• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

ڈنر واؤچر بھیجیں

آپ اپنی ذمّےداریاں، بطور ایڈیٹر، سنڈے میگزین احسن طریقے سے نبھائیں۔ چند مخصوص لوگوں ہی کی تحاریر شائع نہ کیا کریں اور لال قلعہ ریسٹورنٹ والوں سے درخواست کریں کہ کبھی ہمیں بھی ڈنر وائوچر بھیج دیا کریں۔ اگر ہم بھی زندگی میں کبھی مفت کھانا کھالیں گے، تو کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔ (نواب زادہ بے کار ملک، سعید آباد، کراچی)

ج: آفرین ہے، اہلِ خانہ پر، آپ کو مجسّم کیسے برداشت کرتے ہیں، ہم سے تو آپ کایہ چند سطری خط نہیں سہا جاتا۔

مسلمان ممالک ہی کیوں؟

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ حاضر ہے۔ دونوں میں ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کے متبرّک صفحات جگمگا رہے تھے، تو خُوب فیض حاصل کیا، خصوصاً شبِ بارات پر ایمان افروز مضمون شان دار تھا۔ ’’یومِ یک جہتیٔ کشمیر‘‘ پر لکھا گیا مضمون بھی پسند آیا۔ شاعر نے کیا خُوب کہا ہے۔ ؎ یارانِ جہاں کہتے ہیں ، کشمیر ہے جنّت… جنّت کسی کافر کو ملی ہے، نہ ملے گی۔

شاہ فہد قرآن کمپلیکس، مدینہ منورہ سے سالانہ ایک کروڑ قرآنی نسخے دنیا بھر میں مفت تقسیم کیے جاتے ہیں، پڑھ کر دل کو کیا ہی سُکون و قرار ملا۔ سانحۂ گل پلازا واقعتاً بہت بڑا سانحہ ہے۔ اللہ پاک مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ذمّےداران کو دنیا میں نشانِ عبرت بنادے۔ نئے سلسلے ’’احسنِ تقویم‘‘ میں نوجوان شاعر رحمان فارس نے انور مسعود اور افتخار عارف سے متعلق بہت ہی خُوب لکھا، پڑھ کے لُطف آ گیا۔

’’مصنوعی ذہانت کاانقلاب اور 2026ء کاانسان‘‘دل چسپ معلوماتی مضمون تھا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں مبین مرزا کی تخلیق ’’بےدیارم‘‘ کی دونوں اقساط بھی زبردست رہیں۔ ’’یمن، عالمی سازشوں کا گڑھ‘‘، یہ عالمی سازشوں کے شکار ہمیشہ مسلمان ممالک ہی کیوں ہوتے ہیں؟

’’اربوں کی خیرات اور بڑھتی ہوئی گداگری‘‘ بھی ایک چشم کُشا رپورٹ تھی۔ اتنی رقم سے تو بےشمار غریبوں کو ہُنرمند بنایا جاسکتا ہے۔ شمارے میں میرا خط شامل کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)

ج: مسلمان ممالک اِس لیے کہ ایک تو ’’مسلم اُمّہ‘‘ اور ’’اُمّتِ مسلمہ‘‘ کا تصوّر ہی سِرے سے مفقود ہوگیا ہے اور اِس کا اندازہ کسی بھی افتاد کے موقعے پر ’’او آئی سی‘‘ کے کردار سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

دوم، جب تک مسلمان ممالک تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، تعمیر وترقی سے فرار حاصل کرتے رہیں گے، ترقی یافتہ قوموں کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعی نہیں کریں گے اور خُودداری، خُودانحصاری کو حرزِ جاں نہیں بنائیں گے، تب تک عالمی سازشوں کے شکار ہوتے ہی رہیں گے کہ اپنے پیروں پر کھڑی قوموں کےخلاف کوئی سازش کرنے کی جرات نہیں کرتا اور اگر کوئی کرتا بھی ہے، تو کام یاب نہیں ہوتا۔

ہدایات کے احترام میں!!

