مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
میرے والد سفیر گلشن آبادی کا اصل نام عظمت اللہ خان اور سفیر تخلّص تھا۔ وہ15جنوری 1915ء کو بھارت کے صوبے مدھیہ پردیش کے شہر گلشن آباد، جاورہ میں پیدا ہوئے۔ ریاست جاورہ ایک نواب اسٹیٹ تھی، جس کے بانی، نواب افتخار علی تھے۔ ہمارے دادا، احسان اللہ خان حافظِ قرآن، عالم اور معروف طبیب تھے، جن کی علمی بصیرت، شخصیت اور شعبہ طب میں مہارت کے ریاست جاورہ کے لوگ معترف تھے۔
اس چھوٹی سی ریاست میں بے شمار علماء حفاظ شعراء، ادباء اور دانش وَر پیدا ہوئے۔ میرے والد نے اپنے والد، یعنی ہمارے دادا، حافظ احسان اللہ سے گھر ہی پر تعلیم حاصل کی۔ دادا انھیں حضرت شیخ سعدی کی کتاب’’ گلستان بوستان‘‘ بھی پڑھایا کرتے تھے۔ہمارے دادا کا شمار اُس وقت کے نام وَر اساتذہ میں ہوتا تھا۔ میرے والد نے فارسی، اردو اور عربی میں مہارت اُن ہی سے حاصل کی، وہ باقاعدہ کسی مدرسے یا اسکول نہیں گئے۔
پھر انھوں نے پندرہ سولہ برس کی عُمر ہی سے شعر کہنا شروع کردیئے۔ دوست احباب نے بھی اس صنفِ سخن میں روانی دیکھ کر اُنہیں اپنی خداداد صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کا مشورہ دیا، چناں چہ مشقِ سخن مسلسل جاری رکھی اور بالآخر باقاعدہ شعرو شاعری کا آغاز کردیا۔ ویسے اُن کی شاعری کے محرکات میں گلشن آباد کی علمی وادبی و فضا کا بھی خاصا دخل ہے، جس نے اُن کے شعری ذوق کو اُبھارا۔
اُس وقت ہندوستان میں بڑے بڑے اساتذئہ فن موجود تھے، خاص طور پر اختر شیرانی اور بسمل سعیدی جدید رنگ کے علَم بردار سمجھے جاتے تھے، تو اس ماحول میں والد کی شاعری کی تربیت خاصے بہتر انداز میں ہوئی۔ اُنہوں نے شعری مشق کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی استعداد کے فروغ کے لیے فارسی، عربی اور اُردو لٹریچر کا مطالعہ بھی جاری رکھا۔ نیز، بلند پایہ شعراء کی صحبت اور کُل ہند مشاعروں میں شرکت سے بھی کلام میں مزید پختگی آئی۔
قیامِ پاکستان کے بعد 6اگست 1951ء کو بھارت سے پاکستان ہجرت کرکے ٹنڈو آدم، سندھ آگئے اوروہاں کی معروف درس گاہ جامعہ ملیہ ہائی اسکول میں فارسی کے استاد اور منشی کے طور پرخدمات انجام دینے لگے۔ ساتھ ہی ٹنڈوآدم کی شعری و ادبی محافل میں زود گو، بسیار گو اور قادر الکلام شعراء میں شمار کیے جانے لگے۔
وہ اگرچہ نظم و نثردونوں میں یک ساں مہارت رکھتے تھے، تاہم، ان کا ذوق و شغل شاعری ہی تھا، جس میں خوب شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ انھوں نے شاعری کی تقریباً تمام اصناف پر طبع آزمائی کی، لیکن ایک بڑا کارنامہ یہ تھاکہ اشعار کو واحد جمع کی صُورت بھی لکھا۔
بحیثیت انسان میرے والد وضع داری، عجز و انکساری کا پیکر تھے، پوری زندگی بہت سادگی، شرافت کے ساتھ فروغِ علم اور اردو ادب کی خدمت میں وقف کردی۔ اخلاق کی دولت سے مالا مال تھے، مگر خود نمائی اور خودستائی کا مادہ ذرّہ بھر نہ تھا۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند، نرم گفتار اور عزم و ہمّت کے پیکر ہونے کے ساتھ حلقہ احباب بھی وسیع رکھتے تھے۔ نوجوانوں اور نو وارد شعراء کی انتہائی شفقت و محبّت کے ساتھ حوصلہ افزائی کرتے۔
ٹنڈو آدم اور ضلع سانگھڑ کے بیش تر شعراء شاعری میں اُن ہی سے اصلاح لیتے۔ مہمانوں کو اللہ کی رحمت سمجھتے اور اُن کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے۔ جب بھی کوئی ملنے آتا، جو کچھ ہوتا، پیش کردیتے، یہاں تک کہ کسی تکلیف میں مبتلا ہوںے کے باوجود مہمان سے ایسی محبّت و شفقت سے ملتے کہ آنے والے کو احساس تک نہ ہوتا۔ ایسے میں اگر کوئی کہہ دیتا کہ آپ کو بے وقت زحمت دی، تو کہتے؎ ہر کہ مہماں را بروئے تازہ دید .....از خدا الطاف بے اندازہ دید۔(جس نے مہمان کا خوش دلی سے استقبال کیا، اس پر اللہ کی بے شمار رحمتیں، مہربانیاں نازل ہوئیں)۔
اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں اُس دَور کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مولانا کوثر نیازی نے اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے پانچ سو روپے ماہانہ وظیفہ جاری کروایا، جو تادمِ مرگ انہیں ملتا رہا۔ اُن کا انتقال 3جون 1984ء کو ٹنڈو آدم میں ہوا۔ اور ٹنڈو آدم کے جمّن شاہ قبرستان میں اُن کی قبر کے کتبے پر یہ شعر درج ہے ؎ مَیں گناہ گار، حقیر ہوں، مَیں سیاہ کار سفیر ہوں .....میری ہر خطا کو تُو بخش دے، تُو بڑا غفور الرّحیم ہے۔ (پروفیسر برکت اللہ خان، شاہ فیصل کالونی، کراچی)