کہ اقبال نے فارسی میں کہا تھا

ماسوی الله را مسلماں بندہ نیست

پیش فرعونے سرش افگندہ نیست

(ترجمہ ۔ مسلمان اللّٰہ کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے ، وہ کسی فرعون کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتا ) اقبال نے بال جبریل میں یہ بھی کہا ۔

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

ٹرمپ کو فرعون کا لہجہ چھوڑنا ہو گا اور دھمکیاں بند کرنی ہونگی ۔ ایرانی ہو یا پاکستانی ۔ فرعون کے لہجے میں بولنے والوں کی اطاعت سچے مسلمانوں کیلئے بڑی مشکل ہے۔ اب تو کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے بھی ایرانیوں کے موقف کی حمایت شروع کر دی ہے ۔ ہو سکتا ہے وہ بھی اقبال سے متاثر ہو۔ لیکن ایرانیوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ فکر اقبال سے متاثر ہیں اور فکر اقبال فرعون و یزید کیخلاف بغاوت کا نام ہے۔ ٹرمپ کو یہ بات سمجھ نہیں آ سکتی کہ

’’ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے ‘‘

یزید جیت کر بھی ہمیشہ ہار جاتا ہے

تازہ ترین