شمارہ ’’وہ کسی شہرِ نگاراں کی پری لگتی ہے…‘‘ عبارت کے ساتھ موصول ہوا، تو آپ کی ہدایات کے احترام میں، آنکھوں پر ہاتھ دھر کے تیزی سے آگے بڑھ گئے اور یہ فیصلہ ہو ہی نہ سکا کہ وہ واقعی پری لگتی بھی ہے یا نہیں، نئی کتابوں پر منور راجپوت تبصرہ فرما رہے تھے۔ وسطی صفحات سے بھی بس نظریں جُھکائے جُھکائے شائستہ اظہر صدیقی کی تحریر ہی پڑھی۔

شائستہ نے ’’عورت‘‘ کے ہر ہر روپ کا خُوب ہی نقشہ کھینچا۔ کیا ہی کہنے، جو لکھتی ہیں، خُوب تر لکھتی ہیں۔ اب کی بار ثانیہ انور کی کوئی تحریر شاملِ اشاعت نہیں تھی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ ہمارا پیارا صفحہ خوب چمک دمک رہا تھا کہ ہمارا نامہ بھی موجود تھا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں عشرت فاطمہ نےمزے مزے کے حلوا جات کی تراکیب بتائیں۔ میمونہ ہارون کی تحریر بھی پسند آئی۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کا انتخاب ’’آسیہ‘‘ اختتام کو پہنچا، بہترین افسانہ تھا۔

شائستہ اظہر سے دیگر سلسلوں کے لیے بھی کبھی کبھار لکھنے کی درخواست کریں۔ قرات نقوی کی ای میل حسبِ روایت منفرد انداز لیے شاملِ اشاعت ہوئی۔ دیگر تحاریر میں سیّد ثقلین علی کی ’’لالچ، ہوس نے انسان سے جانور بنا دیا‘‘ خصوصی توجّہ کی حامل ٹھہری۔ ایک رُوح فرسا واقعے کی بڑی درد مندی سے منظر کشی کی گئی۔ جہاں تک’’سنڈے میگزین‘‘ کے معیار کی بات ہے، میرے نزدیک یہ پاکستان کے معیاری جریدوں میں سرِفہرست ہے۔

اگلے شمارے کی بات ’’آپ کا صفحہ‘‘ سے شروع کرتے ہیں، جس میں ونر ٹھہرے، رانا محمد شاہد، لیکن ہمارے خیال میں اس اعزاز کی اصل حق دار ایمن علی منصور تھیں۔ اس شمارے میں شائستہ اظہر نے انسانی مزاج اورموسموں کی مناسبت سے بہترین تحریر قلم بند کی۔

عرفان جاوید کے منتخب کردہ افسانے ’’بے دیارم‘‘ کی پہلی قسط تو بہت ہی دل چسپ اور بہترین تھی۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ کے آغاز پر بےحد خوشی ہوئی کہ اس کے طفیل ہم مثالی انسانوں سےمتعارف ہوسکیں گے۔ انور مسعود کی شخصیت پر لکھی تحریر کا تو کوئی مول ہی نہ تھا۔ سانحۂ گل پلازا سے متعلق منور راجپوت کی رپورٹ نے تورُلا ہی دیا۔

اللہ پاک مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ اور لواحقین کو صبرِجمیل دے۔ تیسرا شمارہ ’’وہ جس کے سامنے ہر روز پھیکی دھوپ رہے…‘‘ عبارت کے ساتھ آیا۔ سرِورق سے سینٹر اسپریڈ تک جلوہ افروز ماڈل کے حسین سراپے پر رنگین پیراہن دل کشی کی بہار دِکھا رہے تھے۔ ویسے اتنی اسمارٹ جٹّی ہم نے تو پہلی بار ہی دیکھی، شاید خوراک میں دودھ، مکھن، لسی کے بجائے بسکٹ، چپس وغیرہ لیتی ہوگی، خیر،جریدے کو رونق بخشنے کا ازحد شکریہ۔

