• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران و لبنان میں جنگ بندی: غزہ کا مستقبل کیا ہو گا؟ اہم سوالات اٹھ گئے

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ایران اور لبنان میں حالیہ جنگ بندی کے بعد غزہ کی صورتِ حال پر نئے سوالات اُٹھ گئے۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دیگر محاذوں پر کشیدگی کم ہونے کے نتیجے میں اسرائیل اپنی توجہ دوبارہ غزہ کی جانب موڑ سکتا ہے جس سے فوجی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل سے جنگ بندی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی عارضی جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے، اس دوران اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں صورتِ حال دو ممکنہ رخ اختیار کر سکتی ہے۔

ایک یہ کہ اسرائیل دیگر محاذوں پر سکون کے بعد غزہ میں حملے تیز کر دے گا اور دوسرا یہ کہ عالمی دباؤ کے باعث مکمل جنگ سے گریز اور فلسطینیوں پر محدود دباؤ جاری رکھے گا۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اہم تنازع حماس کے ہتھیار ڈالنے اور غزہ کے مستقبل کے نظامِ حکومت پر ہے، اسرائیل حماس کے غیر مسلح ہونے کو اپنی واپسی کی شرط قرار دے رہا ہے جبکہ حماس مکمل انخلاء، سرحدوں کے کھلنے اور تعمیرِ نو کو ترجیح دے رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں فوری حل کا امکان کم ہے اور مذاکرات طویل تعطل کا شکار رہ سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی داخلی سیاست اور آئندہ انتخابات بھی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں جبکہ فوجی تھکن اور وسائل کی کمی بڑے پیمانے پر جنگ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں شائع کیے گئے تجزیے کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں مکمل جنگ کے بجائے محدود کشیدگی کا امکان زیادہ ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید