رقصِ ایاغ کی دل کشی میں گُم سماں رات کی پازیب پہن چُکا تھا۔ پُراسرار تاریکی شبِ یلدا کے ساگر میں خاموشی کا جال پھینک چُکی تھی، مگر ماہتاب ابھی عدم کے حجاب میں تھا۔معصوم بچّوں کی روشن آنکھوں کی طرح آسمان پر شوخ تارے چمک رہے تھے اور آبادی سے دُور کُتّے بھونک رہےتھے۔
ہرجن وانس اپنا اپنا کام کررہا تھا، لیکن اُس اُداس اجنبی کےدل میں جانے کون سی خلش تھی، جو نگر نگر قبروں کے کتبے پڑھتا رہتا تھا، شاید وہ جان گیا تھا، زندگی اتنی بھی ضروری نہیں کہ اُس کے لیے محبّت ہار دی جائے۔ آبادی سے دُور، سنسان ریلوے اسٹیشن پر آخری گاڑی کے چلے جانے کے بعد جیسا سناٹا تھا۔
فضا میں گھرسے جوان میّت اُٹھنےکےبعد کی ویرانی جیسی خاموشی تھی۔ گورکن ہاتھ میں لاٹھی لیے قبروں پر آخری نظر ڈال کر واپس پلٹ چُکا تھا۔ وہ جانتا تھا، یہ دنیا سانپوں کامسکن ہے، یہاں ہروقت عصا اورتریاق ساتھ رکھنا پڑتا ہے۔ اُس کے گھر پھولوں کے بہت سے پودے تھے۔ اُسے یہ بھی معلوم تھا کہ جب پھول منہگے ہوجائیں تو پرانی قبریں اُداس کی چادر اوڑھ لیتی ہیں۔
جیسے جیسے قبرستان پھیلتا جا رہا تھا، وہ ادھورا ہوتا جارہا تھا۔ گورکن سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ موت کی سب سے بڑی وجہ بھی ہجر کے علاوہ ادھورا پن ہے۔ لیکن اُس کا دادا نہ جانے کیوں کہتا تھا۔ ’’وجہ تو زندگی کی ہوتی ہے،موت کی نہیں۔ تعلق، رابطہ اور وقت تینوں گہرے دوست ہیں۔
ان میں سے ایک کی موت، سب کی موت ہے اور مفاد کا قیدی تعلق کے لمس کی خوشبو سے بھی محروم رہتا ہے۔ لوگ اپنے پیاروں کو تہہِ خاک چھوڑ کرشکستہ، زخمی دلوں کے ساتھ پلٹ جاتے ہیں اور پھر مزید ادھورے ہوجاتے ہیں اور یہ ادھورے لوگ اُن خطوں کی طرح ہوتے ہیں، جو ڈاکیے سےگم ہوکے بن پڑھے رہ جاتے ہیں۔
ادھوری بات اورمکمل خواب ادھوری کہانیوں کو جنم دیتے ہیں اور یہ ادھورے لوگ مکمل شخصیت کے باوجود بھی کتنے بےبس، لاچار ہوتے ہیں۔ اپنے محبوب سےاُس کے محبوب کی باتیں سنتے ہیں اور یہ عمل انتہائی اذیت ناک ہوتا ہے۔ ہر دَور کا انسان داستانوں، کہانیوں کے کیف میں سرشار رہا ہے۔ وہ کہانیوں میں رہنے کے لیے محبّت کرتا ہے، مگر مرضی کی محبّت ہمیشہ بے ذائقہ، بے کیف ہوتی ہے۔ محبّت کا زیور تو بےخودی،بے اختیاری ہی ہے۔‘‘
سورج کی پہلی کرن دھرتی سے ہم آغوش ہوچُکی تھی اور جاڑے کےسورج کی پہلی کرن، گویا زمیں کے باسیوں کے لیے فطرت کی محبّت کا اظہار ہے۔ لوگوں کی آمد آہستہ آہستہ شروع ہو چُکی تھی۔ پارک میں پیلے گلابوں کے پودے یوں لگ رہے تھے، جیسے کسی نے سبز آنچل پر زرد رنگ کشیدہ کاری کردی ہو۔ وہ رات ہی سے پارک میں بیٹھا ہوا تھا اورخُود کو گرم موٹی چادر سے لپیٹ رکھا تھا۔’’کیا مَیں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟‘‘ اُس نے سر اُٹھا کر دیکھا۔
وہ انتہائی خُوب صُورت اور باوقار سی تھی۔ ’’جی، پلیز…‘‘ اُس نے خاصی ملائمت سے کہا تھا۔ ’’مَیں آپ کوکافی عرصے سے جانتی ہوں فکرال صاحب! آپ بہت اچھا لکھتے ہیں۔ مَیں آپ کی دانش کی مداح ہوں اور یہ بڑے دُکھ کی بات ہے کہ فکرِمعاش کسی ادیب کی صلاحیتیں کھا جائے۔ ادیب اور سائنس دان قوم کے محسن ہوتے ہیں، مگر ہمارے مُلک میں دونوں ہی کو اُن کا صحیح مقام نہیں ملا۔‘‘ وہ مسکرایا۔ ’’یہاں حق ملا ہی کس کو ہے؟
گناہوں کی سیاہی قلب سیاہ کر دیتی ہے اور جب دل کالا ہوجائے، توخون سفید ہوجاتے ہیں۔ اِس کباڑ معاشرے میں علم و الفاظ کا زیور بھی ردی ہے۔ جب قوم اپنے ’’منٹو‘‘ کی عزت نہیں کرتی، تودِلوں میں ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ جتناقبرستان آباد ہو جاتا ہے۔
یہاں توموت کو بھی رشتوں سے گھن آنے لگی، کفن سسکنے لگے ہیں اور مُردہ قوموں کے لوگ اتنے خود غرض، بے حس ہوتے ہیں کہ غزہ کی قیامت میں،جب لوگوں کو اپنی بہنوں، بیٹیوں کی بانہیں نہیں مل رہی ہوتیں، یہ اپنی محبوباؤں کے لیے چوڑیاں خرید رہے ہوتے ہیں۔‘‘ ’’میرا نام ڈاکٹر فائزہ ہے۔
آپ صحیح کہہ رہے ہیں، فکرال صاحب، مگر ہمارے خاندان نے دس پشتوں سے دولت و اقتدار میں کھیلنے کے باوجود کبھی شرافت کا دامن نہیں چھوڑا۔‘‘وہ بہت متانت سے اپنا اور خاندان کا تعارف کروا رہی تھی۔ ’’مَیں آپ اور آپ کے خاندان کو جانتا ہوں اور آپ لوگوں میں موجود خوفِ خدا کے وصف ہی کے سبب لوگ آپ کوعزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اللہ والوں کوچھوڑ کر دولت اور طاقت کو صرف ساتویں نسل ہی ہضم کر سکتی ہے۔ ادب نے آپ کی تربیت کی، تب ہی آپ کو زندگی اور موت کا سلیقہ آ گیا ہے۔‘‘ ’’زندگی اورموت کا سلیقہ؟‘‘ وہ حیرانی سے فکرال کی طرف دیکھ رہی تھی۔‘‘ ’’جی! زندگی گزارنے کا سلیقہ یہ ہے کہ ہر لمحہ موت کو یاد رکھیں اور موت کا سلیقہ یہ کہ زندگی میں دوسروں کے ساتھ ایسا رویہ رکھا جائے کہ سانس کی ڈور کٹ جانے کے بعد بھی کسی کی آنکھ خشک نہ رہے۔‘‘ ’’واہ!!‘‘بےاختیار ہی اُس کے ہونٹوں سے نکلا۔
’’ہم بہت عجیب معاشرے میں رہتے ہیں۔ یہاں ہر شخص اپنی دستار اور سربچانے کی فکر میں ہے، مگر خال ہی کوئی بیک وقت دونوں کو بچا پاتا ہے۔ ہر آدمی کو خُوب صُورت ہونا چاہیے، اندر سے اور باہر سے بھی۔ ادیب حُسن پرست ہوتا ہے، کیوں کہ ادب حُسن کا انکشاف کرتا ہے۔
اللہ خُوب صُورت ہے اور خُوب صُورتی پسند فرماتا ہے۔ وہ چاہتا ہے، اُس کا نائب بھی خُوب صُورت ہو۔ جہاں رہے، اُس جگہ کو جنّت بنائے۔ اُسے زمین پر بھیجنے سے پہلے اُس نے جنّت میں رکھا تاکہ خُوب صُورتی کا عادی ہو، مگر یہ نادان بدصُورت شیطان کے بہکاوے میں آ کر بارود ایجاد کر بیٹھا ہے۔
حسین پرندوں، تتلیوں، جگنوؤں سے بَھرے باغات کو بارود سے سیاہ کررہا ہے۔ گناہ کیا ہے، بدصُورتی ہے۔ نیکی حُسن ہے۔ ادیب، دانش وَر کی بات سمجھنے کے لیے جوہری، باغ بان بننا پڑتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے بھوک کےخوف نے سرمایہ دارانہ نظام کو جنم دیا اور زر، بارود کی بُو نے انسان کو کباڑیا بنا دیا۔ اسی لیےمحبت کے سفیروں، ادیبوں، دانش وروں کے الفاظ ردّی ہیں۔
کباڑ معاشرے میں علم کے موتی، جذبات واحساسات کے خزانے سب ردی ہیں۔‘‘وہ بولے جا رہا تھا اور وہ بہت محویت سے اُسے سُن رہی تھی۔ ’’اگرچہ مَیں آج آپ سے پہلی بارملی ہوں، مگر مَیں آپ کو اپنا مرشد مانتی ہوں۔‘‘ ’’یہ بھی آپ کا ظرف ہے، وگرنہ مجھ میں ایسی کوئی بات نہیں۔ ہم تو رب کا لفظوں، خیالات کا دیا ہوا رزق اُس کی مخلوق تک پہنچاتے ہیں۔
لوگ باذوق ہوں، توقاصد کی عزت کرتے ہیں، مگر کچھ نادان الٹا مرشد ہی کانقصان کربیٹھتے ہیں۔‘‘ ’’مَیں سمجھی نہیں۔‘‘ اُس نے اپنا آنچل پھیلاتے ہوئے کہا۔ ’’ہم مرشد کے پاس اپنی ذات کی نفی کے لیے جاتے ہیں۔ مِٹنے، صفر ہو جانےکے لیے اُس کے در پر دستک دیتے ہیں، مگر مرشد سے مِل کے اُس کےنام کے آگے صفر لگانا شروع کردیتے ہیں اور پھر یہ صفر بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ مرشد کو تکبّر میں مبتلا کرکے ہم اُس کا اور اپنا بھی بیڑہ غرق کرلیتے ہیں۔‘‘ ’’آپ نے صحیح کہا۔‘‘ وہ چہرے پرآئے بالوں کو ہٹا کربولی۔ ’’فکرال صاحب! قیمتی کیسے ہوا جاسکتا ہے؟‘‘
وہ پوچھ رہی تھی۔ ’’کھوٹا سکّہ چلا کر۔‘‘’’کھوٹا سکّہ چلا کر؟ مَیں سمجھی نہیں۔‘‘’’ بچپن کی بات ہے، ہمارے گاؤں میں تین دکانیں تھیں۔ اُن میں سے ایک بابا نصیب خان کی تھی۔ ہمیں کہیں سے ایک کھوٹا سکّہ ملا، جس بھی دکان پر دیتے، وہ واپس کردیتا۔ کسی نے بتایا، بابا نصیب کی دکان پر یہ سکّہ چل سکتا ہے۔ ہم بچّے ڈرتے ڈرتے دکان پر پہنچے اور بابا کوسکّہ دےکر بسکٹ مانگے۔ نصیب خان نے ہمارا سکّہ دیکھا، پھر ہماری طرف دیکھ کر زیرِ لب مُسکرایا اور ہمیں بسکٹ دے دیئے۔ ہم خوشی خوشی بسکٹ لے کر دکان سے بھاگے اور گاؤں سے باہرآ کر آپس میں بانٹ کے کھائے۔
جب تھوڑے سے بڑے ہوئے تو معلوم ہوا بابا نصیب کو معلوم ہوتا تھا کہ سکّہ کھوٹا ہے، مگروہ اَن جان بن کر سودا دے دیا کرتا کہ کسی کا دل نہ ٹوٹے۔ جب جوان ہوئے تو نیلی چھتری والے کی توفیق سے مجھ سے ایک ایسی نیکی ہوئی، جس کامیرے اور اللہ کے سوا کوئی گواہ نہیں۔ ایسی نیکیاں ضرور کیا کریں، یہ آدمی کو بہت بلندی پر لےجاتی ہیں، کیوں کہ ایسی نیکی میں رب آپ کی پہلی ترجیح ہوتا ہے، تو پھررب بھی آپ کو مقرّب کر لیتا ہے۔ اُسی نیکی کے بعد مجھ پر میری خامیاں آشکار ہونا شروع ہوئیں۔
جب اپنا نامۂ اعمال دیکھا تو وہ تو کالا سیاہ تھا۔ کوئی لکیر بھی سفید نظر نہیں آئی۔ اُس دن مجھے احساس ہوا کہ مَیں تو ایک کھوٹا سکّہ ہوں۔ اُس رات مَیں بہت رویا۔ خواب میں اپنے گاؤں میں پھرتا رہا۔ مَیں نےخواب میں دیکھا کہ مَیں بابا نصیب کو کھوٹا سکّہ دے رہا ہوں اور وہ زیرِلب مُسکرا کر مجھے بسکٹ دے رہا ہے اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔
مَیں کئی دن بولایا بولایا پھرتا رہا۔ پھر مجھے آگہی عطا ہوئی کہ اب بھی ایک دکان ایسی ہے، جہاں کھوٹا سکّہ چلتا ہے اور پھر ایک رات مَیں نے نم آنکھوں سے اپنے وجود کا کھوٹا سکّہ نیلی چھتری والے کو سونپ دیا، جو تین اندھیروں میں بھی آپ کی سُنتا ہے۔