تحریر شائستہ اظہر صدیقی کی تھی اور موضوع حُسن و خُوب صُورتی۔ احمد فراز کی شاعری کا انتخاب بھی خُوب کیا گیا۔ افشاں نوید ’’اعجازِ قرآن مجید‘‘ کے حوالے سے بہترین تحریر لائیں، دیگر تحریروں میں ’’افتخارِ ادب، افتخار عارف‘‘ اور’’جاہلانہ قبائلی رسومات اور لاچار عورت‘‘ شان دار تھیں۔

نیز، ثروت اقبال، مبین مزرا کی نگارشات کا بھی جواب نہ تھا، ثانیہ انور کی کوئی تحریر کیوں شامل نہیں ہورہی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی محفل بھی خُوب سجی ہوئی تھی اور چاند، ستارے جگمگ جگمگ کررہے تھے۔ خاک سار کا نامہ شامل کرنے کا شکریہ۔ (محمد صفدر خان ساغر، نزد مکّی مسجد، راہوالی، گوجرانوالہ)

ج: آپ اور ہدایات کا احترام کریں؟ ویسے تو کوئی خاص توقع تھی بھی نہیں، لیکن آپ کے تین خطوط خاص طور پر یک جا کیے ہیں کہ دیکھ کے شاید تھوڑی بہت شرمندگی ہو اور قارئین کو بھی اندازہ ہوسکے کہ ؎ یوں ہی نہیں آئی میرے لہجے میں یہ تلخی۔ چشمِ بددُور، جب قارئین میں خادم ملک اور صفدر خان ساغر جیسے’’نابغۂ روزگار‘‘ شامل ہوں، تو ایڈیٹر کا اتنا خون بنتا نہیں، جتنا جل جاتا ہے۔

علم و ادب کا کارواں رواں دواں

سنڈے میگزین اعلیٰ معیار کا حامل، ایک منفرد رسالہ ہے، جس کے کم صفحات میں بھی ایک جہاں سمویا ملتا ہے۔ صفحۂ اول ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ تا آخری صفحہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ ہر ہر سطر سے سیکھتے، شعور و آگہی حاصل کرتےہیں اورہرہفتے مطالعے کے بعد دل سے دُعا نکلتی ہے کہ علم و ادب کا یہ کارواں یوں ہی رواں دواں رہے۔ (شری مرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور)

طنز و تشنیع کے تیر

شمارہ موصول ہوا، سرِورق سے صُبح کی دھوپ تاپتے مفتی خالد محمود کی مجلس میں پہنچے تو وہ ’’رمضان کس طرح گزاریں‘‘ کے موضوع پر درس دے رہے تھے۔ مستفید ہوکر ڈاکٹر محمد ریاض علیمی کے ساتھ استقبالِ رمضان میں شریک ہوگئے۔ رانا اعجاز حسین چوہان بھی ماہِ صیام کی رحمتوں، برکتوں کا خزینہ لُٹارہے تھے، تو منیر احمد خلیلی صومالیہ کی تاریخ، اسرائیلی آکٹوپس کی گھناؤنی سازشوں سے آگاہ کرتے نظر آئے۔

وارث خان نے مُلکی بحران کا حل اسلامی شورائت کے نظام کو قرار دیا۔ ویسے افسوس ناک امر ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کردہ مُلک میں 78 سال سے اِس نظام کا تعین نہیں ہوسکا۔ سیدھا سادہ معاملہ ہے، قرآن و سنّت کا طریقہ نافذ ہونا چاہیے۔ منور مرزا ایران کی بدلتی صورتِ حال پر تبصرہ کناں تھے۔ ٹرمپ تو جیسے چوہے، بلی کا کھیل، کھیل رہے ہیں، مگر ایرانی قیادت کو بھی عوام کی حالتِ زار پر غور کرنا چاہیے۔ ہمارے اپنے مسائل کچھ کم پیچیدہ نہیں، ہم دنیا کے بکھیڑے کیوں کر سمیٹیں گے۔

