• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وائٹ ہاؤس فائرنگ: حملہ آور کی فہرست میں 1 اہم امریکی عہدیدار کا نام شامل نہیں تھا

دائیں جانب ایف بی آئی ڈائیریکٹر کاش پٹیل اور بائیں جانب حملہ آور کول ٹومس ایلن—فائل فوٹوز
دائیں جانب ایف بی آئی ڈائیریکٹر کاش پٹیل اور بائیں جانب حملہ آور کول ٹومس ایلن—فائل فوٹوز

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں منعقد کیے گئے نامہ نگاروں کے عشائیے کے دوران فائرنگ کے واقعے نے سنسنی پھیلا دی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اوِل میلانیا ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق 31 سالہ حملہ آور کول ٹومس ایلن 3 ہتھیاروں کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوا تھا، جس کا سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے واقعے سے تقریباً 10 منٹ پہلے اپنے اہلِ خانہ کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بیان کیا  تھا تاہم اس فہرست میں ایک اہم اہلکار کا نام شامل نہیں تھا۔

رپورٹس کے مطابق جہاں کول ٹومس ایلن کی فہرست میں متعدد نام تھے وہیں اس فہرست میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کا نام موجود نہیں تھا۔

حملہ آور نے اپنے منصوبے کو مختلف عالمی مظالم کے تناظر میں جواز دینے کی کوشش کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ کم جانی نقصان کے لیے مخصوص گولیاں استعمال کر رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ملزم پر وفاقی سطح پر اسلحہ اور حملے کے الزامات عائد کیے جائیں گے جبکہ مزید دفعات بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ 

عدالت میں ملزم کو آج (پیر کے روز) پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید