• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: ذوالفقار احمد چیمہ

صفحات: 280، قیمت: 1400روپے

ناشر: سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور۔

بلاشبہ ذوالفقار احمد چیمہ پاکستان پولیس سروس کے’’رول ماڈل‘‘ ہیں، لیکن اُن کے اندازِ تحریر اور طرزِ احساس نے ہم جیسے ہزاروں قارئین کو اپنا گرویدہ کر رکھا ہے۔ اُن کی کوئی کتاب ایسی نہیں، جس سے سَرسَری طور پر گزرا جاسکے، جب کہ زیرِ نظر کتاب تو اُن کی زندگی کا’’سرنامہ‘‘ ہے۔ چیمہ صاحب کی بہادری، فرض شناسی اور دیانت داری لائقِ تحسین ہی نہیں، قابلِ تقلید بھی ہے۔ اُن کی اِن صفات کا عکس اُن کی تحریروں میں بھی نمایاں ہے۔

زیرِ نظر کتاب میں اُن کے 42مضامین شامل ہیں اور یوں تو اُن کے تمام مضامین ہی موضوعات کے اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں، لیکن ہم اُن کے اُس مضمون کو’’حاصلِ مطالعہ‘‘ قرار دیں گے، جو اُنہوں نے اپنی والدۂ محترمہ کے لیے’’اب دعائے نیم شب میں، کس کو مَیں یاد آئوں گا‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ جب ہم نے اُن کا یہ مضمون پڑھا، تو دیر تک اِس کے حصار سے نہیں نکل سکے۔ اندازِ تحریر کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن دل کی آواز، آوازِ خلق بن جاتی ہے۔

ہم اُس ماں کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جس نے ذوالفقار احمد چیمہ جیسے روشن چراغ کو جنم دیا۔ اِسی سے پتا چلتا ہے کہ ماں کی تربیت انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ ان کے ایک بھائی، بیرسٹر اور ایک بھائی ڈاکٹر ہیں، اُن کی داستانِ حیات بھی متاثرکُن ہیں۔ بعض محکمے ایسے ہیں، جن سے وابستہ افراد کو عموماً اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور محکمۂ پولیس سے متعلق تو بہت ہی کم لوگوں کی مثبت رائے ہوگی، لیکن اگر ذوالفقار احمد چیمہ جیسے لوگ کسی محکمے کو میسّر آجائیں، تو اُس کی تاریخ بدل جاتی ہے۔

ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے، جو عملی زندگی میں بدتہذیبی اور بددیانتی کے مرتکب رہے، لیکن جب اُن کی کتاب آئی، تو مبصّرین نے اُن کی وہ، وہ خُوبیاں بھی بیان کیں، جن سے وہ خُود بھی نابلد تھے، تاہم، چیمہ صاحب کا ظاہر و باطن ایک ہے، اِسی لیے تو اُن کی کتاب، اُن کی زندگی کا آئینہ دِکھائی دیتی ہے۔

ایسی کتاب وہی لکھ سکتا ہے، جس کی زندگی بے داغ، کردار مثالی ہی نہیں، وہ دیانت داری کا بھی خوگر ہو۔ بلاشبہ، اِس کتاب کے مطالعے سے چیمہ صاحب کی زندگی کے کئی اہم پہلو سامنے آئیں گے۔