رحمان فارس نے مستنصر حسین تارڑ کی ہمہ جہت شخصیت پر شان دار خاکہ نگاری کی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں ثانیہ انور نے اچھا رائٹ اَپ تحریر کیا، اشعار کا تڑکا بھی خُوب ہی تھا۔ ڈاکٹر نور الفاطمہ بچّوں کے دانتوں کی صحت، دیکھ بھال سے متعلق مفید مشورے دے رہی تھیں۔ منور راجپوت نے بھی نئی کتابوں پر ماہرانہ تبصرہ کیا۔ بلقیس متین نیک نیّتی اور ارسلان اللہ خان مثبت سوچ پر اچھی تحاریر لائے۔ عرفان جاوید نے مبین مرزا کے ناول ’’بےدیارم‘‘ کی تیسری قسط پیش کی۔

’’ڈائجسٹ‘‘ نہایت عُمدگی سے مرتب کیا گیا اور ’’متفرق‘‘ کا صفحہ بھی۔ اور اب ہم اپنے صفحے پر آ پہنچے ہیں، جہاں لگ بھگ نصف صفحہ تو اعزازی چٹھی لےگئی اور ونر تھیں، شائستہ اظہر صدیقی، تحریر ٹھیک سہی، لیکن مندرجات پر تبصرہ نہ ہونے ہی کے برابر تھا۔ خاص طور پرہمیں ہدفِ تنقید بناکر طنزوتشنیع کے تیر ہی برساتی رہیں، جو ہمارے خیال میں قطعاً مناسب بات نہیں تھی اور یہ آپ کے میرٹ پر بھی ایک سوایہ نشان ہے۔ (شہزاد بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)

ج: ایسا بھی کیا ہی کہہ دیا شائستہ نے؟ کہ وہ بچّی تو صرف نام کی نہیں، مجسّم شائستہ ہے، اِسی خیال سے جریدہ نکال کے دوبارہ اُس کی چٹھی پڑھی اوربخدا ہرگزایسی کوئی بات محسوس نہ ہوئی، اُس نے تو انتہائی تہذیب و شائستگی سے آپ کی کسی تنقید کا جواب دیا تھا اور مندرجات پر بات بھی کی گئی۔

مندرجات پر بات کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ ایک ایک سلسلے کا نام لےکر ہمیں ہی بتایا جائے کہ ہم نے فلاں جریدے میں کیا کیا شائع کیا، جب کہ ہم نے اُن مضامین کی سطریں، الفاظ تک حفظ کر رکھے ہوتے ہیں۔ مندرجات پر رائے زنی، تبصرہ آرائی کا مطلب اپنے خُوب صُورت الفاظ میں منفرد انداز سے قلم آرائی ہی ہوتاہے اوراِس فن پرجیسا ملکہ محمّد سلیم راجا اور شائستہ اظہر صدیقی کو حاصل ہے، کم ہی لوگوں کو حاصل ہوگا۔

              فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

ہلکے گلابی رنگ کا فَر کا سوئیٹرگویا یخ بستہ سردی کا استعارہ تھا، مگر نازنینِ سرورق کہ ؎ جس کے سامنے ہر روز پھیکی دھوپ رہے… کا دعویٰ تھا، معاملہ الٹ ہوگیا، یعنی دھوپ کے بجائے سردی پھیکی پڑ گئی۔ خیر، پھیکی صُبحِ اتوار کو مہکے صفحۂ اسلامی پر ’’اعجازِقرآن مجید‘‘ سے شیریں و تازہ کیا۔ سورۃ الرعد کی آیت نمبر11 سے فلسفۂ تبدیلی جانا۔ انقلاب باہر سے نہیں، لفظ کے ذریعے اندر سے شروع ہوتا ہے۔