نیلی چھتری والا مُسکرایا۔ پوچھا، کیا چاہیے؟ مَیں مال و دولت مانگنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ خیال آیا کہ مچھر کے ٹوٹے پر کا مَیں کیا کروں گا، کیوں نہ مالک کے شایانِ شان کچھ مانگا جائے اور پھر مَیں نے رب کو رب سے مانگ لیا۔‘‘ مسلسل بولتے بولتے فکرال کی آواز رندھ گئی تھی۔ وہ کافی دیر تک کچھ نہ بول سکا۔
’’ڈاکٹرصاحبہ! وہ مان جاتا ہے، راضی ہوجاتا ہے، تو دنیا 180 کے زاویے سے بدل جاتی ہے۔ پہلے مَیں سمجھتا تھا، سائل لینے آتا ہے۔ اب معلوم ہوا، سائل تو دینے آتا ہے۔ پہلے مَیں سمجھتا تھا، مہمان کھانے آتا ہے۔ اب معلوم ہوا، وہ تو ہمیں رزق دینے آتا ہے۔ اور ساتھ عُمرکی نقدی بھی بڑھا جاتا ہے، کیوں کہ جتنا وقت آپ مہمان کو دیتے ہیں، عُمر کا عرصہ اُتنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ پہلے مَیں سمجھتا تھا، مسلسل جدوجہد، محنت، عقل سےآپ حصول دنیا میں کام یاب ہوتے ہیں۔
بعد میں پتا چلا، حصولِ دنیا تو ہے ہی ترکِ دنیا میں۔‘‘ وہ بہت گہری فکر میں ڈوبا بولتا گیا۔ ’’مَیں آپ کے پاس اپنا ایک مسئلہ لےکر آئی ہوں۔ سُنا ہے، صحرا نشیں اپنے اندر سمندر ہوتے ہیں۔ مجھے لہروں اوردریا کے بہاؤ کے مخالف چلنا اچھا لگتا ہے۔ شاید میرے اندر کوئی کھوج ہے۔ اصل منبع کہاں ہے؟ جیسا کہ مَیں نے بتایا، دس نسلوں سے دولت اور اقتدار ہمارے گھر کی لونڈی ہے۔ نوکر چاکر ہمارے اشاروں کے منتظر رہتے ہیں۔ بظاہر کوئی غم نہیں، اردگرد خوشیاں ہی خوشیاں ہیں، مگر نہ جانے کیوں، لگتا ہے، کچھ مِسنگ ہے۔
کچھ تو ہے، جو مجھے نظر نہیں آتا، خلا کہاں ہے؟ میری ایک سہیلی ہے، اُس کے پاس کچھ بھی نہیں، اُس کی نسبت بھی ٹوٹ گئی، مگر وہ خوش ہے، اُس کی زندگی میں عجیب سا ٹھہراؤ ہے، ایسا کیوں ہے اور میرے ساتھ ایسا کیا ہے؟؟‘‘ وہ سراپا سوال تھی۔ ’’ڈاکٹر صاحبہ! ہار جانا یقیناً ایک تکلیف دہ امر ہے۔ مات صرف اُس وقت رنجیدہ نہیں کرتی، جب آپ خُود کے ساتھ کھیل رہے ہوں۔ کبھی آپ نےغورسےاپنی سہیلی کو دیکھا ہے۔
اُس نے ہارے ہوئے عشق کی رَدا اوڑھ رکھی ہے اور جو بھی ہارے ہوئے عشق کی اوڑھنی اوڑھ لیتا ہے، وقت کا بلیک ہول اُسے نگل نہیں سکتا۔ کبھی آپ نے سوچا ہے،خوشیوں کا بھی تو کوئی دُکھ ہوتا ہوگا؟‘‘ ’’خوشیوں کا دُکھ؟؟ وہ حیرانی سی بڑبڑائی۔ ’’ہاں! خوشیوں کا دُکھ، ڈاکٹر صاحبہ! خوشیوں کا دُکھ ادھورا رہ جانا ہوتا ہے۔‘‘ ’’مَیں سمجھی نہیں۔‘‘ ’’خوشیاں دو طریقوں سے ادھوری رہ جاتی ہیں۔ اول، جب آپ مصنوعی، غیر فطری چیزوں سے خوشی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بےجان چیزوں میں روح نہیں ہوتی اور خوشی تو دو رُوحوں کے وصال کا نام ہے۔ اور دوم، جب آپ خوشی تقسیم نہیں کرتے، تو وہ ادھوری رہ جاتی ہے۔‘‘
فکرال نے اُسے پارک سے باہرجاتے دیکھا۔ اُس کا پرس خالی ہو چُکا تھا اور فقیر کا کشکول بھرا ہواتھا۔ شاید خوشی مکمل ہورہی تھی۔