’’اندر کی باتیں‘‘ بتانے میں ملکہ رکھنے والے تاریخِ اسلامی کےاسکالر، خلیلی صاحب کا ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ کے توسّط سے قارئینِ رسالہ کو ’’لعلِ یمن‘‘ کا گفٹ سُپرہٹ ٹھہرا۔ مطلب، یمن کو’’عربوں کی نانی‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ کہنے کو تو ہمارے سوشل رائٹر، رؤف ظفر دوا سازوں سے متعلق بہت کچھ کہہ گئے، بس عقلِ سلیم کا اس پر ذرا سا حاشیہ ہے کہ مریضوں کےپیٹ میں زہربھر کرعیش کا شہد کشید کیا جارہا ہے اور عیش کے خواب دیکھنے والے لالچی شوہروں کی ہوسِ جہیز کو ’’سنڈے اسپیشل‘‘ پر ونڈر فُلی ہائی لائٹ کیا گیا۔

نیز، حاصلِ کلام تو سو کروڑ کا ٹھہرا کہ ’’مرد کی عزت و وقار کا یہی تقاضا ہے کہ وہ صرف اپنی کمائی پر بھروسا کرے‘‘۔ ’’نہ چُھڑا سکوگے دامن‘‘ کا نعرۂ ناحق مارنے والے گداگروں کی فوجِ شٹر توڑ کا بھانڈا رستم خان نےخُوب پھوڑا۔ اورخُوب باتیں کہنے والے منور بھیا نے بھی اس ہفتے کی سیاسی ٹپ بخوبی دی، یعنی کہ ’’وڈیاں نال یاری، جیباں کرو بھاری‘‘۔ بھاری بھرکم حلقۂ احباب رکھنے والے افتخارِادب، افتخار عارف کا شخصی خاکہ لکھنا رحمان فارس کے لیے باعثِ افتخار ٹھہرا، تو اسٹائل کو ریڈور کی ویکلی ڈریس پریڈ کی رپورٹنگ شائستہ صدیقی واسطے سرمایۂ افتخار۔

یہ بھی مدیرہ صاحبہ کے قلمِ پارس کا طلسم ہے کہ ’’ہائیڈ پارک‘‘ کے کئی ہِڈن ہارس، ڈربی کوئین/ ماسٹر بن گئے۔ بات تو ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹرصاحب نے بھی اچھی کی۔ (سال گزشتہ کے مقابلے میں پاکستان میں پولیو کیسزمیں کمی واقع ہوئی ہے) مگر ابھی بھی بات ہے رسوائی کی (کہ وطن عزیز ابھی تک ’’پولیو فِری‘‘ نہیں ہو سکا) ؎ ہوسکے تو میرا ایک کام کرو… شام کا اِک پہر میرے نام کرو۔ یہ گزارش ’’پیارا گھر‘‘ میں ’’ہنر آموزی‘‘ کے حوالے سے اسکرین اسکرولرز سےکی گئی۔ اگلےصفحے پر افسانوی اسکرین میں پُروقارمردِ جہاں دیدہ کو معمّر افراد سے مخاطب پایا۔

’’بڑھاپا اپنے بچّوں اور مانوس شہر کے سوا کہیں نہیں گزارا جاسکتا۔‘‘ واقعی، اہلِ دانش نے دھوپ میں بال سفید نہیں کیے۔ رہےنام اللہ کا! اللہ کی ودیعت ’’محبت‘‘ کا نغمہ گاتے ودوان اختر سعیدی کو دیکھ کرراجا جانی بھی حُسن کی دیوی سے مغلوب ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔؎ اے پیار تیری پہلی نظر کو سلام… سلامِ شوق کے بعد ’’نئی کتابیں‘‘ پیشِ نظر تھیں۔ ’’فسانۂ دل، بڑا مختصر‘‘ نظر نواز ہوا تو ملکۂ ترنم کی یاد بےساختہ آگئی؎ دل کےافسانےنگاہوں کی زباں تک پہنچے۔ اور پہنچ تو ہم بھی آخربتوسطِ پیام بر، صفحۂ دل بر پرگئے۔

جہاں رانا شاہد خشک سردی پر حیراں (؎ کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں) اور شری مُرلی میڈیا مندی پر پریشاں (؎ اس شہرِ خرابی میں، غمِ عشق کےمارے) اور جوابِ مدیرہ، خُوب (؎ زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے) نقش بندی نے بندے کو یاد کیا، شکریہ! ’’آپ کا صفحہ‘‘ کا حُسن، یہی اختلافِ طباع و رائے ہے اور یہ پُرخلوص اختلاطِ احباب، حُسنِ کرشمہ ساز کے رہینِ منّت ہے۔ فی زمانہ اہل ہُنر کو فکرِ معاش ہے اور اہلِ قلم کو فکرِ سخن تو اہل اللہ کو فکرِ فردا کہ ’’فضلِ مولیٰ از ہَمہ اَولیٰ‘‘ (اللہ کا کرم ہر چیز سے بہتر ہے)۔ (محمّد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)

ج: سچ تو یہ ہے کہ آپ کی یہ اعلیٰ پائے کی خطوط نگاری کسی بڑے اعزاز و اکرام کی حق دار ہے، لیکن ہم غریب پرنٹ میڈیا والوں کے پاس یہ ’’اس ہفتے کی چِٹھی‘‘ ہی کی مسند ہے۔ سو، بس اِسی سے نوازے جاتے ہیں۔

گوشہ برقی خطوط

* منور مرزا کے مضمون کی آخری سطر قابلِ غور تھی۔ ’’افغانستان تو پہل کرچُکا کہ ایک ’’جہادی حکومت‘‘ کے باوجود ہندو توا کی حامی حکومت سے گلے مل رہا ہے۔‘‘ پاکستان دشمنی میں طالبان نے اُن لوگوں سے اتحاد کیا، جو اب تک مسلمانوں کے لاتعداد دینی ادارے تباہ کرچُکے اور بھارت میں مسلم اقلیت ختم کرنے کے درپے رہتے ہیں۔

یہ وہی طالبان ہیں، جنہوں نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بامیان میں یہ فتویٰ دے کر بُتوں کو بم سے اُڑا دیا تھا کہ بُت پرستی اسلام میں حرام ہے۔ مگر آج پاکستان دشمنی میں انہی بُت پرستوں کو گلےلگارہےہیں۔ بلاشبہ،’’تاریخی طورپرافغان قوم کا ریکارڈ وفاداری اور دوستی نبھانے میں بہت کم زور ہے۔‘‘ افغانوں کی پاکستان دشمنی اُس وقت سے چلی آرہی ہے، جب پاکستان وجود میں بھی نہیں آیا تھا۔

مومن ایک سوراخ سے دو بار ڈسا نہیں جاتا، مگر پاکستانی قوم کوان کے ہاتھوں شدید جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد بھی عقل نہیں آئی۔ پاکستان میں ہزاروں لوگ ایسی جماعتوں سے وابستہ ہیں، جنہوں نے ہمیشہ طالبان کو سپورٹ کیا، یہاں تک کہ جب بھی ریاست نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف کوئی فوجی ایکشن لیا تویہ جماعتیں اُن کی حمایت میں نکل آئیں۔اِسی طرح ایسےنام نہاد لکھاریوں، دانش وَروں کی بھی کمی نہیں، جن کی دلی ہم دردیاں آج بھی اِن احسان فراموشوں کے ساتھ ہیں۔ (محمّد کاشف، کراچی)

٭ آپ اور آپ کی پوری ٹیم کیسی ہے؟ اُمید ہے، بخیریت ہوگی۔ سنڈے میگزین میں اپنا لکھا افسانہ ’’شمعِ توکّل‘‘ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ شکریہ کے ساتھ ایک بات بھی پوچھنی تھی کہ مَیں نے بذریعہ ای میل ایک قسط وار کہانی ’’افسانہ مگر سچا‘‘ بھی بھیجی تھی۔ کیا اُس کے قابلِ اشاعت یا ناقابلِ اشاعت ہونے سے متعلق کچھ بتائیں گی؟ ( آسیہ پری وش، حیدرآباد)

ج: غالباً ناقابلِ اشاعت کی فہرست میں نام شامل ہوچُکا ہے۔ یوں بھی ہم صفحات کی کمی کے سبب فی الوقت کوئی بھی نیا سلسلہ شروع کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہیں ہیں۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید